مشرقِ وسطیٰ میں بہتری؟

مشرقِ وسطیٰ میں بہتری؟
مشرقِ وسطیٰ میں بہتری؟

  

بظاہر یہ سوال ،یہ رائے بڑی عجیب نظر آتی ہے، لیکن اختلاف کرنے کا حق بھی یقیناًہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسلامی خلافت کے قیام اور پھیلاؤ نے کئی ریاستوں کے لئے خطرات پیدا کر دیئے ہیں، لیکن اگر اس کے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ ان خطرات نے مشرق وسطیٰ اور خطے سے جن ممالک کے مفادات وابستہ ہیں، ان کی سوچ اور حکمت عملی میں مثبت تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ برسرپیکار ریاستیں اب ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی راہیں ڈھونڈ رہی ہیں۔ اسلامی خلافت کی عسکریت پسندی اور دہشت گردی نے تین طرح سے ان کی سوچ میں تبدیلی پیدا کی ہے۔

1۔خطے کے تین بڑے ممالک ایران، سعودی عرب اور ترکی نے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون کی ضرورت کا احساس کیا ہے۔اب وہ ریاستوں کو کمزور اور اپنے حامیوں کو مضبوط کرنے کی بجائے ریاستوں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں کہ اس نئے خطرے یا پریشانی سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے، خصوصاً عراق، شام اور لبنان میں اسلامی خلافت ایک ایسی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے ،جس میں موجودہ سرحدیں ختم کر دی جائیں۔۔۔(ظاہر ہے کوئی ملک یہ نہیں چاہے گا)۔۔۔ وہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط کو نہیں مانتے، اداروں کو نہیں مانتے، خطے میں ایک ہی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس حکمت عملی نے خطے کے ممالک کو مضبوط کرنے کی ضرورت کا احساس پیدا کیا ہے۔ اب سعودی عرب، ایران اور ترکی، عراق اور شام کے حصے بخرے کرنا نہیں چاہتے۔ حکومتوں کو گرانا نہیں چاہتے، لیکن اپنے اپنے انداز میں انہیں مضبوط کر رہے ہیں۔بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام اور ایک ایسا خطرہ ،جو ان کو بھی متاثر کررہا ہے، اس مشترکہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ اسلامی خلافت کے خلاف موجودہ ریاستوں اور حکومتوں کو مضبوط کریں۔ہمیں یہ غلطی نہیں کرنی چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نظر انداز کر دیں کہ شام اور عراق میں اسلامی خلافت نہ صرف حکومتوں، بلکہ ان کے خلاف جو گروہ متحرک ہیں، دونوں کو تباہ کرنے کی کارروائیاں کررہی ہے۔ چاہے وہ کسی کے بھی حمایت یافتہ ہیں۔ اب تو یہ بات ڈھکی چھپی بھی نہیں رہی کہ وہ سب جو کل شام کی حکومت کو گرانا چاہتے تھے،آج اسے بچانا چاہتے ہیں۔

2۔ داخلی طور پر بھی عوام نے اس بات کا احساس کر لیا ہے کہ امن و امان کا قیام اور استحکام ریاست کا ہی فرض ہے اور وہی اسے ادا کر سکتی ہے۔قانون ہاتھ میں لینے سے معاملات بگڑتے ہیں، سنورتے نہیں۔ اسلامی خلافت ان کے لئے خطرہ ہے۔ تہذیب و تمدن کے لئے خطرہ ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ان کا کردار ہے۔تاریخی میراث کی تباہی ان کا مقصد ہے، جس سے عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ۔اب مضبوط ریاست کا احساس جنم لے رہا ہے ۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے مضبوط ریاست ،مضبوط ادارے ہی آخری آپشن ہے۔دراصل ’’عرب سپرنگ‘‘ سے شروع ہونے والا سلسلہ ہی اس کی بنیاد ہے۔ حکومت کا نظام کم از کم ہاتھوں میں ہونے کی بجائے عوام کے پاس ہونا چاہیے جو جمہور ہیں۔عوام اور سیاسی جماعتوں میں مل کر متحد ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرنے کا احساس بڑھ رہا ہے۔ عراق اس کی مثال ہے۔

3۔ بین الاقوامی سطح ، خاص طور پر مغرب میں بھی یہ ادراک پیدا ہو گیا ہے کہ موجودہ ریاستی ڈھانچے اور موجود اداروں کو ہی مضبوط کرنے ،موثر بنانے سے ’’اسلامی خلافت‘‘ کا مقابلہ ممکن ہے۔ دوسری طرف داعش نے بھی مختلف علاقوں، مختلف ممالک میں آپریشن پھیلا دیا ہے۔ عراق، شام ، افغانستان، لیبیا، مصر، ملائیشیا اور فرانس میں ان کی نقل و حرکت اور کارروائیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی انہیں عسکری تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کی معاونت حاصل ہو سکتی ہے یا شاید ہے، لہٰذا بین الاقوامی سطح پر بھی یہ احساس مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب میں بھی تعاون کی فضا قائم کی جائے، کیونکہ اسلامی دنیا میں اتحاد کی کنجی ریاض اور تہران کے پاس ہے، جس کے ذریعے داعش پر قابو پایا جا سکتا ہے، کیونکہ داعش، سنی اور شیعہ دونوں کے لئے خطرے کا باعث بن رہے ہیں۔

ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری جو مشرق وسطیٰ میں خاک و خون کے کھیل کی خود ذمہ دار ہے وہ بھی خوف زدہ ہے کہ یہ نیا خطرہ جو شاید ان کا اپنا ہی پیدا کردہ ہے، اب ان کے لئے بھی خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ وہ بھی اسے مشرق وسطیٰ تک یا اسلامی ممالک تک محدود کر دینا چاہتے ہیں۔ متاثرہ ممالک اپنے اداروں، فوج، پولیس اور سیکیورٹی کے ذمہ دار دیگر اداروں کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ ان کے کمزور ہونے سے جو خلاء پیدا ہوا، اس میں ہی اسلامی خلافت اور داعش کا قیام اور ان کی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔کسی بھی خطے میں باہر سے مداخلت اس خطے کو غیر مستحکم کرتی رہی ہے، جس سے ان عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کو ’’جہاد‘‘ شروع کرنے کے لئے ایک مضبوط دلیل مہیا کر دی جاتی تھی یا ہو جاتی تھی کہ وہ باہر سے آئے مداخلت کاروں اور ان لوکل "Partners" کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔

ایران کے ساتھ مغرب کی قربت بھی اسی مشترکہ خطرہ کے خلاف محاذ بنانے کا حصہ ہے۔ اتنے سالوں سے جاری مذاکرات اتنی جلدی نتیجہ خیز بلاوجہ ثابت نہیں ہوئے، حالانکہ اس معاہدے پر نکتہ چینی بھی جاری ہے۔۔۔ الغرض داعش، جو قریب قریب القاعدہ کی جگہ لے چکی ہے، کے خلاف متحدہ محاذ ضروری ہو گیا ہے۔ اس متحدہ محاذ کے لئے تین ترجیحات ضروری ہیں۔ خطے کے اندر اور باہر سے ممالک کا قریبی رابطہ اور تعاون۔ خطے کے اندر ممالک میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق اور اعتماد سے حکومت کا قیام اور تیسرا عوام کی خواہشات کا احترام اور سہولتوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے کہ اس کے علاوہ خطے کے ممالک کا بڑی طاقتوں سے قریبی رابطہ، ضروری نہیں کہ اس تحریر سے سب کو اتفاق ہو، لیکن میری رائے میں یہ مشترکہ خطرہ، خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے، ان کے اداروں کو مضبوط کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید :

کالم -