جمہوریت اور جمہوری ادارے کیا کوئی مخالف لابی سرگرم ہے؟

جمہوریت اور جمہوری ادارے کیا کوئی مخالف لابی سرگرم ہے؟

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

کیا کوئی مخصوص لابی سیاسی اور جمہوری عمل کے خلاف پھر زیادہ سر گرم عمل ہو گئی ہے اور ہمارے سیاسی قائدین بھی ارادی یا غیر ارادی طور پر اس کا حصہ بن رہے ہیں ضمنی انتخابات کو مرنے مارنے کی حد تک لے جانا اور اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنانا کس حد تک جائز ہے؟ اور پھر انداز خطاب اور تقریریں ان کا کوئی جواب ہے؟ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے تحریک انصاف کے عمران خان کو الزام دیا جاتا ہے لیکن جواب میں یہ بھی حدود سے تجاوز کرتے نظر آتے ہیں حلقہ این اے 122 اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ضرور ہے کہ الیکشن ٹربیونل کی طرف سے الیکشن کالعدم قرار دیا گیا اور اس حلقہ سے منتخب ایاز صادق سپیکر تھے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے ابھی تک قائمقام سپیکر سے کام چلایا جا رہا ہے کہ سردار ایاز صادق ہی کو دوبارہ سپیکر بنانا ہے جبکہ تحریک انصاف کا مقصد اسے جیت کر دھاندلی اور دھاندلے کا شور مچانا ہے تاکہ پھر سے کوئی تحریک منظم کی جائے۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) نشست ہار بھی جائے تو اس کی اکثریت متاثر نہیں ہو گی ۔

ان حالات میں بھی اس امر پر غور نہیں کیا گیا کہ اس ملک میں ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور پھر موجودہ وزیر اعظم محمد نوازشریف کے خلاف تحریک منظم ہو کر چلتی رہی تو اس کے نتیجے میں جمہوریت ہی ختم ہوئی تھی اب بھی اگر کوئی ایسا ہی ایڈونچر ہوا یا ہونے جا رہا ہے تو اس کا مقصد اور نتیجہ اور کیا ہو سکتا ہے؟ اگرچہ حالات اس کے موافق نہیں ہیں۔ اس وقت پالیسیوں میں یکسانیت پائی جاتی ہے اور بظاہر کوئی خدشہ بھی نہیں۔ لیکن لاہور کے ضمنی انتخاب میں جو ہو رہا ہے اس کو پسند بھی نہیں کیا جا رہا جبکہ یکا یک سندھ میں ایک اور نئی صورت حال بن گئی ہے کہ پولیس کی طرف سے رینجرز کے خلاف اشتہار چھپوا دیئے گئے نتیجے کے طور پر سندھ حکومت کو گڑبڑا کر نوٹس لینا پڑا۔ اس سے قبل ریکارڈ مدت والے گورنر سے وزیر اعلیٰ کا وائس چانسلر کی تقرری پر اختلاف ہوا۔ یوں یہ تعلقات بھی خراب ہوئے۔ اگرچہ پیپلزپارٹی نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایسے اقدامات کئے کہ اس کی برتری یہاں بھی برقرار رہے گی؟

ان حالات میں خود حکمرانوں کی طرف سے آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کرنا عوامی مسائل سے اغماض اور ساری توجہ بڑے بڑے منصوبوں پر مرکوز کرنا بھی حالات کی خرابی کے مظہر ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ عوامی نمائندے ہی خود منتخب ایوان کو نظر انداز کر رہے ہیں، حکمرانوں کی اپنی توجہ کم ہے ایم کیو ایم ایوانوں سے استعفے دیئے بیٹھی ہے، عمران خان اسمبلی کو تکتے بھی نہیں۔ ان کی جماعت بھی دلچسپی نہیں لیتی اور شیخ رشید پھر کہتے ہیں یہ حکومت تین ماہ سے زیادہ نہیں چلے گی۔ ان سے یہ تو پوچھا جائے کہ یہ حکومت کیسے گرے گی؟ آئینی طور پر تو اسے اکثریت حاصل ہے، کوئی ماورائے آئین اقدام ہی ہو سکتا ہے تو کیا شیخ رشید غیر آئینی اقدام کے لئے ہی اکسا رہے ہیں۔لیکن ایک صاحب کو اسے محض ’’شٹلّی‘‘ قرار دیا۔

بہتر عمل یہ ہے کہ خود سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتیں ایوانوں کو مسکن بنائیں اور تمام مسائل کو وہاں حل کریں کہ یہی جمہوریت ہے اس میں حکمران جماعت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا اور باقی منتخب اراکین کو بھی حق نمک روا کرنا پڑے گا۔ متحدہ کو بھی واپس آ جانا چاہئے۔ ورنہ ہر سال بجٹ سے دو دو کروڑ روپے ترقیاتی کاموں کے لئے مختص کروانے کے بعد ان کا حساب تو دینا ہوگا۔ خود اپنا گریبان چاک نہ کریں۔ ماحول کو ٹھنڈا کریں۔

مزید :

تجزیہ -