تفتیشی افسروں نے رویہ نہ بدلا تو آئی جی کو ہر روز ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائیگا: ہائیکورٹ

تفتیشی افسروں نے رویہ نہ بدلا تو آئی جی کو ہر روز ذاتی حیثیت میں طلب کیا ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹرجسٹس مظہر اقبال سدھو اورمسٹر جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ضمانت کے مقدمات میں متعلقہ تفتیشی افسروں کے خودپیش نہ ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ریکارڈ لے کر آنے والے دو تھانوں کے افسروں کو عدالتی تحویل میں لے لیا۔فاضل بنچ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو وضاحت کے لئے فوری طور پرپیش ہونے کا حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر تفتیشی افسران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آئی جی پنجاب کو ہر روزذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کیا جائے گا۔ فاضل بنچ نے تفتیشی افسر کی عدم حاضری کے حوالے سے غلط بیانی کرنے پر تھانہ سول لائنز گجرات کے سب انسپکٹر بشارت اوراے ایس آئی عنصر کو عدالتی تحویل میں لے لیا،اسی طرح تھانہ سبزی منڈی گوجرانوالہ کے تھانہ محرر ملک جعفر بشیرکو بھی عدالتی تحویل میں لیاگیا،عدالتی حکم پر تحویل میں لئے گئے پولیس اہلکاروں کے ذاتی موبائل فونز اورمقدمات کا ریکارڈ بھی عدالتی اہلکاروں نے قبضے میں لے لیا،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پولیس اہلکاروں نے سچ نہ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے،نذرانے لے کر عام آدمی کے خلاف جھوٹے مقدمے درج کرنا اورعدالتوں سے جھوٹ بولنا پولیس اہلکاروں نے اپنا شیوا بنا رکھا ہے۔وقفہ کے بعد ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی جگہ ایس ایس پی سیکیورٹی اطہر وحید عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت نے ایس ایس پی سیکیورٹی سے کہا کہ ضمانت کے مقدمات میں تفتیشی افسر خود پیش نہیں ہوتے بلکہ کسی دوسرے افسر کے ہاتھ ریکارڈ بجھوادیتے ہیں جس سے مقدمات کے بروقت فیصلے نہیں ہوپاتے ۔فاضل بنچ نے مزید کہا کہ اگر تھانے داروں کی کمی ہے تو مزید بھرتیاں کرلی جائیں لیکن نظام عدل کا بیڑا غرق نہ کیا جائے ۔ایس ایس پی سیکیورٹی نے یقین دہانی کروائی کہ تفتیشی افسروں کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا پابند بنایا جائے گا ۔فاضل بنچ نے قرار دیا کہ اگر تفتیشی افسران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو آئی جی پنجاب کو ہر روزذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کیا جائے گا،فاضل بنچ نے تحویل میں لئے گئے پولیس افسروں کو معافی طلب کرنے پر وارننگ دے کر رہا کردیا۔

مزید :

صفحہ آخر -