کیا قانون کسی وزیر کو اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے سے روکتا ہے؟

کیا قانون کسی وزیر کو اپنی جماعت کے امیدواروں کی انتخابی مہم چلانے سے روکتا ...

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

 ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ (ن) لیگ کے وزیر انتخابی مہم چلارہے ہیں، اگر وزیر انتخابی مہم چلائیں گے تو انتخابات شفاف کیسے ہوسکتے ہیں، وزیروں کا انتخابی مہم چلانا قبل از انتخاب دھاندلی ہے، خواجہ سعدرفیق ریلوے کے وفاقی وزیر ہیں، حلقے میں ریلوے کالونیاں بھی ہیں جن پر وہ پورے طورپر پراثر انداز ہوسکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے 16ستمبر کو انتخابی مہم کے ضابط�ۂ اخلاق پر مبنی ایک نوٹی فکیشن جاری کیا تھا جس میں سرکاری عہدیداروں اور ارکان پارلیمنٹ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ الیکشن مہم میں حصہ نہیں لے سکتے، تحریک انصاف کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار شعیب صدیقی نے جو حلقہ نمبر پی پی 147سے امیدوار ہیں اس ضابط�ۂ اخلاق کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا، جس نے الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن معطل کردیا۔اس پر تحریک انصاف نے بڑا جشن منایا، اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ، وزیراعلیٰ، وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت، صدر اور وزیراعظم کے مشیر، صوبائی وزراء ، وزیراعلیٰ کے مشیر ، قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان یا ان کی طرف سے کوئی شخص حلقے یا پولنگ سٹیشن کا دورہ نہیں کرے گا ، یہ پابندی الیکشن کمیشن کی جانب سے شیڈول کے اجرا سے لے کر پولنگ مکمل ہونے تک لگائی گئی تھی۔ اب اگر تحریک انصاف چاہتی تھی کہ اوپر بیان کردہ تمام شخصیات انتخابی حلقے میں نہ آئیں (اور انتخابی مہم نہ چلائیں) تو یہ نوٹی فکیشن اس مقصد کے لئے بڑا کارآمد تھا، ہرکسی کو اسے قبول کرلینا چاہئے تھا۔ لیکن تحریک انصاف نے اس نوٹی فکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور اسے معطل کرنے کی درخواست کی، ان کی یہ درخواست منظور ہوئی، لاہور ہائی کورٹ نے یہ نوٹی فکیشن معطل کردیا۔ معطلی کے بعد ان تمام حضرات کو جن کے نام اس میں بیان ہوئے تھے اور جن کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ حلقے میں نہ آئیں، قانونی طورپر اس بات کی اجازت مل گئی کہ وہ حلقے میں جاکر اپنے امیدوار کے حق میں انتخابی مہم چلاسکتے ہیں۔ جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں عمران خان اوکاڑہ میں جلسہ کررہے ہیں، اس سے پہلے وہ سمن آباد کی ڈونگی گراؤنڈ میں جلسہ کرچکے ہیں، وہ اپنے امیدوار (علیم خان )کی انتخابی مہم میں شریک ہیں، دوسری جانب وزیر ریلوے سمیت بعض وفاقی وزراء اپنے امیدوار (سردار ایاز صادق ) کی انتخابی مہم چلارہے ہیں۔ چونکہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا 16ستمبر کا نوٹیفکیشن کلی طورپر معطل کیا ہے اس لئے اگر عمران خان یا ان کی جماعت کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ملی ہے تو دوسری جماعتوں بشمول حکمران جماعت کے لیڈروں کو بھی اس کی اجازت مل گئی ہے کہ وہ بھی اپنے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم میں شریک ہوں۔ نوٹی فکیشن کو معطل کرنے کی درخواست تو تحریک انصاف نے کی تھی لیکن اس کی معطلی کے بعد فائدہ باقی جماعتوں کو بھی پہنچ گیا، اب اگر خان صاحب کی یہ خواہش ہے کہ وفاقی وزراء انتخابی مہم نہ چلائیں تو درخواست کنندہ کو چاہئے کہ وہ دوبارہ ہائی کورٹ میں جائیں اور یہ درخواست کریں کہ جلسے کرنے کی اجازت صرف درخواست دہندہ کو دی جائے ، باقی جماعتوں کو فلاں فلاں وجوہ کی بنا پر منع کردیا جائے کہ وہ انتخابی مہم نہ چلائیں۔ جب تک ایسا نہ ہوگا تقریریں جتنی بھی جذباتی کی جائیں اور الفاظ کتنے بھی شعلہ بار ہوں کسی کو بھی انتخابی مہم چلانے سے نہیں روکا جاسکے گا، کیونکہ الیکشن کمیشن کا وہ حکم معطل ہے جس کے تحت وزیراعظم اور وزراء وغیرہ کو حلقے میں جانے سے روکا گیا تھا، قانونی پوزیشن تو یہی ہے، اگر اس کی توجیہہ کچھ لوگ حسب منشا کرنا چاہتے ہیں تو ان کی مرضی۔ ویسے خواجہ سعد رفیق اور ان کے ساتھی وزراء جوانتخابی مہم چلا رہے ہیں اس میں وہ حلقے کے لئے کسی قسم کی مراعات کا اعلان نہیں کررہے جیسا کہ ماضی کے ضمنی الیکشنوں میں ہوتا رہا کہ اگر کسی حلقے کے ووٹروں کا مطالبہ حلقے میں بجلی لگانے کا تھا تو حلقے میں بجلی کے کھمبے پھینک دیئے گئے، تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ حلقے کو بجلی دی جارہی ہے۔ یہ الگ بات کہ الیکشن جیتنے یا ہارنے کے بعد یہ کھمبے اٹھا لئے گئے اور بجلی کی سپلائی کا معاملہ جوں کا توں رہا۔ ہمارے خیال میں بہتر طرز عمل تو یہ تھا کہ تمام جماعتیں مل کر اس ضابط�ۂ اخلاق کی پابندی کرتیں جس کا اجراء نوٹی فکیشن کی صورت میں الیکشن کمیشن نے 16ستمبر کو کیا تھا ، چونکہ یہ پابندی سب کے لئے یکساں تھی، بھاگنے کے لئے میدان اور گراؤنڈ بھی یکساں تھا کسی کو بھی شکایت نہ ہوتی۔ لیکن جب وہ نوٹی فکیشن ہی معطل ہوگیا اور تحریک انصاف کے امیدوار کی درخواست پر ہوا تو اب گلے شکوے کی گنجائش نہیں۔ اس لئے عمران خان کا بیان سیاسی لحاظ سے کتنا بھی وزن دار ہو، قانونی پہلو سے دیکھا جائے تو تمام جماعتیں اور وفاقی وزراء بھی انتخابی مہم چلا سکتے ہیں اور قانون انہیں اس سے نہیں روکتا، ویسے ایک اہم بات یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے گزشتہ دنوں لاہور کا دورہ کیااور یہاں اپنے صوبے کی کارکردگی بیان کی، تحریک انصاف کے جس دفتر میں بیٹھ کر انہوں نے بات چیت کی وہ بھی حلقہ نمبر 122میں واقع ہے۔ یہ سوال تو ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے صوبے کی کارکردگی نمایاں کرنے کے لئے ان ایام اور اس حلقے کے دفتر کا انتخاب کیوں کیا ؟ کیا ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اپنی جماعت کے امیدوار کے حق میں اس طرح کی بالواسطہ مہم چلانے کے لئے اس لئے آزاد ہے کہ اس کا تعلق تحریک انصاف سے ہے، مسلم لیگ (ن) سے نہیں ہے، جسے عمران خان ہرپہلو سے مطعون کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -