پاکستان اور ایران کے مابین کیا گیا تجارتی معاہدہ نیم مردہ ہو چکا ہے،میاں زاہد حسین

پاکستان اور ایران کے مابین کیا گیا تجارتی معاہدہ نیم مردہ ہو چکا ہے،میاں ...

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ2006 پاکستان اور ایران کے مابین کیا گیا ترجیحی تجارت کا معاہدہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے بجائے کم کر رہا ہے۔ اسے موثر بنانے کیلئے نئے سرے سے کوششیں کی جائیں ورنہ دونوں ممالک کا پانچ سال میں تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کا عزم کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ دونوں ممالک پی ٹی اے کو ایف ٹی اے میں بدلنے پر بھی غور کریں۔2008-9 میں پاکستان اور ایران کے مابین 1321 ملین ڈالر کی دستاویزی تجارت ہو رہی تھی جو 2013-14 میں 218 ملین ڈالر تک گرگئی۔2012-13 میں پاکستان ایران کو 97 ملین ڈالر کی اشیاء برآمد کر رہا تھا جو 2013-14 میں 53 ملین ڈالراور بعد ازاں 43 ملین ڈالرتک گرگئیں۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی تجارت بھارت، ترکی اور چین سے بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان سے تجارت میں 2009 سے اب تک 75 فیصد کمی آ چکی ہے جو ایکسپورٹ مینیجرز کی نا اہلی کا ثبوت ہے۔ ساڑھے سات کروڑ کی آبادی والے ملک میں پاکستانی چاول،مالی خدمات، آٹو موبائل، آٹو پارٹس، ادویات، کیمیکل ، پھلوں،زرعی مصنوعات، کپاس، بیف، مٹن اوردھاگے کی بڑی مانگ ہے تاہم پاکستان کی 63 فیصد برآمد چاول پر مشتمل ہے ۔پاک ایران بارڈر پر تجارتی سہولتوں میں اضافہ اورا سمگلنگ میں کمی کی کوشش کی جائے جس سے مقامی آئل اینڈ گیس کی صنعت کو نقصان اور ٹائلوں کی صنعت کی بندش کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پابندیاں اٹھنے کے امکان نے کئی ممالک اورمتعدد کثیر القوامی کمپنیوں کی توجہ ایران کی جانب کر دی ہے۔اس سلسلہ میں پاکستان کی سستی بھارت کو تجارتی معاہدے کا انمول موقع فراہم کرے گی جس سے وہ ایران کے علاوہ افغانستان اور وسط ایشیاء کی منڈیوں میں قدم جمانے میں کامیاب ہو جائے گا۔عالمی پابندیوں سے قبل بھارت اور ایران کی تجارت سولہ ارب ڈالر تھی جو پابندیوں کے بعد تیرہ ارب ڈالر تک سکڑ گئی ہے جسے دوبارہ بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں اسلئے ہمیں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

مزید :

کامرس -