ضلع کونسل چارسدہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے صوبائی حکومت اور ناظم کیخلاف طبل جنگ بجا دیا

ضلع کونسل چارسدہ میں اپوزیشن پارٹیوں نے صوبائی حکومت اور ناظم کیخلاف طبل جنگ ...

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) ضلع کونسل چارسدہ کے اپوزیشن پارٹیوں نے ضلع ناظم اور صوبائی حکومت کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ۔ ضلع کونسل کا اجلاس طلب کرنے کیلئے دس دن پہلے ریکوزیشن جمع کی ہے مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ بلدیاتی الیکشن پر قومی خزانہ سے اربوں روپے خرچ کئے گئے مگر ابھی تک بلدیاتی اداروں کیلئے رولز آف بزنس موجود نہیں ۔صوبائی حکومت ، ڈپٹی کمشنر اور ضلع ناظم کے خلاف احتجاجی تحریک اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کونسل چارسدہ میں عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام پر مشتمل اپو زیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس اے این پی کے ضلعی سیکرٹریٹ میں منعقد ہو ا۔ اجلاس میں اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام سے وابستہ 34ممبران نے شرکت کی ۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے اپو زیشن لیڈر قاسم علی خان محمد زئی اور جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر نور الامین نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 2013میں بلدیاتی نظام وضع کیا اور اس حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے ۔ سپریم کورٹ کے حکم پر صوبائی حکومت نے 30مئی کو بلدیاتی انتخابات کا انعقا د کیا جس پر قومی خزانے سے اربو ں روپے خرچ ہوئے ۔ بلدیاتی انتخابات مکمل ہوئے پانچواں مہینہ شروع ہو چکا ہے مگر ابھی تک بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات کا تعین نہیں کیا گیا جبکہ بلدیاتی اداروں کے حوالے سے رولز آف بزنس بھی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے منتخب عوامی نمائندوں کو عوام کے مسائل حل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے کونسلروں نے بھی اپوزیشن سے رابطہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکو مت اپنے ایم پی ایز کے دباؤ کی وجہ سے بلدیاتی اداروں سے اختیارات واپس لینے کی سازش کر رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر بلدیاتی نظام میں تبدیلیوں کے اعلانات ہو رہے ہیں ۔ انہوں نے بجلی و سوئی گیس لوڈ شیڈنگ ختم کرنے اور ولی خان سپورٹس کمپلکس عوام کیلئے کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے ضلع کونسل کا اجلاس فوری طو ر پر طلب کرنے ،بلدیاتی اداروں کے رولز آف بزنس کی فوری فراہمی ، ضلع ناظم سمیت تحریک انصاف کے کونسلروں کی ریاستی اداروں میں بے جا مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر اپوزیشن ڈپٹی کمشنر چارسدہ اور ضلع ناظم کو دفاتر میں بیٹھنے نہیں دینگے اور احتجاجی تحریک کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائیگا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -