امریکہ اوربھارت کی پاکستان کیخلاف بڑی سازش ، ایٹمی پروگرام محدودکرانے سے متعلق بات چیت ہونے کا انکشاف

امریکہ اوربھارت کی پاکستان کیخلاف بڑی سازش ، ایٹمی پروگرام محدودکرانے سے ...
امریکہ اوربھارت کی پاکستان کیخلاف بڑی سازش ، ایٹمی پروگرام محدودکرانے سے متعلق بات چیت ہونے کا انکشاف

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے کیلئے امریکا ہمیشہ سے کوشاں رہا ہے اور بھارت کی بھی مسلسل یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی راہ میں زیادہ سے زیادہ رکاوٹیں پیدا کی جاسکیں۔ اگرچہ تا حال دونوں کو اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے مگر ان کی کوششیں جاری ہیں۔

اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ کے ایک کالم نگار کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کے عنقریب شروع ہونے والے دورہ امریکہ کے پیش نظر یہ کوششیں ایک دفعہ پھر تیز کردی گئی ہیں اور پس پردہ بات چیت جاری ہے کہ پاکستان کو اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی رینج محدود کرنے کیلئے قائل کیا جائے۔ کالم نگار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے ایک سول جوہری معاہدے کے متعلق بات چیت کی جارہی ہے جس کے تحت ایٹمی ہتھیاروں کی رینج کو پاکستان کی دفاعی ضروریات تک محدود رکھنے کاتقاضہ کیا جارہا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں اور ڈلیوری سسٹمز کو بھارتی جوہری خطرے کی حد تک محدود رکھنا بتایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان سے تقاضہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک مخصوص رینج سے زائد فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائل نصب نہ کئے جائیں، اور اس کے بدلے 48 ممالک پر مشتمل نیوکلیئر سپلائرز گروپ (NSG) کی طرف سے خصوصی رعایت کی پیشکش ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے امریکا ایک ایسا ہی سول جوہری معاہدہ بھارت کے ساتھ بھی کرچکا ہے، لیکن اب بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کے ساتھ سول جوہری معاہدہ نہ کیا جائے بلکہ سخت تر جوہری پابندیوں کا اطلاق کیا جائے۔

اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ”باقاعدہ رابطہ“ ہے، تاہم اس رابطے کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف 22 اکتوبر کو امریکا کا دورہ کریں گے، جس کیلئے امریکی انتظامیہ تیاریوں میں مصروف ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -