بیلجیم پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کا خواہش مند

بیلجیم پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کا خواہش مند

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)بیلجیم کے سفیر فریڈرک ورہائیڈن نے کہاہے کہ بیلجیم کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی12صف اول کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح تجارتی وفد پاکستان کے دورے پر ہے جس کا مقصد دونوں ملکوں کی تاجربرادری کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے حوالے سے مواقع تلاش کرنا ہے۔یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی ) کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب میں کہی۔ اس موقع پربیلجیم سفارتخانے کے ٹریڈ کمشنر،معاشی و تجارتی نمائندے عابد حسین ،ایریا منیجربرائے مرکزی جنوبی ایشیا مس کیرین ڈی وی لیشوائر(Ms.Karine de Vleeschouwer)، کے سی سی آئی کے صدر یونس محمد بشیر، سینئر نائب صدر ضیاء احمد خان، نائب صدر محمد نعیم شریف، سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔بیلجیم کے سفیر نے کہاکہ پاکستان کی مختلف کمپنیوں کے نمائندوں نے بھی گزشتہ ماہ بیلجیم کا دورہ کیا تھا اور اب بیلجیم کا وفد یہاں آیا ہے جو انجینئرنگ، انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اسٹیل، المونیم،صحت عامہ، میٹالک اوروڈ اسکریپ ری سائیکلنگ،لکڑی و شہتیر، ڈیری مصنوعات، کارگو لاجسٹکس، آلو کی پروسسینگ اور صنعتی آلات کے شعبوں میں تجارت کے فروغ کے مواقعوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ یورپین یونین میں بیلجیم پاکستان کا پانچواں بڑا تجارتی شراکت دار ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا خواہش مند ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں مذید کوششوں کی ضرورت ہے اور ہم تجارت کے موجود ہ حجم میں مزید اضافے کے لئے کوششیں کررہے ہیں۔ قبل ازیں کے سی سی آئی کے صدر یونس محمد بشیر نے بیلجیم کے سفیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ کراچی چیمبر بیلجیم کے ساتھ دوطرفہ تجارت کے فروغ اور کاروبار کی نئی راہیں تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔کراچی میں امن وامان کی صورتحال اب مسئلہ نہیں رہا اور یہ سب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیام امن کے حوالے سے مؤثر کوششوں کا نتیجہ ہے جس کے ہم مشکور ہیں۔انہوں نے کہاکہ شہرِ کراچی قومی خزانے میں60فیصد سے زائد ریونیو جمع کرواتا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بھی پرکشش ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاریہاں کاروبار اور مشترکہ شراکت داری کے ذریعے یقینی طور پر خاطر خواہ منافع کما سکتے ہیں۔یونس بشیر نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بیلجیم بہترین تجارتی تعلقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین موجودہ تجارتی حجم دستیاب مواقعوں کے مطابق نہیں۔انہوں نے بتایاکہ گزشتہ سال 471.56ملین ڈالر مالیت کی برآمد کی گئی مصنوعات کی نسبت پاکستان نے مالی سال2015کے دوران 496.01ملین ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمدکیں جو5فیصد اضافے کو ظاہرکرتی ہے۔ 2015 میں بیلیجم سے 328.01ملین ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کی گئیں جبکہ مالی سال2014کے دوران427.76ملین ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کی گئی تھیں جس سے 23فیصد تنزلی ظاہر ہوتی ہے تاہم تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے لیکن تجارتی حجم800ملین ڈالر سے تھوڑا ہی زیادہ ہے جو بہت کم ہے۔دونوں ممالک کو اس ضمن میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی چیمبر پاکستان اور بیلجیم کی تاجربرادری کے درمیان دوستانہ تعلقات ، باہمی افہام وتفہیم اور کاروبار کو فروغ دینے کے علاوہ پاکستان میں بیلجیم کی سرمایہ کاری میں اضافے کا خواہش مند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کراچی چیمبر اورفیڈریشن آف بیلجیم چیمبرز آف کامرس کے درمیان باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ دونوں چیمبرز کوتجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق معلومات اور تفصیلات ، اقتصادی اعدادوشمار کے بارے میں ممبران کو آگاہی فراہم کرنی چاہیئے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے حوالے سے باہمی دلچسپی کا باعث ہے۔انہوں نے بیلجیم کی کمپنیوں کو کراچی چیمبر کے زیر اہتمام اگلے سال اپریل میں منعقد ہونے والی 13ویں سالانہ ’’ مائی کراچی‘‘ نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ تین دن جاری رہنے والی یہ نمائش بیلجیم کے تاجروصنعتکاروں کے لیے اپنی مصنوعات کی تشہیر اور کراچی کی تاجربرادری کے ساتھ بزنس ٹو بزنس میٹنگز کے ذریعے مضبوط تعلقارت استوار کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

مزید :

کراچی صفحہ آخر -