داعشی جنگجوؤں کی اپنے اہل خانہ کے قتل کی دھمکیاں

داعشی جنگجوؤں کی اپنے اہل خانہ کے قتل کی دھمکیاں

  

دمشق ( آن لائن )شام او عراق سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں سرگرم دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" کے سعودی_عرب سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اپنے اہل خانہ کو داعش کی حمایت نہ کرنے پر جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں دی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر داعش کے نام سے پوسٹ کردہ ایک فوٹیج میں کچھ شدت پسندوں کو دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج کے مطابق دہشت گرد عناصر نیاپنے اہل خانہ کے نام پیغام میں دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے ارتداد سے توبہ اور داعش کی مخالفت نہ چھوڑی تو انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔یہ فوٹیج ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے ایک داعشی دہشت گرد سعد الغنزی کے ہاتھوں اپنے چچا زاد مدوس الغنزی کے قتل کا واقعہ ابھی تازہ ہے۔ عیدالاضحٰ کے ایام میں قتل کے اس وحشیانہ واقعے نے پورے سعودے معاشرے کو ہلاک کر رکھ دیا گیا۔ تاہم واقعے کے دو روز بعد سعودی پولیس نے قاتل داعشی جنگجو کو گرفتار کرلیا تھا۔تازہ فوٹیج میں سعودی جنگجو جمیل الخمعلی الغنزی کو بھی دکھایا گیا ہے جس نے اپنے بعض اقارب کی تصاویر بھی شائع کی ہیں جن میں اس کے ایک بھائی کی تصویر بھی شامل ہے۔ الخمعلی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان لوگوں [اقارب] نے داعش کی مخالفت ختم کرتے ہوئے اپنے طرز عمل سے توبہ نہ کی تو انہیں بھی قتل کردیا جائے گا۔ادھر الخمعلی خاندان نے اپنے ایک بیان میں داعش میں شامل ہونے والے جمیل الخمعلی کے شدت پسندوں کی طرف مائل ہونے کی مخالفت کرتے ہوئے اس سے مکمل طورپر لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ شدت پسند کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کسی شخص کے لیے کسی دوسرے کو قتل کرنا جائز نہیں چاہے وہ مرتد، کافر، مشرک یا سنگین جرائم میں ملوث ہی کیوں نہ ہو۔

یاد رہے کہ داعشی جنگجو الخمعلی چھ سال تک سعودی عرب میں زیرحراست رہ چکا ہے۔ اسے عدالت کے حکم پر رہا کیا گیا تھا تاہم اسے کچھ عرصہ غائب رہنے کے بعد شام میں داعش کے جنگجوؤں میں دیکھا گیا تھا۔داعشی جنگجو نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹویٹر" پر سعودی عرب میں مقیم اپنے عزیزو اقارب اور حکومت کو داعش کی مخالفت کرنے کی پاداش میں قتل کی متعدد بار دھمکیاں دی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -