الیکشن تو الیکشن ہے، چاہے موری ممبری کاہو!

الیکشن تو الیکشن ہے، چاہے موری ممبری کاہو!
الیکشن تو الیکشن ہے، چاہے موری ممبری کاہو!

  

الیکشن تو الیکشن ہوتا ہے، قومی اسمبلی کا ہو یا پھر موری ممبری کا، اس وقت اتفاق سے دونوں میدانوں میں گہما گہمی اور بحث و تمحیص ہے، بڑا زور لگ رہا اور مزہ لینے والے مزہ بھی لے رہے ہیں، اور اسی رنگ ڈھنگ میں دوستیاں اور رشتہ داریاں بھی کام آ رہی ہیں، ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے الیکشن دیکھے، بعض کی انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا اور ووٹ تو بہرحال دینا ہو تے ہیں، تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہم نے اپنے حلقے میں کسی جماعت کی محبت میں ووٹ دیا ہو۔ ہمیشہ امیدواروں میں بہتر اور اپنے تعلق والے کو دیا اور تعاون بھی کیا، شادباغ میں رہائش کے دوران ہمارے ہمسائے اور علاقے کے سدا بہار ڈاکٹر ضیاء اللہ خان بنگش نے جب بھی اور جو بھی الیکشن لڑا وہ ہماری حمایت کے حق دار ٹھرے تاہم ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہمارے گھر پر جھنڈا یا بینر لگا ہو کہ کسی ایک جماعت کی حمایت کا تاثر ابھرے تاہم اس مرتبہ یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا کہ ہماری رہائش اب مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ میں ہے، انتخابات کے حوالے سے جب بھی بات ہوتی تو سیر صبح کی محفل یاراں میں سوال آ جاتا، ہم نے زور دے کر یہ فیصلہ کروایا کہ یہاں پارٹی کو بنیاد نہ بنایا جائے۔ دوستی اور تعلق کو مقدم رکھا جائے، چنانچہ سب نے یہ طے کر لیا کہ اگر اس محفل کے دوستوں میں سے کوئی خود امیدوار ہو تو یاروں کی حمایت کا حق دار ہو گا۔

چودھری انوار الحق بھی اہم رکن محفل ہیں اور ان کا دِل کونسلر بننے کو چاہتا تھا اور ہے، چنانچہ ان کے حق میں فیصلہ ہو گیا، اس کے ساتھ ہی ملتوی ہو جانے والے بلدیاتی انتخابات میں حاجی مقبول احمد کے صاحزادے کے لئے بھی حاجی صاحب کی وجہ سے طے ہو گیا کہ وہ بھی ووٹ اور نوٹ(حمائت) کے حق دار ہوں گے۔ ان انتخابات کے دوران حاجی مقبول احمد نے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے یونین کونسل کے چیئرمین اور چودھری انوار الحق نے جنرل کونسلر کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے، انہوں نے اپنا تعلق تحریک انصاف سے جوڑ لیا ہوا ہے اور سرگرم ترین کا رکن ہیں، لیکن اہلِ محفل کا فیصلہ عقل سے نہیں دل سے کیا گیا تھا اور دل نے دوستی نبھانے کی بات کی، ان انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی تو جمع ہوئے، کچھ انتخابی مہم بھی چلی اور رقوم بھی خرچ ہوئیں، پھر یہ ملتوی ہو گئے، اور یہ معاملہ ٹھپ ہو گیا۔

اب پھر سے یہ سلسلہ شروع ہوا، تو حاجی مقبول احمد نے سابقہ تجربے اور اپنی کاروباری مجبوریوں کے تحت خود یا صاحبزادے کو میدان میں اتارنے سے پرہیز کیا۔ البتہ چودھری انوار الحق میدان میں تھے اور محفل ان کے حق میں تھی، اس مرتبہ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ملک عظمت کھوکھر کے ساتھ ان کا پینل بنا دیا گیا۔ یوں عظمت چیئرمین اور چودھری انوار وائس چیئرمین تھے، محفل میں چودھری صدیق نے اعتراض کیا کہ وہ وعدہ جنرل کونسلر کا تھا، لیکن ہمارے، مرزا منور بیگ اور خواجہ طارق کے اصرار اور موقف کی وجہ سے ان کو اپنا امیدوار مان لیا گیا۔ کاغذات جمع ہوئے اور انتخابی مہم بھی شروع ہو گئی۔ چودھری انوار الحق نے فیکس بنوائے، ان کے صاحبزادے ہمارے گھر پر لگانے کے لئے آئے تو ہم انکار نہ کر سکے اور یوں ہمارا یہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔

بات خرچ کرنے تک پہنچ چکی تھی، اچانک دو روز قبل چودھری محمد سرور کی قیادت میں تحریک انصاف کا وفد جماعت اسلامی سے رابطے کے لئے لاہور کے دفتر پہنچ گیا اور دونوں کے درمیان مذاکرات کے بعد سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ ہو گیا، جماعت اسلامی نے یونین کونسل 112(ہماری رہائش والی) مانگ لی اور ان کو مل گئی، حالانکہ اس اجلاس میں میاں محمود الرشید بھی تھے،جو حالات سے واقف ہیں، چنانچہ حلقہ112سے جماعت اسلامی کا پینل امان اللہ خان کی قیادت میں معتبر ٹھہرا اور ان کا مقابلہ مسلم لیگ(ن) سے براہ راست ہو گیا۔ ملک عظمت اور چودھری انوار الحق کو میدان چھوڑنا پڑا۔ ہمارے لئے یہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے والی بات ہوئی اور ہم نے صاحبزادے کو کہہ کر فوری ردعمل کے طور پر فلیکس اتروا دیا اور سُکھ کا سانس لیا۔

گزشتہ صبح جب سیر کے بعد محفل جمی تو حاجی مقبول اور چودھری صدیق بڑے خوش تھے وہ دونوں مسلم لیگ (ن) کے حامی ہیں، ان کے خیال میں اب حلقے کا یہ انتخاب ان کا پینل جیتے گا اور جماعت کو شکست ہو گی۔ طارق بٹ اور ڈار صاحب جذباتی ہوئے کہ حکومت نے عوام کو پریشان کر رکھا ہے اور میٹرو بس کے سوا کیا دِیا ہے؟ ایسی حکومت کے حکمرانوں کو تو ووٹ نہیں دینا چاہئے، اب بحث براہ راست چودھری انوار الحق اور چودھری صدیق کے درمیان تھی۔ انوار جماعتی نظم و نسق کی بات کر رہے تھے اور چودھری صدیق کے مطابق وہ تو مسلم لیگ (ن) کو جیتتا دیکھ رہے ہیں، خود ہم نے اور ڈار صاحب نے بھی یہ رائے دی کہ ایسے فیصلے سے تحریک والوں کو نقصان ہوا کہ یہ یونین کونسل جیت چکی تھی، اب صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔

حاجی مقبول خوش اور خواجہ طارق غیر مطمئن تھے ان کا فیصلہ تھا کہ اب دونوں طرف کے امیدواروں کا موازنہ کر کے ووٹ صرف دو۔ یہ ایک معقول تجویز ہے اس کے حق میں ہم نے بھی بات کی۔ چودھری انوار الحق نے نظم و نسق کے حوالے سے یہ فیصلہ قبول کیا، لیکن اس کے اثرات اہل محفل پر نہیں تھے، اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتے ہوئے اپنی اپنی جماعت کے لئے آزاد تھے اور سب نے کہا کہ فیصلہ چودھری انوار کی وجہ سے تھا اب وہ امیدوار نہیں تو ہم پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ہماری ذاتی رائے تھی کہ تحریک انصاف والے تین ماہ پہلے سے جماعت اسلامی کے ساتھ رابطے میں تھے۔ یہ فیصلہ ان کو پہلے کرنا چاہئے تھا کہ ان کے امیدوار اخراجات سے تو بچ جاتے اب جلدی کے فیصلے سے ان کو نقصان ہو گا۔

جماعت اسلامی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ناممکن تو کبھی نہیں تھی، اس مرتبہ تاخیر کر دی گئی اور جماعت کی شرائط ماننا پڑیں جو تحریک کے لئے درست نہیں، لیکن کیا کِیا جائے کہ اس فیصلے کے پچھے بھی حلقہ این اے 122 ہی موجود ہے اور یہ ایک جن ہے جو سب پر سایہ فگن ہو گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بڑے الیکشن پر اثر پڑے گا، تو خیال ظاہر کیا گیا کہ الٹا ہو گا۔ بہرحال الیکشن کا بخار زوروں پر اور جوڑ توڑ جاری اب جسے اللہ دے۔ویسے بھیگی شام والے ایک جدی پشتی رئیس، دانشور کالم والے نے تو علیم خان کو دُنیا کا شریف ترین انسان ثابت کر کے ان کو جتا بھی دیا ہے۔ شاید یہ بعد از شام کی ترنگ کا نتیجہ ہے ورنہ وہ خود اپنی سابقہ تحریروں پر غور کریں تو بلا ثبوت اور تردد کے بغیر رپورٹ کو مسترد کرتے رہے اور آج کے صحافی دوستوں کو طعنے دیتے ہیں۔

مزید :

کالم -