سٹیل پائپ لائن کی برآمد پر سیلز ٹیکس عائد نہ کیا جائے: سابق چیئرمین پسپا محمد ہاشم

سٹیل پائپ لائن کی برآمد پر سیلز ٹیکس عائد نہ کیا جائے: سابق چیئرمین پسپا محمد ...

  

لاہور(کامرس رپورٹر)وزارت تجارت کے پچھلے سال دسمبر میں دئیے گئے ہدایت نامہ کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) افعانستان اور ساوتھ ایشین ریجن (سار) کو سٹیل پائپ لائن برآمد کرنے پر سیلز ٹیکس لگانے پر بضد ہے۔ جس کی وجہ سے محمد ہاشم سابقہ چیرمین پاکستان سٹیل لائن پائپ مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن (پسپا) نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محمد ہاشم نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ اس مسلئے پر ہماری وفاقی وزیر برائے تجارت انجینیر خرم دستگیر سے اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے ایف بی آر کو ایم او سی کلیریفیکشن بتاریخ دسمبر ۵۰۰۲ کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تحت پائپ کی برآمد پر سیلز ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔ مزید براں انہوں نے کہا کہ ایم او سی نے جو لیٹر ایف بی آر کو لکھا تھا اس میں واضح کر دیا گیا تھا کہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون اور مینوفیکچرنگ بانڈز سیلز ٹیکس سے مستنیٰ ہوں گے۔لیکن مسٹر ہاشم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر ایم او سی کی واضح ہدایت کے باوجود مینوفیکچرنگ بانڈز پر سیلز ٹیکس لگانے پر مصر ہے۔

مسٹر ہاشم نے کہا کہ پہلی اکتوبرسے پاک افغان بارڈر پر ہمارے کنٹینرز سیلز ٹیکس کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹیشن اور لوجسٹک کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس گمبھیر صورت حال کی وجہ سے دوسرے ممالک کو افغان مارکیٹ میں گھسنے کا موقع مل جائے گا۔اس لیے ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وفاقی وزیر تجارت افغانستان اور سار کو برآمد کیے گئے پائپ پر عائد ڈیوٹی کے بارے میں ایف بی آر کو دوبارہ ہدایت نامہ جاری کرے۔چیرمین پسپا نے کہا کہ افغانستان اور سار میں سٹیل لائن پائپ کی کافی ڈیمانڈ ہے لیکن برآمدی مال پر سیلز ٹیکس کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں رہنا مشکل ہے، انہوں نے وفاقی وزیر کے مثبت رویے پر شکریہ ادا کیا۔لیکن بدقسمتی سے ایف بی آر اس دیرینہ مسلئے کو سمجھنے سے قاصر ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جیسے گورنمنٹ اداارے کو حکومتی ترجیحات برائے فروغ تجارت پر کئے گئے اقدامات میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسٹر ہاشم نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر حکومتی ہدایت کی روشنی میں دس سال پرانے اس مسلئے کوحل کرنے میں کلیدی رول ادا کرے۔ انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ صورت حال اسی طرح رہی تو ہم افغانستان اور سار جیسی مارکیٹ گنوا دیں گئے اور بیروز گاری میں اضافہ ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہو جائے گا۔

مزید :

کامرس -