امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے بارے میں تشویش ہے: مارک ٹونر

امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے بارے میں تشویش ہے: مارک ٹونر

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیوریو چیف) امریکہ کو پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی موجودہ نوعیت پر تشویش ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن اور استحکام کے قیام کے لئے اس میں بہتری بہت ضروری ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے یہاں معمول کی پریس بریفنگ میں یہ ریمارکس ایک بھارتی صحافی کے متعدد تفصیلی سوالات کے جواب میں دئیے۔ سوال کنندہ بھارتی وزیر اعظم نر نیدر مودی کے سلی کون و یلی سمیت امریکہ کے سفرکاری دورے، امریکہ بھارت تعلقات اور خطے کی سکیورٹی صورت حال پر امریکہ کا سرکاری تبصرہ چاہتے تھے۔ بھارتی صحافی نے ایک سوال پوچھتے ہوئے پاکستانی حکومت پر تنقید اور نرنیدر مودی کی پالیسیوں کی حمایت کا موقع پیدا کر لیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم نواز شریف ساٹھ سال پیچھے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی پریس بھی ان سے پوچھتا ہے کہ وہ بار بار امریکہ کیوں آتے ہیں اور ہمیشہ ساٹھ سال پرانی بات کیوں کرتے ہیں۔ جب کہ بھارت ساٹھ سال آگے کی بات کر رہا ہے بھارتی صحافی امریکی ترجمان کو جس طرف لے جانے کی کوشش کر رہے تھے وہ اس طرف نہیں گئے۔ تا ہم ان کا جواب یہ تھا ہمارے بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں اور بہتر ہو رہے ہیں۔ جیسا کہ صدر اوبامہ نے کہا ہے بھارت میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اکیسویں صدی کی ایک بڑی عالمی طاقت بن سکتا ہے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی سمیت تمام معاملات پر ہمارا تعاون مزید گہرا ہو۔ فلسطین کی صورت حال کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بھی امریکی ترجمان نے ایک اہم بیان دیا۔ اقوام متحدہ کے حلقوں میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہ اگر دریائے اردن کے مغربی کنارے پر مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرار داد پیش کی گئی تو امریکہ اس مرتبہ اسے ویٹو نہیں کرے گا۔ اس سلسلے میں جب سوال پوچھا گیا تو امریکی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ افواہ درست نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے سرکاری موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی نظر میں ان بستیوں کی تعمیر ناجائز ہے جس سے امن کے عمل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ ترجمان کے بیان سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے اس معاملے میں اندرون خانہ اسرائیل کے ساتھ سخت رویے کا اظہار کیا ہے لیکن وہ اس معاملے کو فی الحال پبلک میں زیر بحث نہیں لانا چاہتے۔

مزید :

صفحہ آخر -