سالانہ ٹھیکے نہ ہو سکے ، سروسز ہسپتال میں ادویات ختم ، غریب مریض دربدر

سالانہ ٹھیکے نہ ہو سکے ، سروسز ہسپتال میں ادویات ختم ، غریب مریض دربدر

  

 لاہور( جاوید اقبال) سروسز ہسپتال میں ادویات اور سرجیکل آلات کے سالانہ ریٹ کنٹریکٹر نہ ہونے سے سٹور ادویات اور سرجیکل ، سازوسامان سے خالی ہو گئے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے ریٹ کنٹریکٹر کے لئے انڈیوزرز کو کیس بھجوائے جو 6 ماہ گزرنے کے باوجود بلک پرچیز میں ادویات اور سرجیکل ڈسپوزیبل سازوسامان کے کیسز مکمل نہیں کر سکے جس کے باعث ادویات اور سرجیکل کے سٹور خالی ہو گئے ہیں اور ادویات کا ذخیرہ بھی ختم ہو گیا ہے ادویات کی کمی پوری کرنے کے لئے ہسپتال کی انتظامیہ نے بطور قرض گورنمنٹ نواز شریف ہسپتال سے ادویات حاصل کیں مگر وہ بھی چند روز کے بعد ختم ہو گئیں۔ بلک پرچیز ادویات کی بروقت خریداری نہ ہونے سے ہسپتال کی ضرورت پوری کرنے کے لئے انتظامیہ مہنگے داموں لوکل پرچیز میں ادویات اور دیگر سازوسامان خرید رہی ہے مگر ایل پی میں خریداری سے ہسپتال کے خزانے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے اور مریضوں کو ڈسپرین ، سرنج بھی سرکاری طور پر میسر نہیں رہی، بتایا گیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے رواں مالی سال کے لئے بلک پرچیز میں ادویات اور سرجیکل کا سازوسامان خریدنے کے لئے جولائی اگست2014 ء میں ٹینڈرنگ مکمل کرنا تھی جو اپریل تک ہر حال میں مکمل کی جانا تھی مگر ااکتوبر 2015ء تک بھی یہ کام مکمل نہیں کیا جا سکا ۔ جس سے ہسپتال کے تمام میڈیکل اور سرجیکل سٹور خالی ہو گئے ہیں جس کے باعث مریض حکومت کو جھولیاں اٹھا اٹھا کر بددعائیں دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر سلمان کاظمی ، ڈاکٹر سہیل رانا کاکہنا ہے کہ معلوم ہوا ہے کہ ایل پی میں ادویات فراہم کرنے والی کیموڈیکس کمپنی کو نوازنے کے لئے بلک پرچیز کے ٹھیکے جاری نہیں کئے گئے اور آج عالم یہ ہے کہ ہسپتال کے مریض ایک ایک ادویات کو ترس رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ٹینڈرز کروائے گئے تھے مگر انڈیوزرز نے انہیں مکمل کرنا تھا۔ مختلف پروفیسرز انڈیوزرز کمیٹیوں میں شامل ہیں جن کی کوتاہی کے باعث بروقت معاملات مکمل نہیں کیے جا سکے۔ اس حوالے سے ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایل پی میں ادویات منگوا رہے ہیں اور مریضوں کو ادویات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -