لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت جہاز میں کھڑکیوں کے کور کیوں کھلوائے جاتے ہیں اور آپ سے نشست سیدھی کرنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟

لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت جہاز میں کھڑکیوں کے کور کیوں کھلوائے جاتے ہیں اور ...
لینڈنگ اور ٹیک آف کے وقت جہاز میں کھڑکیوں کے کور کیوں کھلوائے جاتے ہیں اور آپ سے نشست سیدھی کرنے کو کیوں کہا جاتا ہے؟

  


لاہور (نیوز ڈیسک) کیا آپ کو یہ دلچسپ بات معلوم ہے کہ ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت جہاز کی کھڑکیوں پر لگے شیڈز (پردے) ہٹادئیے جاتے ہیں، اور یہ تو اور بھی دلچسپ ہے کہ ایسا آخر کیوں کیا جاتا ہے؟

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق لینڈنگ اور ٹیک آف فضائی سفر کے خطرناک ترین مراحل ہیں اور نوے فیصد سے زائد حادثات انہی دو مراحل کے دوران پیش آتے ہیں۔ جہاز کے لینڈ کرنے سے قبل ہی کھڑکیوں سے پردے ہٹادئیے جاتے ہیں تاکہ مسافروں کی آنکھیں باہر موجود روشنی یا اندھیرے کی صورتحال سے مانوس ہوسکیں۔ اس کا بنیادی مقصد حادثے کی صورت میں مسافروں کی سلامتی کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا ہے۔

اگر خدانخواستہ حادثہ پیش آجائے تو اولاً تو مسافروں کو باہر کی صورتحال نظر آرہی ہوگی اور وہ دیکھ سکیں گے کہ انہیں جس طرف سے باہر نکلنا ہے وہاں آگ یا کوئی اور رکاوٹ تو نہیں۔ اگر مسافر باہر نکلنے میں کامیاب ہوں تو اس صورت میں بھی ان کی آنکھوں کاباہر کی روشنی سے مانوس ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اچانک کم سے زیادہ یا زیادہ سے کم روشنی میں آنے جیسی صورتحال کے شکار نہ ہوں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آپ کی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ کھڑکیوں کے شیڈز ہٹانے سے متعلق عملے کی ہدایات پر عمل کریں۔

تجربات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر حادثے یا جھٹکے لگنے کی صورت میں اگر نشست کی پشت سیدھی ہو تو چوٹ لگنے کے امکانات 80 سے 90فیصد کم ہو جاتے ہیں، یہی وجہ سے مسافروں سے نشست سیدھی کرنے کو کہا جاتا ہے۔ 

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...