پشاور پولیس کی من مانی ،شہر میں ایف سی آرنافذ

پشاور پولیس کی من مانی ،شہر میں ایف سی آرنافذ

  

پشاور(کرائمز رپورٹر)پشاور میں پولیس نے اپنی نااہلی چھپانے اور فوری کاروائی کا ریکارڈ ظاہر کرنے کیلئے ایس سی آر قانون نافذ کردیا،تھانہ شاہ قبول کا ایس ایچ او ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے ہیں ملزمان کے دو قریبی رشتہ داروں کو اٹھا کر تھانے لے گیا متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس نے مبینہ طور پر مخالف فریق کے ساتھ مل کر ان کے رشتہ داروں کیخلاف جھوٹے مقدمے کا جال بچھایا اور پھر مبینہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے کم عمر لڑے سمیت قریبی رشتہ داروں کو اٹھا کر لے گئی متاثرہ شہری عاظم نعمان ولد انجم جاوید کے مطابق پیر کی شام وہ اندرونی آسیہ گیٹ بازار میں اپنی پکوڑوں کی دکا ن پر موجود تھا کہ ایس ایچ او تھانہ شاہ قبول پولیس موبائل میں آیا اور پوچھا کہ جمیل تمہارا کیا لگتا ہے اس نے جواب میں چچا کہا تو ایس ایچ او اسے مزید کچھ کہے بغیر اٹھا کر تھانے لے گیا اورکہا کہ تمہارے چچا کیخلاف ایف آئی آر ہے اسے پیش کرو تو تمہیں چھوڑ دیں گے بعد میں لواحقین کے تھانے پہچنے پر کہا کہ اس سے رشتہ داروں کے بارے میں تفتیش کرنی ہے تاہم مبینہ ملزم جمیل کیخلاف ایف آئی آر رات ساڑھے آٹھ بجے کاٹی گئی جس کے تحت عاصم نعمان کے چچا جمیل نے مبینہ طور پر اپنے داماد کو زہریلا قہوہ پلایا تھا متاثرہ شہری عاصم نعمان کے مطابق علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد تھانے پہنچ جانے کے بعد ایس ایچ او اپنی جان خلاصی کیلئے اس کے خلاف دفعہ 107 کے تحت استغاثہ میں چارج کرلیا اس کے ساتھ رات ساڑھے دس بجے محلہ ڈانڈیان میں مکان پر چھاپہ مار کر کم عمر لڑکے محمد نعمان ولد محمد اشرف کو بھی گھر سے اٹھا لیا متاثرہ شہری کے مطابق پولیس اسے جان بوجھ کر جھوٹے مقدمے میں پھنسا رہی ہے اورایف سی آر کا قانون بندوبستی علاقے میں نافذ کرکے شریف شہریوں کو گھروں اور کاروباری مراکز سے اٹھا رہی ہے جس سے شہریوں کو توہین اور شدید ہنی کوفت میں مبتلا کردیا گیا ہے جبکہ ملزمان کو پیش کرنے کیلئے بے جا دباؤ بھی ڈالا جارہا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور آئی جی پولیس ناصر خان درانی سے ایس ایچ او کی من مانی کا نوٹس لینے اور مبینہ صورتحال میں پولیس سے تحفظ دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -