یمن قیام امن: حوثی باغیوں کی اقوام متحدہ کو تحریری یقین دہانی

یمن قیام امن: حوثی باغیوں کی اقوام متحدہ کو تحریری یقین دہانی

  

صنعاء ( آن لائن )یمن کے حوثی باغیوں نے ملک میں جاری بحران کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کرا دی ہے۔ برطانوی میڈیا کو حاصل ہونے والے خط میں حوثی باغیوں کے نمائندوں کی جانب سے مذاکرات میں طے پانے والے سات نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کا عہد کیا گیا ہے۔ عمان کے شہر مسقط میں ہونے والے ان مذاکرات میں قوام متحدہ کی جانب سے ثالث کا کردار ادا کیا گیا تھا۔قرارداد پر عمل درآمد کے حوالے سے گذشتہ ماہ زبانی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد خط لکھا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی جانب سے لگائے جانے والے اندازوں کے مطابق یمن کے تنازعے میں اب تک 4900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں عام شہریوں کی تعداد 2335 ہے۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ملک میں جاری لڑائی کے سبب ہلاک شدگان کے علاوہ تقریباً 15 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے اور ملک کی 80 فی صد آبادی کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون کے نام لکھے گئے خط میں مسقط میں طے پانے والے جن سات نکات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ان میں عارضی جنگ بندی، شہروں سے مسلح ملیشیا کی واپسی اور دارالحکومت صنعا میں حکومت کی واپسی شامل ہیں۔ سات نکات میں شہروں سے مسلح ملیشیا کی واپسی اور دارالحکومت صنعا میں حکومت کی واپسی شامل ہیں اْدھر یمن کے صدر منصور ہادی کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی معاہدے سے پہلے حوثی باغی اْن علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں جن پر گذشتہ سال کے دوران انھوں نے قبضہ کیا ہے۔انصار اللہ کے نامی حوثی باغیوں کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام خط میں امن منصوبے کو ’سیاسی نظام کی بحالی کے لیے اہم اوربنیادی قدم قرار دیا ہے۔‘خط میں کہا گیا ہے کہ ’دیگر جماعتوں سمیت ہماری جانب سے ان سات نکات کو ایک منصوبے کے طور پر تسلیم کیا جاتاہے۔ ہم اقوام متحدہ کی جانب سے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر دوبارہ لانے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘خط میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کی جانب سے اقوام متحدہ کے تحت قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں پر ’مثبت ردعمل کا مظاہرہ نہیں کیا گیا ہے۔

یمن میں جاری بحران اور امن کا قیام، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے لڑائی میں یمن کی سرکاری فوج کا ساتھ دینے کے باعث پیچیدگیوں کا شکار ہے۔دوسری جانب حوثی باغیوں کو بھی ایران کی طرف سے بیرونی امداد حاصل ہے۔

مزید :

عالمی منظر -