نشتر لیب سکینڈل کیس اینٹی کرپشن کے سپرد، ملوث اہلکار معاملہ دبانے کیلئے متحرک

نشتر لیب سکینڈل کیس اینٹی کرپشن کے سپرد، ملوث اہلکار معاملہ دبانے کیلئے ...

  

ملتان (جنرل رپورٹر) نشتر ہسپتال کی سنٹرل لیب میں ہونیوالی مالی بے ضابطگیوں کی شکایت پر ایم ایس ڈاکٹر عاشق حسین ملک کا سخت نوٹس، سنٹرل لیب کی کرپشن کا پہلا کیس اینٹی کرپشن بھجوا دیا گیا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ چند روز تک مزید ایک اور کیس لیب میں ہونیوالی کرپشن کے حوالے سے کیس اینٹی کرپشن کو بھیجا جائے گا۔ واضح رہے کہ (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

چند روز قبل سنٹرل لیب میں عارضی بھرتی پر تعینات کمپیوٹر آپریٹر حسن نے اصغر نامی شخص سے ٹیسٹوں کی فیس کی مد میں 3500 روپے وصول کئے تھے۔ جس پر اصغر نامی شخص نے احتجاج کیا تو اسے دوبارہ 220روپے کی رسید تھام دی گئی۔ جسکی درخواست متاثرہ شخص نے ایم ایس نشتر کو دی اور ایم ایس نشتر نے درخواست مزید کارروائی کیلئے اینٹی کرپشن کو بھجوا دی ہے اور آئندہ چند روز تک نشتر انتظامیہ ایک اور کیس اینٹی کرپشن کو بھجوائے گی۔ نشتر سنٹرل لیب کے سابق ایڈمن رجسٹرار ڈاکٹر اطہر حشمت نے لیبارٹری میں مالی بے ضابطگیوں کے معاملے کو دبانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کر دیا تھا۔ سنٹرل لیب کے ملازمین کا کہنا ہے کہ اسٹینو امجد کا پتھالوجی شعبہ میں تبادلہ ہونے کے باوجود بھی اس نے سنٹرل لیب کا چارج نہیں چھوڑا ہے۔ جس نے لیبارٹری کے دیگر ملازمین پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ ڈاکٹر اطہر حشمت کا کہنا ہے کہ کسی بھی طرح کرپشن کے معاملہ کو دبایا جائے اور جب تک لیبارٹری کا آڈٹ نہیں ہو جاتا تب تک اس معاملے کو کسی بھی طرح میڈیا میں اچھالنے سے روکا جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نشتر لیب کے ملازمین کو کل آمدن کا 20 فیصد شیئر دیا جاتا تھا۔ لیکن سابق ایڈمن رجسٹرار نے ملازمین کے شیئر کی رقم 20فیصد کی بجائے 3سے 10فیصد دینا شروع کی اور باقی تمام رقم لیبارٹری کیلئے بنائے گئے۔ خود ساختہ ویلفیئر فنڈ میں جمع کرواتے تھے اور اس ویلفیئر فنڈ کا غلط استعمال کیا جاتا تھا اور اسی رقم سے افسران کو خوش کرنے کے لئے تحفہ تحائف دیئے جاتے تھے اور اب رواں ماہ کا شیئر اس وجہ سے روکا گیا ہے کہ آڈٹ کرنے والے ٹیم کو اس میں سے مٹھائی دینی ہے۔ ملازمین نے ایم ایس نشتر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبارٹری سے ملنے والے شیئر کو بھی نوٹس لیں۔ تاکہ ملازمین کو شیئر کی پوری رقم مل سکے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -