گندم کے بابیچ فراہمی کیلئے مختص فنڈ میں 1روپے اضافہ کی منظوری

گندم کے بابیچ فراہمی کیلئے مختص فنڈ میں 1روپے اضافہ کی منظوری

  

 پشاور( پاکستان نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے موجودہ صوبائی حکومت کے انصاف فوڈ سیکورٹی پروگرام کے تحت صوبے کے کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا تصدیق شدہ گندم کا بیج مفت فراہم کرنے کی غرض سے رواں مالی سال کیلئے مختص شدہ 19 کروڑ روپے کی رقم میں ایک ارب روپے کا اضافہ کرنے کی منظوری دے دی ہے یہ رقم صوبہ پنجاب سے تصدیق شدہ بیج کی خریداری کیلئے استعمال کی جائے گی جو صوبے کے ایک سے ساڑھے بارہ ایکٹرزرعی اراضی رکھنے والے کاشتکاروں میں مفت تقسیم کیا جائے گا یہ منصوبہ صوبے کو گندم کی پیداوار میں خود کفیل بنانے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کے ایجنڈے کا حصہ ہے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں گندم کی پیداوار مزید بڑھانے کیلئے آئندہ مالی سال سے کسانوں کو کھادوں پر سبسڈی بھی دی جائے گی بدھ کے روزوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں انصاف فوڈ پروگرام کے تحت کسانوں کو گندم کا مفت بیج فراہم کرنے کے انتظامات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ اعانتی نرخوں پر کسانوں کو زرعی کھادیں فراہم کرنے کے حوالے سے مالی معاملات اور اس مجوزہ سکیم سے کسانوں کو ہونے والے فوائد کا جائزہ لیکر تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ سکیم کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا جا سکے اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت اکرام اﷲ گنڈا پور، زراعت کی پارلیمانی سیکرٹری زرین ضیاء، ارکان صوبائی اسمبلی سمیع اﷲ خان و ارباب جہانداد خان، زراعت اور منصوبہ بندی و ترقیات کے سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی وزیراعلیٰ نے محکمہ کو ہدایت کی کہ وہ گندم کے معیاری ، مفید اور تصدیق شدہ بیج کی تیاری میں بھی خود کفالت حاصل کرنے کے اقدامات کریں اور مفت بیج کی فراہمی کی سکیم کے اہداف میں تصدیق شدہ بیج کی پیداوار میں خود کفالت کو بھی شامل کریں انہوں نے کہاکہ چونکہ ہر سال گندم اور اس کے بیج کی پنجاب سے درآمد پر خیبرپختونخوا کے خزانے سے بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے اسلئے صوبے کی ضروریات کے مطابق مقامی طور پر گندم پیدا کرنا ہماری ناگزیر ضرورت بن چکی ہے اور اسی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے 3.77 ارب روپے کی لاگت سے تین سالہ انصاف فوڈ سیکورٹی پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت کسانوں کو مفت بیج فراہم کیا جا رہا ہے اور اس کے بدلے میں کسانوں کو اپنی گندم کی پیداوار کا 50 فیصد حصہ صوبائی حکومت کو فروخت کرنا ہو گا جس سے صوبہ اپنے ضرورت کی تمام گندم مقامی طور پر پیدا کرنے کے قابل ہو سکے گاوزیراعلیٰ نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی کہ وہ تخم کی خریداری اور اس کی کسانوں کو فراہمی کے عمل کو تیز کرے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس سکیم سے صوبے کے 9 لاکھ 78 ہزار کسانوں کو فائدہ پہنچے گا اور اس سے صوبے میں گندم کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ہو گا اجلاس میں مفت بیج کی فراہمی کیلئے کسانوں کی اہلیت کی بھی منظوری دی گئی جس کے مطابق ایک سے ساڑھے بارہ ایکٹر اراضی رکھنے والے کاشتکار یہ بیج مفت حاصل کر سکیں گے اور محکمہ زراعت اور مال کے ضلعی افسر بیج کے حصول کیلئے دی گئی درخواستوں کی جانچ پڑتال کریں گے جبکہ بیج کی تقسیم کا کام ضلعی سطح کی کمیٹیوں کے سپر د کیا گیا ہے جن میں بلدیاتی اداروں کے کسان کونسلر بھی شامل ہوں گے اجلاس کو بتایا گیا کہ بیج کے حصول کیلئے اب تک 20 ہزار ٹن بیج کی طلب آچکی ہے جبکہ محکمہ زراعت نے 16 ہزار تین سو ٹن بیج کی خریداری کے انتظامات کئے ہیں اجلاس کومزید بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت تین سالوں میں صوبہ بھر میں 9 لاکھ 78 ہزار ایکڑ اراضی پر گندم کا شت کی جائے گی ۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -