ٹانک ،محرم الحرام آمد ،سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کر لئے گئے

ٹانک ،محرم الحرام آمد ،سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کر لئے گئے

  

ٹانک(بیورورپورٹ)محرم الحرام میں سیکورٹی انتظامات کو فول پروف بنانے کے لئے ٹانک پولیس نے سیکورٹی پلان تیار کر لیا ضلع بھر کو تین سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے موٹر سائیکل کی ڈبل سواری سمیت اشتعال انگیز تقاریر ،وال چاکیکنگ پرپابندی عائد ہو گی ڈسٹرکٹ پولیس آفسیر ٹانک رسول شاہ نے سیکورٹی پلان کے حوالے سے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ محرم الحرام کے لئے پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سیکورٹی پلان تیار کر لیا گیا ہے اور ضلع بھر کو تین سیکٹرز میں تقسیم کر دیا گیا ہے تینوں سیکٹرز کے انچارج ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز رینک کے افسران ہونگے انہوں نے بتایا کہ ٹانک پولیس کے 984اہلکار بیک وقت محرم الحرام کے دوران مستعدی سے اپنے فرائض سر انجام دیں گے جبکہ نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 453پولیس اہلکا ر وں کی ڈیمانڈ کی گئی ہے تاکہ 1441پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی سر انجام دے سکیں ان کا کہنا تھا کہ یکم محرم الحرام سے ٹانک کے نو امام بارگاہوں پر بھاری نفری تعینات کر دی جائے گی جو امام بارگاہوں پر سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے ٹانک میں شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اورسیکورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لئے پاک آرمی کی ایک کمپنی ،ایف سی کی ایک پلاٹون،ایف آر پی کی چھ پلاٹونیں اور چالیس لیڈی کانسیبلز کے لئے حکام سے درخواست کی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ دسویں محرم الحرام کے دن جلوس والی گزر گاہوں والے راستوں کومکمل طور پر سیل کیا جائیگا جبکہ جلوسوں کے گزرنے سے پہلے جلسوں کی گزرگاہوں کو بم ڈسپوزل اسکوارڈ کے عملہ کے ذریعے کلئیر کروایا جائے گا بعد میں جلوسوں کو آگے کی جانب جانے کی اجازت دی جائے گی انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کو محکمہ پولیس کی جانب سے مخصوص قسم کے کارڈ جاری کئے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی کا اندیشہ نہ ہو۔ ڈی پی او کا بتانا تھا کہ پولیس کو ان دہشت گردوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جو ضمانتوں پر رہا ہوئے ہیں جبکہ ضلع بھر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی باہر سے آنے والے مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھنے اور گاڑیوں کی سخت چیکنگ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے محرم الحرام کے 37جلوسوں اور 90مجالس پولیس کی سخت سیکورٹی میں اختتام پذیر ہو نگے انہوں نے بتایا کہ شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے وہ علماء اور زاکرین جن پر حکومت نے پابندی لگائی گئی ہے ان کا ٹانک میں داخلہ ممنوع ہو گا کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے ڈی پی او آفس میں ایک کنٹرول قائم کیا جائیگا جو 24گھنٹے کام کرے گا اور تمام ہدایات حکام تک پہنچائیگاڈسٹرکٹ پولیس آفسیر کا مذید کہنا تھا کہ دسویں محرم الحرام کے دن ٹانک کے تمام داخلی اور خارجی راستوں کو سیل رکھا جائیگااور ناکہ بندیا ں انتہائی سخت کر دی جائیں گی پولیس کے جوانوں کا پیدل گشت بڑھا دیا جائے گا پولیس کو فول پروف سیکورٹی کے لئے پاک آرمی کی بھی مکمل مدد حاصل رہے گی اور کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لئے پاک فوج پولیس کو مدد فراہم کرے گی انہوں نے کہا کہ ٹانک میں سیکورٹی کے لئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کا مقصد شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اس لئے شیعہ اور سنی اکابرین محرم الحرام کے دوران قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ محرم الحرام ٹانک میں امن و امان کے ساتھ اختتام پذیر ہو سکے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -