قندوز حملے پر افغانستان کی الزام تراشی اور پاکستان کے حق میں امریکی جرنیل کی گواہی

قندوز حملے پر افغانستان کی الزام تراشی اور پاکستان کے حق میں امریکی جرنیل کی ...

  

پاک فوج کے ترجمان نے اِن افغان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ قندوز پر طالبان کے حملے میں پاکستانی سیکیورٹی اہلکار بھی ملوث تھے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) کے ترجمان نے کہا کہ افغان حکام کی جانب سے عائد کئے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، پاکستان اس حملے کی مذمت کر چکا ہے، پاکستان افغانستان میں امن اور مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کرتا آیا ہے، اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس طرح کے بے سروپا الزامات سمجھ سے بالاتر ہیں، یہ سنجیدہ رویئے کے مظہر نہیں، اصل اور حقیقی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان الزامات کا اعادہ نہ کیا جائے۔یہ خدشہ تو پہلے سے موجود تھا کہ قندوز پر افغان طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان کی طرف سے پاکستان پر یہ الزام ضرور آئے گا کہ پاکستان بھی اس میں ملوث ہے، معلوم نہیں دو دن افغانستان نے کیسے صبر کر لیا، اور اپنی فُغاں کو سینے کے اندر کیسے تھامے رکھا، اور بالآخر پاکستان پر الزام لگا ہی دیا،حالانکہ پاکستان اس حملے کی نہ صرف مذمت کر چکا ہے، بلکہ یہ بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں امن کے لئے وہ ہر ممکن تعاون کرے گا،ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا اسلام آباد میں افغان طالبان کے ساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کے لئے پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور پہلا دور کامیابی سے ہُوا، اگرچہ مُلاعمر کی وفات کی خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد دوسرا دور نہ ہو سکا تاہم اب بھی پاکستان کی کوشش یہ ہے کہ یہ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہو جائیں۔اس میں افغانستان کا مفاد پوشیدہ ہے۔

افغانستان تو خیر براہِ راست امریکی حملے کی زد میں تھا تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنا نقصان پاکستان نے اٹھایا، کسی دوسرے مُلک کو اِس کا تجربہ نہیں، امریکہ یا چند مغربی مُلک اگر دہشت گردی سے متاثر ہوئے تو بس اتنے کہ وہاں ایک دو واقعات ہو گئے، بعد میں انہوں نے اس پر کامیابی سے قابو پا لیا۔ امریکہ میں نائن الیون کے بعد کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا، اور اس واقعے کے بعد امریک نے ساری جنگ اپنی سرحدوں سے باہر لڑی۔ افغانستان پر حملہ کیا، اس کے بعد عراق کے خلاف کارروائی کی اور اب اُس کی فضائی قوت شام میں داعش کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، لیکن امریکی سرحدوں کے اندر ہر طرح سے امن و امان ہے،مگر پاکستان ایسا مُلک ہے، جس کے جسدِ قومی پر دہشت گردوں نے بڑے بڑے گھاؤ لگائے ہیں، بڑی تعداد میں قابل اور قابلِ احترام افسروں کی جانیں اِس جنگ میں ضائع ہوئیں، عورتوں اور بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا، سیکیورٹی تنصیبات، ہوائی اڈے، ریلوے سٹیشن، ہسپتال، تعلیمی ادارے، مساجد، گرجا گھر، بازار غرض کوئی جگہ ایسی نہ تھی،جہاں دہشت گردوں نے حملے نہ کئے ہوں۔ اگرچہ پاکستان کی سیکیورٹی افواج نے آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور اُن کا نیٹ ورک بڑی حد تک تباہ کر دیا ہے تاہم اب بھی دہشت گرد کہیں نہ کہیں بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر کرنل(ر) شجاع خانزادہ کو اُن کے ڈیرے پر نشانہ بنایا گیا جہاں اُن کے ساتھ بیس بائیس قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں،اس کے تھوڑے عرصے بعد بڈھ بیر میں فضائیہ کے کیمپ پر حملہ کر کے29 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ بڈھ بیر حملے کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے اور حملے کو وہیں سے مانیٹر کیا جا رہا تھا، جانی نقصان کے علاوہ پاکستان کی معیشت کو بھی زبردست دھچکا لگا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی اسی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔

جو مُلک خود دہشت گردی کا شکار ہو اور اس سلسلے میں بدترین حالات سے گزرر ہا ہو، وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا مُلک ایسی مشکل صورتِ حال سے دوچار ہو، خصوصاً افغانستان میں اگر کسی بھی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر براہِ راست پاکستان پر پڑتا ہے اس لئے پاکستان کی خواہش و کوشش تو یہ ہے کہ وہاں امن قائم ہو تاکہ پاکستان بھی سُکھ کا سانس لے سکے، لیکن ایسے لگتا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کے نقشِ قدم پر چل کر ہر واردات میں پاکستان کو ملوث کرنے لگا ہے۔ افغان میڈیا تو ہر وقت الزام تراشی پر اُدھار کھائے رہتا ہے، اور افغانوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف نفرت و حقارت کے جذبات اُبھارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا، پھر جو افغان رہنما بھارت کے زیر اثر ہیں ان کا رویہ بھی پاکستان مخالف ہے، اور وہ بھی الزام تراشی کی اسی روش پر گامزن ہیں۔

پاکستان نے جب سے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا ہے، دُنیا بھر میں اس کارروائی کو سراہا گیا ہے، خود افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے اعتراف کیا ہے کہ پاک فوج اچھے اور بُرے طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی، اور بڈھ بیر ایئر بیس کیمپ پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے۔ پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں۔ جنرل جان کیمبل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے، اور فوجی آپریشنوں کے باعث غیر ملکی دہشت گرد مشرقی اور شمالی افغانستان میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ پاکستان نے افغان امن معاہدے کے لئے تعاون کیا اور افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے، انتہا پسندی کا خطرہ دونوں مُلکوں میں تعاون کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے، امریکی جنرل نے تجویز کیا کہ افغانستان کو طالبان سے مصالحت سے قبل پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا ہوں گے۔امریکی جنرل جان کیمبل خود افغان سرزمین پر موجود ہیں، اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اگر امریکی افواج وہاں موجود نہ ہوں تو افغانستان کے حکمرانوں کی زندگیوں کو زیادہ خطرات لاحق ہوں۔ یہ امریکی افواج ہی ہیں جو افغان ایوانِ صدر کے باہر سیکیورٹی پر مامور ہیں ورنہ تو نہ سابق صدر کرزئی کو افغان سیکیورٹی افواج پر اعتماد تھا نہ اشرف غنی کو ہے، جو جنرل خود افغان حکمرانوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہا ہے اس کی بات پر تو ان حکمرانوں کو کان دھرنے چاہئیں اور اس پر توجہ دینی چاہئے۔ پاکستان اگر اپنی سرزمین پر بلاتفریق کارروائی کر رہا ہے اور اس کا سرٹیفکیٹ بھی افغان جنرل کیمبل اپنے مُلک کی اہم ترین کمیٹی کو پیش کر رہے ہیں تو اب مزید گواہی کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟

پاکستان کی بدقسمتی یہ بن گئی ہے کہ وہ مشرق و مغرب میں دو ایسے ہمسایوں کے درمیان گھرا ہوا ہے، جو ہر وقت اس پر الزام تراشی پر اُترے رہتے ہیں، بھارت کے بارے میں تو پاکستان کے پاس ثبوت ہیں کہ وہ یہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ ان ثبوتوں پر مشتمل ڈوزئر عالمی ادارے کے حوالے بھی کیا گیا ہے۔ بھارت تربیت یافتہ افراد اور اسلحے کی ترسیل کے لئے افغانستان کی سرزمین بھی استعمال کرتا ہے، لیکن اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، کے مصداق پاکستان پر الزام تراشی بھی کرتا رہتا ہے، ابھی حال ہی میں بھارت میں جو واقعات ہوئے اُن کا الزام بلا سوچے سمجھے پاکستان پر لگا دیا گیا، حالانکہ شواہد سے یہ الزامات غلط ثابت ہو چکے ہیں، ایسے لگتا ہے بھارت نے افغانستان کو بھی اس راہ پر لگا لیا ہے۔

جہاں تک افغان طالبان کا تعلق ہے وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں خود کفیل ہیں، ان کے پاس اسلحہ اور افرادی قوت ہے۔ وہ سالہا سال سے افغان سرزمین پر غیر ملکی افواج کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ افغان انتظامیہ کا اثرو رسوخ کابل اور چند دوسرے شہروں تک محدود ہے۔ دارالحکومت سے دورد راز کے علاقے ہمیشہ سے طالبان کا گڑھ رہے ہیں اور اُنہیں جب بھی موقعہ ملتا ہے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیتے ہیں، قندوز میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا، انہیں پاکستان کی مدد کی ضرورت تھی نہ حاجت، انہوں نے جو کچھ بھی کیا اپنے زورِ بازو پر کیا، پاکستان تو یہ چاہتا ہے کہ افغانستان کے حالات پُرامن ہو جائیں، لیکن افغانستان الزام تراشی کے ذریعے معمول پر آتے ہوئے تعلقات کو بھی ریورس گیئر لگا دیتا ہے، جہاں تک افغان میڈیا کا تعلق ہے وہ تو ہر وقت جلتی پر تیل ڈالتا رہتا ہے۔

مزید :

اداریہ -