بڑا سیاسی دنگل

بڑا سیاسی دنگل
 بڑا سیاسی دنگل

  

این اے 122میں بڑا سیاسی معرکہ ہونے کو ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے مابین تین روز بعد ہونے والا یہ سیاسی یا انتخابی معرکہ کس کی عزت اور کس کی ذلّت کا فیصلہ کرے گا، یہ تو 11اکتوبر کو ہی معلوم ہو گا، لیکن اس بڑے سیاسی دنگل پر پورے ملک کی نظریں، جس طرح جمی ہوئی ہیں اور میڈیا بھی جس طرح اس بڑے سیاسی یا انتخابی معرکے پر متحرک ہے اور پَل پَل کی خبر دے رہا ہے اُس نے صورتِ حال کو اور بھی دلچسپ بنا دیا ہے۔ اس سیاسی یا انتخابی معرکے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ آج ہر ایک کا موضوع یہی ایک حلقہ ہے۔ اس حلقے کی سیٹ الیکشن ٹربیونل میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی انتخابی عذر داری کے فیصلے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ جس میں این اے 122سے ن لیگ کے کامیاب امیدوار اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کو الیکشن ٹربیونل نے نااہل قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دیا تھا۔ ٹربیونل کے اس فیصلے کے بعد یہ ضمنی الیکشن ہونے جا رہا ہے جس کا فیصلہ ملکی سیاست پر بہت دُوررس نتائج برآمد کر سکتا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف نے اس ضمنی الیکشن کو اپنی انا، وقار اور عزت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) یہ ضمنی الیکشن ہار جاتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ اُن کا یہ الزام درست تھا کہ این اے 122میں زبردست انتخابی دھاندلی ہوئی ہے اور اگر تحریک انصاف کی ہار ہوتی ہے تو یہ عمران خان کے لئے بڑا سیاسی اور اخلاقی دھچکا ہو گا کیونکہ وہ جن چار حلقوں میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی بات کرتے رہے ہیں اُن میں این اے 122 بھی شامل تھا۔ اس طرح پاکستان کے عوام اور تمام میڈیا پرسنز یہ سوال کرنے میں ضرور حق بجانب ہوں گے کہ عمران خان ان چار حلقوں کو لے کر مبینہ ’’انتخابی دھاندلی‘‘ کے خلاف جو تحریک چلاتے رہے ہیں اور جس کے لئے انہوں نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں 126دن کا طویل دھرنا بھی دیا تھا اور جس سے معیشت کا پہیہ جام ہو گیا تھا۔ وہ اب کیا منہ لے کر سیاست کر رہے ہیں، یا سیاست کریں گے۔یہی مسئلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی اب انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اُن کی ہار ہوتی ہے تو وہ یہ کیسے کہہ سکیں گے کہ 2013ء کا الیکشن دھاندلی زدہ نہیں تھا۔ پاکستان تحریک انصاف الیکشن مہم کے سلسلے میں لاہور کے سمن آباد میں ایک بڑا انتخابی جلسہ کر چکی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 9اکتوبر کو ایک بڑے انتخابی جلسے کی تیاری میں ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ہم سب کو اس کا انتظار ہے۔ جیت کس کی ہوتی ہے اور ہار کس کا مقدر بنتی ہے، اس کے لئے اب صرف 72گھنٹے درکار ہیں۔ ایاز صادق اپنی جگہ اور پی ٹی آئی کے علیم خان اپنی جگہ مطمئن اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جیت اُن کی ہو گی۔

تنقید کے نشتر بھی ایک دوسرے پر چل رہے ہیں اور الزامات کی بارش بھی اتنی ہے کہ الاماں۔ کسی کو کسی سے معافی نہیں۔ سب اپنے آپ کو صاف ستھرا قرار دے رہے ہیں۔ اب یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق این اے 122میں دونوں ہی پارٹیوں کا زور ہے۔ ایاز صادق کو دوبارہ اپنی یہ سیٹ جیتنے کے لئے بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ کیونکہ اُن کے مدمقابل جماعت نے اپنی بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے حلقے میں اپنی جگہ بنا لی ہے اور وہ بڑے زوروں پر ہے۔ مسلم لیگ (ن)یہ ضمنی الیکشن جیتنے کے لئے پورا زور لگا رہی ہے، جس کے لئے ایم این اے حمزہ شہباز شریف کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنا دی گئی ہے، جس میں کئی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔ کمیٹی حلقہ این اے 122کی انتخابی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہی ہے، جس کی روزانہ رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو پہنچائی جا رہی ہے۔ حکومتی ذمہ داران پُرامید ہیں کہ یہ سیٹ ایاز صادق کو دوبارہ واپس مل جائے گی اور عمران خاں کو منہ کی کھانے پڑے گی اور اُن کے جیت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے، جبکہ عمران خان بھی یہی کچھ کہہ اور سمجھ رہے ہیں کہ جیت اُن ہی کی ہو گی۔ اس ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فوج اور رینجرز کی تعیناتی کے لئے ایک خط وزارتِ داخلہ کو لکھ دیا ہے ،جس کے بعد امید کی جاتی ہے کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں گے اور کسی فریق یا جماعت کے پاس دھاندلی کا کوئی الزام لگانے کا راستہ باقی نہیں بچے گا۔

مزید :

کالم -