لاپتہ افراد کے بارے میں اشتہارات کراچی آپریشن کیخلاف سازش ہیں ، سندھ رینجرز

لاپتہ افراد کے بارے میں اشتہارات کراچی آپریشن کیخلاف سازش ہیں ، سندھ رینجرز

  

کراچی ( سٹاف رپورٹر،آئی این پی) ترجمان سندھ رینجرز نے بعض اخباروں میں شائع ہونے والے رینجرز مخالف اشتہارات کوکراچی کے امن کے خلاف سازشقراردیا ہے اور کہا ہے کہ ایک حکمت عملی کے تحت رینجرز کی کارکردگی کوعوام کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے، سازش کا مقصد کراچی آپریشن کو ناکام بنانا ہے،اشتہارات شائع کرائے جانے کیتحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا،سندھ رینجرز جھوٹے پراپیگنڈا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اشتہارات کے مندرجات جھوٹ پر مبنی ہیں اور ان کا مقصد کراچی میں قائم ہونے والے امن اور معمول پر آنے والے حالات پر اثر انداز ہونے کی سازش ہے، ان اشتہارات کے پیچھے کارفرما عناصر کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کیاجارہا ہے۔ واضح رہے کہ ایک پولیس افسر کی طرف سے بعض اخبارات میں اشتہارات چھپوائے گئے جن میں کچھ افراد کی گمشدگی کے حوالے سے رینجرز پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ رینجرز کے خلاف اشتہارات کسی کی انفرادی حرکت ہے۔ اشتہارات غلط فہمی پیدا کرنے کے لئے چھپوائے گئے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ پولیس اور رینجرز مل کر امن و امان کے لئے کام کر رہے ہیں، اشتہارات چھاپے جانے کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہے۔

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )رینجرز مخالف اشتہار دینے پر ایس پی لطیف صدیق کو آئی جی سندھ نے صوبائی وزیر داخلہ کی ہدایت پر معطل کردیا ہے جبکہ صوبائی محکمہ اطلاعات نے پولیس کی جانب سے اشتہارات دینے کے طریقہ کار تبدیل کردیا۔لطیف صدیق ایس پی انوسٹی گیشن ویسٹ تعینات تھے اور وہ ان دنوں دبئی میں ہیں۔میڈ یا رپورٹس کے مطابق ایس پی انوسٹی گیشن ویسٹ نے رینجرز مخالف اشتہار کی اشاعت کے لیے کورنگ لیٹر جاری کیا تھا جس پر انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔لطیف صدیق سانحہ بلدیہ ٹا?ن کی تحقیقات کے لیے فیکٹری مالکان کا بیان قلمبند کرنے کے لیے جے آئی ٹی کے ہمراہ دبئی میں ہیں۔اس سے قبل اس معاملے پر گزشتہ روز ڈ ی ایس پی ارونگی ٹا?ن کو بھی معطل کیا تھا۔دوسری جانب محکمہ اطلاعات سندھ نے ایس ایس پی سطح کے افسران پر اشتہار جاری کرنے کی پابندی لگادی ہے۔اب اشتہارات کی اشاعت کے لیے ایڈ یشنل آئی جی کی منظوری لازم قرار دے دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مجاز افسروں کی منظوری کے بغیر اشتہار شائع نہیں کیا جائے گا

مزید :

صفحہ اول -