نندی پور منصوبہ پر حکومت کو بھاگنے نہیں دینگے (اعتزاز احسن ) پارسائی کا لیکچر دینے والے اپنے گریبان میں جھانکیں ،خواجہ آصف

نندی پور منصوبہ پر حکومت کو بھاگنے نہیں دینگے (اعتزاز احسن ) پارسائی کا لیکچر ...

  

 اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ میں مسلسل دوسرے روزنندی پورمنصوبے میں مبینہ طورپرکرپشن کے معاملے پرپیپلزپارٹی اورن لیگ آمنے سامنے ایک وسرے پرالزامات کی بوچھاڑکردی، چیئرمین رضاربانی کواخلاق باختہ کے الفاظ کارروائی سے حذف کرنے پڑگئے،قائدحزب اختلاف اعتزازاحسن نے کہاکہ حکومت نندی پورکے معالے پرراہِ فراراختیارکرناچاہتی ہے مگراسے بھاگنے نہیں دیں گے، وزیراعظم نوازشریف نے ماضی میں سپریم کورٹ پرحملے اورمشہورزمانہ کوآپریٹوسکینڈل کے معاملے پربھی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی اوراب فرگوسن سے آڈٹ کرواکرایک مرتبہ پھرآنکھوں میں دھول جھونکناچاہتے ہیں، ن لیگ کاوطیرہ بن چکاہے کہ جب کوئی ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرے تویہ ماضی کے کرپشن کے قصے لے آتے ہیں، ن لیگ نے ابتک وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے1994تا1996کے دوران477روپے ٹیکس اداکرنے کی تردید نہیں کی،وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نندی پور پاور منصوبے کا معاملہ قائمہ کمیٹی یانیب کوبھجوانے پر اعتراض نہیں لیکن آج یہاں اخلاق باختہ لوگ پارسائی کے لیکچر دیتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ، پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں اورپھر باتیں کریں،ماضی میں نیب کے دو چیئرمینوں کو ایل پی جی کا کوٹہ ملا جبکہ اعتراز احسن کی بیگم کو بھی اسی شخص نے ایل پی جی کا کوٹہ دیا تھا اس لئے انکے دل میں نیب کی محبت جاگ اٹھتی ہے۔بدھ کو سینیٹ کے اجلاس میں تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے نندی پور پاور منصوبے کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث کا آغاز کیا۔ قائد حزب اختلاف اعتراز احسن نے کہا کہ یہ میرا فرض بنتا ہے کہ حکومت کو شیشہ دکھاتا رہوں ، حکومت محض الزام برائے الزام کا رویہ اپنا کر ہمارے سوالوں کا جواب نہ دے بلکہ سینیٹ کو مطمئن کرے ۔ ہم فرگوسن کی انکوائری کو تسلیم نہیں کرتے ، وزیراعظم نواز شریف سپریم کورٹ پر حملے کا معاملہ ہو یا کوآپریٹو سکینڈل ہو وہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ماہر ہیں ۔ اب نندی پور منصوبے کے حوالے سے بھی فرگوسن سے آڈٹ کروا کرآنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نندی پور منصوبے پر فوجداری قوانین کے تحت تحقیقات راہ فرار اختیار کررہی ہے حالانکہ پیپلزپارٹی اس حالے سے کبھی نہیں گھبرائی ، حکومت کیلئے فرار کے راستے بند ہیں ۔ ہم نے تجویز کیا ہے کہ نیب انکوائری کرے جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی بھی اس کی تحقیقات کرے ۔ گزشتہ روز میں نے وزیراعظم نواز شریف کے ٹیکس کو جو اعداد و شمار پیش کیے حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی تردید نہیں کی گئی ، فرگوسن کو خبردار کرتا ہوں اگر انہوں نے کسی کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہوگا ، وفاقی وزیر پانی وبجلی خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نندی پور پاور منصوبے کا معاملہ اگر قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کو بھجوایا جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر نیب پہلے ہی اس کی تحقیقات کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نندی پور منصوبے کے حوالے سے اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جارہا ہے ۔ آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ نندی پور منصوبے کی مکمل فزیبیلٹی سٹڈی نہیں کرائی گئی جس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا اور اس کی ذمہ دار وزارت قانون پر عائد ہوتی ہے ۔ موجودہ حکومت نے جون2013ء میں منصوبے کا 59 ارب روپے کا پی سی ون منظور کیا جو پیپلزپارٹی کی حکومت نے تیار کیا تھا ۔ یہ پلانٹ ڈیزل پر نہیں فرنس آئل یا یا گیس پر چلنا تھا لیکن کمپنی نے فیول ٹریٹمنٹ پلانٹ چھوٹا لگایا جو اس کی غلطی ہے اور اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اخلاق باختہ لوگ پارسائی پر لیکچر دیتے ہوئے اچھے نہیں لگتے ، پہلے وہ اپنے گریبان میں جھانکیں پھر باتیں کریں ۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت پر نندی پور منصوبے کی مشینری خراب ہونے پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا ، سابق وزرائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سید نوید قمر بھی کوشش کرتے رہے لیکن وزارت قانون سے اجازت نہیں ملی ، انہوں نے کہا کہ حکومت نے نندی پور منصوبے کا آپریشن اور مینٹی ننس تھیکے پر دینے کا فیصلہ کیا لیکن بعد میں نندی پور منصوبے کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے منظوری نہیں دی لہٰذا اب تین ماہ کیلئے موجودہ کمپنی ( ٹھیکیدار ) کو پلانٹ چلانے کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو چلنے میں ابھی ڈیڑھ دو ماہ مزید درکار ہوں گے جبکہ نیپرا نے نندی پور منصوبے سے پیدا ہونیوالی بجلی کا نرخ 11.3 روپے فی یونٹ مقرر کر رکھا ہے ۔ ہم نیب کی تحقیقات کیلئے بھی حاضر ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ نیب کے دو چیئرمینوں کو ایل پی جی کا کوٹہ ملا ہوا ہے جبکہ اعتراز احسن کی بیگم کو بھی اسی شخص نے ایل این جی کا کوٹہ دیا تھا اس لئے قائد حزب اختلاف کے دل میں نیب کی محبت جاگ اٹھتی ہے ۔ اس پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ موجودہ حکومت کی یہ عادت بن گئی ہے کہ کوئی ان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے تو یہ پرانے الزامات دوہرانا شروع کردیتے ہیں ۔ انہں نے کہا کہ 2000 میں ایل این جی کا کوئی کوٹہ نہیں تھا ، اگر مشرف سے ایل پی جی کا کوٹہ لیا ہوتا تو پھر میں مشرف کے خلاف بغاوت کیسے کرتا ۔ کیا وہ کوٹہ منسوخ نہ کردیتا ۔ میں نے کبھی کسی حکومت سے کوئی مراعات نہیں لی اگر ان کے آمدنی کے ذرائع بتا دوں تو لگ پتہ جائے گا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محسن عزیزنے کہا کہ یہ منصوبہ مشرف دور میں منظور ہوا جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں وزیر قانون بابر اعوان نے اس کی مشینری کی کلیئرنس نہ دی جس کی وجہ سے مشینری پورٹ قاسم پر پڑی خراب ہوتی رہی جبکہ اس کی وجہ سے منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی بیرون ملک واپس چلی گئی ، 2013ء میں ای سی سی نے نندی پور منصوبے کی دوبارہ منظوری دی جبکہ کمپنی نے دوبارہ کام شروع کرنے کیلئے 10 سے 20 کروڑ ڈالر کام دوبارہ شروع کرنے کیلئے دیدیئے جبکہ ساتھ ہی منصوبے کی لاگت بڑھا کر اپنے منظور نظر کیپٹن محمود کو پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا ، مذکورہ منصوبے کا وزیراعطم نے اختتام بھی کرلیا ہے لیکن پلانٹ 5 دن چل کر بند ہوگیا اور جو بجلی پیدا کی وہ 42 روپے فی یونٹ پڑی ، حکومت نے پلانٹ کو گیس پر منتقل کرنے کیلئے منصوبے کی لاگت مزید بڑھا کر 86 ارب روپے تک پہنچا دی ہے حالانکہ اس وقت فرنس آئل ، گیس کے مقابلے میں سستا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ابھی فرگوسن سے آڈٹ کروا رہی ہے لیکن فرگوسن کو تحقیقاتی ادارہ نہیں بلکہ ایک آڈٹ فرم ہے وہ اس کی کیا تحقیقات کرے گی ، حکومت بتائے کہ نندی پور منصوبہ کب کتنی رقم میں مکمل ہوگا ، اس منصوبے کی تحقیقات نیب کو کرنی چاہیں ۔ پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ گزشتہ روز بھی نندی پور منصوبے پر کافی تفصیل سے بات ہوئی لیکن افسوس کی بات ہے کہ ساری بحث تنقید برائے تنقید کی نظر ہوگئی بلکہ زیر بھری تنقید کی گئی جس کی مذمت کرتی ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اب تک بجلی کے بحران کے خاتمہ کے صرف دعوے نظر آرہے ہیں ، اگر ہماری حکومت ہوتی تو نندی پور منصوبے پر ہم کٹہرے میں کھڑے ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پید اکرنے کا سب سے بڑا منصوبہ بے نظیر بھٹو نے کیٹی بندر میں شروع کیا تھا لیکن (ن) لیگ کی حکومت جب بھی آئی ہے تو سندھ کی انڈسٹری کو کسی اور جانب منتقل کردیتی ہے ۔ نندی پور کا معاملہ قائمہ کمیٹی برائے پانی وبجلی کو بھجوا دیا جائے۔بعدازاں چیئرمین رضا ربانی نے سینیٹ کا اجلاس آج صبح دس بجے تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

مزید :

صفحہ اول -