خودکش جیکٹوں کی سلائی اور کھانا پکانا داعشی خواتین کے مشاغل!

خودکش جیکٹوں کی سلائی اور کھانا پکانا داعشی خواتین کے مشاغل!
خودکش جیکٹوں کی سلائی اور کھانا پکانا داعشی خواتین کے مشاغل!

  

ریاض (آن لائن) شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام داعش نے اپنی صفوں میں نہ صرف مرد نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے انہیں متاثر کیا ہے بلکہ بڑی تعداد میں خواتین بھی داعش میں موجود ہیں۔ اگرچہ داعش کے ہاں خواتین کا ایک عسکری ونگ بھی موجود ہے جس میں شامل خواتین باقاعدہ جنگ میں حصہ لیتی ہیں مگر داعش خواتین کے کچھ دیگر مشاغل بھی ہیں۔

عرب مےڈےا کے مطابق حال ہی میں انٹرنیٹ پر خود ساختہ مبلغ کا ”فتویٰ“ سامنے آیا ہے۔ ابو عبداللہ المنصور نامی داعشی مبلغ نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے استفسار پر کہ"خواتین میدان جنگ میں مجاہدین کی کیا خدمت کر سکتی ہیں؟" جواب دیا ہے۔ داعشی عالم نے خواتین کے لیے کوئی خاص کام مختص تو نہیں کیا تاہم انہوں نے کہا کہ خواتین بھی میدان جنگ میں ہر طرح کی خدمت کر سکتی ہیں۔ وہ مریضوں اور زخمیوں کا علاج ، کپڑوں کی سلائی، باورچی اور دھوبی جیسے پیشے اپنا سکتی ہیں۔ داعشی جنگجو کا کہنا ہے کہ نرسنگ کے ساتھ ساتھ خواتین کو اپنے دفاع سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔

خواتین کے لیے اسلحہ سازی اور اسلحہ کے استعمال میں کوئی امرمانع نہیں ہے۔ خواتین اپنے دفاع اور دشمن کے خلاف لڑائی کے لیے پستول، بندوق، کلاشنکوف چلانے کے ساتھ ساتھ دستی بم بنانے اور بارودی جیکٹیں بھی تیار کر سکتی ہیں۔ داعشی جنگجوﺅں کی جانب سے خواتین کو بارودی جیکٹیں تیار کرنے کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ عملا ًاس کا مظاہرہ بھی دیکھا گیا ہے۔ داعش کے ہاں لونڈی بنائی گئی ایک فلپائنی لڑکی کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے جو جنگجوﺅں کے ہاں گھریلو کام کاج کے ساتھ بارودی جیکٹ بھی پہنے رکھتی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -