کیا ہم اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں؟

کیا ہم اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں؟
 کیا ہم اپنے حصے کا دیا جلا رہے ہیں؟

  

ہمارے مُلک میں آج تک جتنی بھی حکومتیں برسر اقتدار آئیں ان کا نعرہ اور منشور ایک ہی تھا کہ وہ برسر اقتدار آکر غریبوں اور محروم طبقوں کی فلاح کے لئے دن رات ایک کر دیں گے اور انہیں اتنی سہولتیں دیں گے جتنی ماضی میں کسی نے نہ دی ہوں، ،مگر افسوس کہ حکومتیں آئیں اور چلی گئیں،مگر ان کے نعرے صرف نعرے ہی رہے اور منشور پرعملدرآمد نہ کیا گیا اور اس کی حیثیت صرف ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہ بڑھ سکی۔ مُلک کی ایک بڑی جماعت کی مثال سب کے سامنے ہے کہ جس نے روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگایا اور لوگوں سے ووٹ بٹورے ،مگرپھر دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے پاس نہ روٹی رہی نہ کپڑا اور نہ ہی مکان۔ ایسی ملکی صورت حال میں پاکستان مسلم لیگ کو بھی برسراقتدار آنے کے مواقع میسر آئے ،مگر وہ بھی کوئی قابل قدر کام نہ کر سکی۔ معاشرے کے محروم طبقات پر خاص طور فوکس کیا اور پاکستان مسلم لیگ(ن) انہیں ہر ممکن سہولتیں بہم پہنچانے میں کوشاں ہو گئی۔ حکومت نے برسراقتدار آکرعوامی خدمت سے براہ راست متعلق محکموں کو نئے سرے سے منظم کیا اور انہیں مربوط حکمت عملی کے تحت ایک واضح سمت دی اور وہی محکمے اور ادارے جو غریبوں کی فلاح کے لئے لیت و لعل سے کام لیتے تھے ان کو سہولتیں اور مراعات پہنچانے والے ادارے بن گئے۔

وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف کے غریبوں کی فلاح کے وژن کو عملی جامع پہنانے میں یوں تو تمام محکمے سرگرم عمل ہیں ،مگر ان میں محکمہ زکوٰۃ و عشر سرفہرست ہے، جو صحیح معنوں میں معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے اور غربت کے شکار لوگوں کو ان کے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں پوری لگن سے کام کر رہا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں بہم پہنچانے میں آئے روز انقلابی اقدامات متعارف کروا رہا ہے ۔ محکمہ زکوٰۃ کانام سننے میں جو تصور ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا کام حکومت سے ملنے والی رقم کو زکوٰۃ کی شکل میں غریبوں تک پہنچانا ہے ،مگر وہ اس رقم کوکس طرح استعمال کر کے غریبوں کی فلاح کے لئے کام کر رہا ہے وہ شائد صوبہ کے اکثر لوگ اس بات سے نا آشنا ہیں۔

صوبہ میں فنی تربیت کے خود مختار ادارے پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کو محکمہ زکوٰۃ و عشر کی سرپرستی حاصل ہے اور محکمہ انہیں ہر سال اربوں روپے کے فنڈز فراہم کرتا ہے، جو صوبہ بھر میں قائم 185 ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس، جہاں صرف اور صرف غریبوں اور مستحقین کے بچے اور بچیاں فنی تربیت حاصل کرتے ہیں پر خرچ کئے جاتے ہیں ۔ ان انسٹی ٹیوٹس میں 62 مختلف شعبوں بارے تربیت دی جاتی ہے اور تقریبا ہر سال 68 ہزار سے زائد مستحق طلبہ فنی تربیت حاصل کر کے اپنی عملی زندگی کا آغازکرتے ہیں اور معاشرے کے فعال اور مفید شہری بنتے ہیں ۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق پنجاب ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس سے تربیت حاصل کرنے والے طلبہ کی مارکیٹ میں کھپت کا تناسب ساڑھے67 فیصد ہے جو لائق تحسین ہے ، او ر یہ ادارہ اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد مستحق بچوں اور بچیوں کو فنی تربیت دے کر خود کفالت کی راہ پر گامزن کر چکا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف جو کہ نہ صرف بلا کے مردم شناس ہیں،بلکہ جوہری کی آنکھ رکھتے ہیں نے زکوۃ و عشر کے محکمے کے لئے مُلک ندیم کامران جیسے خداترس اور کچھ کر گزرنے والے شخص کا انتخاب کیا اور انہیں اس محکمے کا وزیر مقرر کیا۔ مُلک ندیم کامران نے موجودہ سیکرٹری حبیب الرحمن گیلانی کے ساتھ مل کر محکمہ میں انقلابی تبدیلیاں کیں اور ان کی مستحقین کی فلاح کے لئے متعارف کروائی گئی پالیسیاں بلا شبہ قابل تعریف ہیں۔ محکمہ میں پہلی بار اس بارے میں سوچا گیا کہ مستحقین اور نادار لوگو ں کو زکوٰۃ دینے کی بجائے انہیں ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی پالیسی متعارف کروائی گئی اور مستحقین کی مستقل بحالی سکیم متعارف کروائی گئی اور پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے زیر انتظام بچوں اور بچیوں کو فنی تربیت فراہم کرنے والے ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس سے فارغ التحصیل طلباء و طالبات کو 50 ہزار روپے سے 2لاکھ وپے تک کی گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ وہ تربیت حاصل کرنے کے بعد دی گئی رقم سے اپنا روزگار کما کر باعزت طور پر اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔ اس انوکھی تجویز اور اس پرعمل درآمد کا سہرا صوبائی وزیر اور سیکرٹری کے سر ہے اور اس ضمن میں اب تک طلبا و طالبات کو 6 کروڑ روپے سے زائد رقم دی جا چکی ہے، جبکہ اس سلسلہ میں مزید 4 کروڑ روپے کا فنڈ بھی قائم کر دیا گیاہے ۔ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس کو جاری کردہ فنڈز کی کسی بھی قسم کی بے قاعدگی کو چیک کرنے کے لئے صوبہ کے تمام ضلعی چیئرمین زکوٰۃ کمیٹیوں کو متعلقہ علاقوں کے انسٹی ٹیوٹس کا معائنہ کرنے کا مجاز بنایا گیا ہے تا کہ قواعد و ضوابط کے خلاف اور کسی بھی قسم کی با قاعدگی پر ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لا ئی جا سکے۔

محکمہ زکوٰۃ میں کئے گئے حالیہ انقلابی اقدامات سے قبل مقامی زکوٰۃ کمیٹیاں مستحقین زکوٰۃ کو گزارا الاؤنس کی ادائیگی بذریعہ کراسڈ چیک کیا کرتی تھیں اور بنکوں کا عملہ مستحقین زکوٰۃ کے اکاؤنٹ کھولنے میں لیت و لعل سے کام لیتا تھا اور صوبہ کے دور دراز کے علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو چیک جمع کروانے، چیک بک کے حصول اور قم حاصل کرنے کے لئے لمبا سفر کرناپڑتا تھا، جس میں کم از کم10 دن درکار ہوتے تھے اوراس پر مستزادیہ کہ چیئرمین مقامی زکوٰۃ کمیٹی کی عدم دستیابی یا عدم دلچسپی اور فیلڈ زکوۃ کلرکوں کی من مانی و بدعنوانی کے باعث زکوٰۃ مستحقین مسائل کاشکار رہتے تھے۔ ان تمام وجوہ کی بنا پر پاکستان میں پہلی بار مستحقین کو زکوۃ فنڈ کی ادائیگی موبائل بینکنگ کے ذریعے شروع کی گئی، جس کے نتیجے میں اب مستحقین زکوٰۃ اپنے گھر کے نزدیک ترین واقع ایزی پیسہ دکان پر جا کر چند منٹوں میں گزارا الاؤنس کی رقم حاصل کر سکتا ہے ۔ اس نئے اور جدید طریقہ کار سے زکوٰۃ کی ادائیگی میں شفافیت کے علاوہ وقت اور وسائل کے ضیاع سے نجات حاصل ہوئی اور انہیں فنڈز کے حصول کے لئے در بدر بھٹکنے سے بھی نجات ملی ہے ۔

مستحقین زکوٰۃ کا 100 فیصد ریکارڈ نہ صرف کمپیوٹرائز ڈ کر دیا گیا ہے، جس سے ان کی شناخت میں آسانی ہوئی ہے، بلکہ فرضی /جعلی مستحقین کا خاتمہ بھی ممکن ہوا ہے، جس کے باعث اب زکوٰۃ کی رقم اصل و حقیقی مستحق تک شفافیت کے ساتھ پہنچناشروع ہو گئی ہے ۔ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی محکمہ زکوٰۃ و عشر معاشرے کے مفلس اور نادار افراد کی کفالت کے لئے جو خدمات سرانجام دے رہا ہے عوام کی اکثریت اس کا ادراک نہیں رکھتی۔ صوبہ بھر میں تقریبات کا انعقاد، اخبارات و الیکٹرانک میڈیا میں تشہیری مہم ، ٹیبل کیلنڈر،بروشرز، معلوماتی کتابچہ جات کی طباعت اور عوام میں ان کی تقسیم کے ذریعے آگہی مہم کے ذریعے لوگوں میں آگاہی پیدا کی جا رہی ہے کہ ان کو زکوٰۃ کی مد میں رقم دینے کی صورت میں اس کا درست اور عین اسلامی اصولوں کے مطابق استعمال یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کے باعث محکمہ کو زکوٰۃ کی رقم دینے میں ہچکچاہت کے شکار مخیر حضرات کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے اور ایسی پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے زکوۃکی رقم دینے والا کوئی بھی شخص کسی بھی وقت یہ معلوم کرسکے گا کہ اس کی دی گئی رقم کب، کہاں اور کتنی استعمال کی گئی ہے ۔ لوگوں کو زکوٰۃ فنڈ میں تعاون کی ترغیب دینے کے لئے ایک کنسلٹنٹ فرم کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں جو عوام کو محکمہ زکوۃ کی طرف سے دی جانے والی خدمات بارے آگہی بھی فراہم کرے گی۔

محکمہ زکوٰۃ نے رضاکارانہ طور پرزکوٰۃ کی ادائیگی کے ضمن میں لوگوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لئے خصوصی مہم کا آغاز بھی کیا ہے اور اس مقصد کے لئے ایک علیحدہ آن لائن اکاؤنٹ بھی کھولا جا چکا ہے اور اس ضمن میں محکمہ کی ویب سائٹ پر کاروباری حضرات اور سمندر پار پاکستانیوں کے لئے معلوماتی کتابچہ موجود ہے اور اسے خواہشمند حضرات کو ای میل بھی کیا جا رہا ہے، جبکہ رضا کارانہ زکوٰۃ بذریعہ ایس ایم ایس وصول کرنے کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ 2013-14 ء میں زکوٰۃ کی رقم 2ارب 83 کروڑ روپے مختص کی گئی تھی، جسے 2014-15ء میں بڑھا کر 3 ارب 33 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے ۔مستحقین زکوٰۃکے علاج معالجہ کے لئے صوبائی سطح کے تمام ہسپتالوں، ضلعی و تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو 15 کروڑ 28 لاکھ روپے کی ششماہی قسط دے دی گئی ہے اور ان ہسپتالوں کے تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وہ علاج و معالجہ کے لئے آنے والے مستحقین سے حسن سلوک سے پیش آئیں اور انہیں اس بات کا قطعا احساس نہ ہونے دیں کہ ان کا علاج کر کے ان پر کوئی احسان کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر مستحق بچیوں کی شادی گرانٹ کی رقم میں 100 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 10,00 سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ گزارہ الاؤنس کی رقم کو بھی 100 فیصد بڑھا دیا گیا ہے، جس سے ایک لاکھ سے زائد مستحقین مستفید ہو رہے ہیں۔ محکمہ زکوٰۃ کی ویب سائٹ کو از سرنومرتب کرتے ہوئے اسے مزید فعال کیا گیا ہے اور مستحقین کی سہولت کے لئے محکمہ کے قواعد و ضوابط، زکوۃکی مختلف مدات کی بابت معلومات، درخواست فارم اور صوبہ بھر کی 24 ہزار سے زائد زکوٰۃ کمیٹیوں کے کوائف بھی فراہم کر دیئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایات و ویژن کے مطابق محکمہ زکوٰۃ و عشر مستحقین اور نادار افراد کی فلاح اور انہیں مفت فنی تربیت فراہم کر کے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور معاشرے کا مفید اور کارآمد شہری بنانے میں کوشاں ہے اورجو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکومت غریب اور نادار افراد کے ساتھ انتہائی مخلص ہے اور ان کی بحالی میں پوری طرح سنجیدہ ہے اور اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے ،مگرحکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کو اپنا حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے اس نیک کام میں حصہ ڈال کر محروم طبقوں کو غربت سے نکال کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہو گا تا کہ وہ بھی ہمارے شانہ بشانہ نہ صرف اچھی اور خوشحال زندگی گزرا سکیں اور زکوٰۃ لینے والوں کی بجائے زکوٰۃ دینے والے بن جائیں۔

مزید :

کالم -