مقتول محمد اخلاق کے گاﺅں پر ہندو انتہا پسندوں کا دھاوا‘ کیس برابر کرنے کیلئے اپنا ورکر مار ڈالا

مقتول محمد اخلاق کے گاﺅں پر ہندو انتہا پسندوں کا دھاوا‘ کیس برابر کرنے ...
مقتول محمد اخلاق کے گاﺅں پر ہندو انتہا پسندوں کا دھاوا‘ کیس برابر کرنے کیلئے اپنا ورکر مار ڈالا

  

نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع دادری میں نئی دہلی سے محض 45 کلومیٹر دور گاﺅں بسارا میں محض گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر جنونی ہندوﺅں کے حملے میں مسلمان محنت کش محمد اخلاق کو شہید کرنے کے واقعہ کے 10 روز بعد بھی کشیدگی عروج پر ہے۔ گاﺅں میں محمد اخلاق کے گھر والوں سمیت چند مسلمان گھرانے محصور ہو کر رہ گئے گلیوں میں ہندو انتہا پسند دندناتے پھرتے ہیں جبکہ پولیس نے اہم چوکوں اور راستوں پر پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں۔ ادھر بی جے پی آر ایس ایس اور ان کی حمایت یافتہ ہندو تنظیمیں علاقے میں فساد کی آگ بھڑکانے اور محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل کا معاملہ دبانے کیلئے سرگرم ہیں۔ بھارت بھر میں محمد اخلاق کے قتل کی شدید مذمت کے بعد معاملہ برابر کرنے کیلئے ہندو تنظیموں نے ایک ہندو نوجوان جے پرکاش کو قتل کرکے اس کی نعش بسارا گاﺅں کے باہر پھینک دی تاکہ اس کا الزام مسلمانوں پر عائد کیا جائے جبکہ بدھ کے روز بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگی ادھتیا ناتھ کی بنائی ہوئی ہندو تنظیم ”ہندویووا واہنی“ کے درجنوں کارکنوں نے ہندوﺅں کی مدد کے لئے گاﺅں بسارا میں گھسنے کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں روک دیا۔ تنظیم کے رہنما جتیندر تیاگی نے گاﺅں کے باہر صحافیوں سے کہا کہ گاﺅں میں ہمارے ہندو بھائیوں کو پولیس اور انتظامیہ نے ڈرا کر رکھا ہے۔ وہ گرفتاریوں کے خوف سے گھروں میں دبکے رہتے ہیں ہم وہاں جاکر ان کی مدد کریں گے۔ انہیں بندوقیں بھی دیں گے۔ جتندر تیاگی نے کہا کہ محمد اخلاق کے قتل کا واقعہ افسوسناک ہے اس کی سی بی آئی کو تحقیقات کرنی چاہئے مگر جس طرح محمد اخلاق کے گھر والوں کو معاوضے دیئے گئے ہمارا مطالبہ ہے کہ کل قتل ہونے والے ہندو نوجوان جے پرکاش کے اہل خانہ کو بھی معاوضہ دیا جائے۔ عجیب بات ہے جنہوں نے گائے ذبح کردی انہیں امداد مل رہی ہے۔ ادھر بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے سیکرٹری سدھارتھ ناتھ سنگھ نے دادری میں مسلمان محنت کش محمد اخلاق کے بہیمانہ قتل پر وزیراعظم نریندر مودی کی مسلسل خاموشی کی صفائی دیتے ہوئے بیان میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ایک ”حساس شخص“ ہیں انہیں سوشل میڈیا پر کسی حوالے سے ردعمل کے آئینے میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ دادری میں محمد اخلاق کے قتل پر انہیں صدمہ ہوا اور انہوں نے اپنے 2 وزراءکو فوری علاقے میں بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ تمام بی جے پی رہنماﺅں کو دادری واقعہ پر بیان بازی سے روک دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سیکرٹری نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادیو اور ان کے والد سربراہ سما جوادی پارٹی ملائم سنگھ سے پرزور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے مداخلت کرنے کا خط لکھنے پر اپنے سینئر وزیراعظم خان کو برطرف کریں۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خان بھارت مخالف شخص ہے وہ اور نواز شریف ہی ہیں جو بھارت کے خلاف اقوام متحدہ میں جاتے ہیں۔ ادھر اترپردیش کے سینئر وزیر محمد اعظم خان نے گزشتہ روز بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں کی تنقید کے جواب میں ان سے پوچھا کہ آزادی کے 70سال گزرجانے کے باوجود کسی بھی بات پر مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کا طعنہ کیوں دیا جاتا ہے کب تک ان سے یہ کہا جاتا رہے گا۔ لکھنو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ قوتیں ہندوستان کو مکمل ہندو ملک بنانا چاہتی محمد اخلاق کے خاندان کی مالی امداد پر ہندو گروپوں کے اعتراضات کے حوالے سے محمد اعظم خان نے کہا کہ اس غریب خاندان نے اپنا کمانے والا کھویا ہے وگرنہ ”بابری سے دادری“ تک کیا مظالم ہو رہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے بھارت کے مسلمانوں نے ایک اسلامی ریاست (پاکستان) کا حصہ بننے کی بجائے یہاں رہنے کو ترجیح دی۔ اب ان کے خیالات بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -