انسانی سمگلنگ کے خلاف یورپی یونین کے ’آپریشن صوفیہ‘ کا آغاز

انسانی سمگلنگ کے خلاف یورپی یونین کے ’آپریشن صوفیہ‘ کا آغاز

  

برسلز ( آن لائن )یورپی یونین نے جنوبی بحیرہ روم میں تارکین وطن کی سمگلنگ کرنے والی کشتیوں کو روکنے کے لیے ایک نیا آپریشن صوفیہ شروع کر دیا جس کے تحت یورپی یونین کے بحری جہاز انسانی سمگلنگ کے شبے پر کسی کشتی یا جہاز میں گھس کر اس کی تلاشی لے سکتے ہیں، اسے پکڑ سکتے ہیں یا اس کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ اب تک یورپی یونین جہازوں کی نگرانی اور امدادی کاموں پر ہی توجہ مرکوز کررہی تھی۔رواں سال اب تک شمالی افریقی ساحل سے ایک لاکھ 30 ہزار سے بھی زیادہ تارکین وطن یورپ پہنچے ہیں جبکہ ان میں سے 2700 ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں۔بڑی تعداد میں تارکین وطن کے یورپ پہنچنے کی وجہ سے یورپی یونین میں ایک قسم کا بحران پیدا ہو گیا ہے اور رکن ممالک ان سے نمٹنے پر مختلف الرائے ہیں۔سب سے خطرناک راستہ لیبیا سے اٹلی کا راستہ ہے لیکن اب تارکین وطن ترکی سے یونان جانے والے بحری راستے کا استعمال کر رہے ہیں۔اس سے قبل جون میں یورپی یونین نے پہلے مرحلے میں آپریشن ’ای یونیو فار میڈ‘ شروع کیا تھا جس کے تحت وہ لیبیا سے اٹلی اور مالٹا کے درمیان کی جانے والی انسانی سمگلنگ پر نظر رکھ رہی تھی۔آپریشن صوفیہ دوسرا مرحلہ ہے اور یہ اس بچی کے نام پر رکھا گ?ا ہے جو ایک یورپی یونین کے جہاز پر پیدا ہوئی تھی۔ اس کی ماں کو لیبیا کے ساحل سے بچایا گیا تھا۔اس آپریشن کا ہیڈکوارٹر روم میں ہے جہاں سے آپریشن کے کمانڈر ریئر ایڈمیرل انریکو کریڈنڈینو بحیرہ روم میں یورپی یونین کے مختلف جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کریں گے اور انھیں ہدایات دیں گے۔ ان جہازوں میں برطانوی جہاز ایچ ایم ایس رچمنڈ بھی شامل ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موریغنی نے کہا تھا کہ اس کے ذریعے ’ہم بین الاقوامی پانی میں مشتبہ کشتیوں میں داخل ہو سکیں گے تلاشی لے سکیں گے اور مشتبہ سمگلروں اور ٹرافیکروں روک سکیں گے اور انھیں اٹلی کی عدلیہ کو مناسب کارروائی کے لیے بھیج سکیں گے ۔

مزید :

عالمی منظر -