مہمند ایجنسی قبائل اور پولیٹیکل انتظامیہ کا مشترکہ جرگہ

مہمند ایجنسی قبائل اور پولیٹیکل انتظامیہ کا مشترکہ جرگہ

  

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، امبار اتمان خیل قبائل کا پولیٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مشترکہ جرگہ۔ امن بحالی کے بعد عوامی مسائل اور ضروریات کیلئے مشاورت اور ٹھوس اقدامات اُٹھانے کی پالیسی بنانے پر اتفاق۔ قبائلی عمائدین کا انتظامیہ اور فورسز کے ساتھ بھر پور تعاؤن جاری رکھنے کا اعلان۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں غیر حاضر ملازمین ، تعلیمی و صحتی اداروں کو فعال بنایا جائیگا۔ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے کا دور گزر چکا ، خلاف ورزی پر فارغ کئے جائینگے۔ پی اے مہمند وقار علی خان کا جرگے سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی لوئر سب ڈویژن کے ہیڈ کوارٹر یکہ غنڈ ریسٹ ہاؤس میں دور افتادہ تحصیل امبار کے قبائلی مشران کا ایک بڑا قبائلی جرگہ منعقد ہوا۔ جسمیں مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ وقار علی خان ، لیفٹیننٹ کرنل محمد رحیم، اے پی اے لوئر سب ڈویژن نوید اکبر، ملک ساف خان، ملک عزت خان، اتمان خیل، سابقہ ایم این اے مولانا غلام محمد صادق، سابق سنیٹر حافظ رشید احمد، ملک شمس الرحمان سمیت امبار کے تمام قبیلوں کے سرکردہ مشران نے شرکت کی۔ قومی مشران نے خطاب کرتے ہوئے پولیٹیکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز حکام کو غیر مشروط تعاؤن کا یقین دیا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات، اور علاقے کے سکول ، ہسپتال، سڑکوں کی تعمیر، ماربل صنعت کو فروغ ، مسمار شدہ مکانات کے معاوضے اور شناختی کارڈ و ڈومیسائل کے بارے میں اقدامات اُٹھانے کی اپیل کی۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے پی اے مہمندوقار علی خان اور لیفٹیننٹ کرنل محمد رحیم نے امبار کے عمائدین کو مکمل تعاؤن کا یقین دلایا۔ پی اے مہمند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو قبائل کی بنیادی ضروریات اور مسائل کا پوری طرح احساس ہے۔ اور پہلے مرحلے میں سکول اور ہسپتال کی فعالیت اولین ترجیح ہے۔ ایجنسی بھر میں ہیلتھ اور ایجوکیشن میں بہتری لانے کی غرض سے غیر فعال اور غیر حاضر ملازمین کو ڈیوٹی پر نہ آنے کی صورت میں فارغ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مشران کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر بیٹھے حکومت سے تنخواہ لینے والوں کی نشاندہی کیا کریں۔ اور حل طلب مسائل کے حوالے سے ختمی مشاورت کیلئے بہت جلد مہمند ایجنسی کے تمام تحصیلوں اور تمام اقوام کا ایک مشترکہ گرینڈ جرگہ منعقد ہوگا۔ اور منظم طریقے سے ترقیاتی عمل تیز کرنے کیلئے لائحہ عمل تیار کیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -