رینجرز کیخلاف اشتہارات ،’’بات نکلے گی تو دور تک جائے گی ‘‘

رینجرز کیخلاف اشتہارات ،’’بات نکلے گی تو دور تک جائے گی ‘‘

  

کراچی(تجزیہ/نعیم الدین):

گذشتہ ہفتے سے دو ایشوز پر میڈیا کی نظریں جمی ہوئی تھیں جن میں قومی ایئر لائن میں پائلٹوں کی ہڑتال کا مسئلہ جو کہ اب حل ہوگیا، جس کے باعث ہزاروں مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا تھا اور ٹرینوں پر بھی اس کے اثرات تھے ۔ یہ ٹرینیں بھر بھر کر آرہی تھیں، جبکہ نجی ایئرلائنز اور بسوں پر بھی اس کا اثر تھا ، اور مسافروں سے من مانے کرائے وصول کیے جاتے رہے۔ اﷲ اﷲ کرکے یہ مسئلہ حل ہوگیا ۔ جبکہ دوسری جانب پورے ملک میں ضمنی انتخابات کو انتہائی اہمیت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے، اور عوام ان انتخابات کے سلسلے میں یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اگر اس حلقے سے جس جماعت کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کے مستقبل میں آنے والے الیکشن پر مثبت اثرات پیدا ہونگے۔ گذشتہ مہینوں میں کراچی کے حلقہ این اے 246 کی نشست جو کہ نبیل گبول کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی، اس پر ہونے والے ضمنی انتخابات پورے ملک میں اہمیت اختیار کرگئے تھے، کیونکہ یہ حلقہ ماضی میں ایم کیو ایم کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا اور اس نشست پر بھی انا کا مسئلہ بنایا گیا تھا ۔ بالکل اسی طرح اس وقت پنجاب میں حلقہ این اے 122 میں ضمنی الیکشن انا کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ اور اس پر دونوں جماعتوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اور اس نشست پر پورے ملک کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اور جو بھی پارٹی یہاں سے کامیابی حاصل کریگی، اس کے آئندہ ہونے والے عام انتخابات پر اور بلدیاتی انتخابات پر گہرے اثرات نمایاں ہونگے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نشست پر اب تک انتخابی مہم پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی جماعت یہاں سے کامیاب ہوتی ہے۔ جبکہ دوسری جانب سندھ میں بدعنوانی، کرپشن اور دہشتگردی کے خلاف رینجرز اور دیگر اداروں کی مہم جاری ہے۔ گذشتہ دنوں سندھ پولیس کی جانب سے شائع ہونے والے گمشدگی کے اشتہارات سے کھلبلی مچ گئی، اور جس کا وزیرداخلہ سندھ نے فوری طور پر ایکشن لیا۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان اشتہارات کی اشاعت سے ایسا لگتا ہے کہ رینجرز اور سندھ پولیس کے درمیان برتری کا مقابلہ ہے، اور شاید ان اشتہارات میں رینجرز کا نام استعمال کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ غلطی سرزد ہوئی ہے ، تحقیقات کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔

مزید :

تجزیہ -