سرمایہ دار

سرمایہ دار
 سرمایہ دار

  

بقول اقبالؒ پیغمبر بے کتاب کارل مارکس نے کہا تھا کہ اس دنیا میں دو طبقے ہیں، ایک وہ جن کے پاس سب کچھ ہے اور دوسرا وہ جس کے پاس کچھ بھی نہیں اوردنیا میں جاری عام کشمکش اور تمام ترتنازعات کی بنیادی وجہ انہی دو طبقات کے درمیان وسائل پر اختیار اور قبضے کی جنگ ہے۔

اس بیان سے اتفاق اور اختلاف کرنے والے طبقے بھی دنیا میں عرصہ سے موجود ہیں اور ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا مکمل اختیار ہے، مگر آج کے پاکستان کی حالتِ زار دیکھ کر واقعی کارل مارکس کا یہ خیال بالکل درست معلوم ہوتا ہے،اس ملک میں طبقاتی تقسیم جتنی واضح آج ہے، اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔

وہ طبقہ جس کے پاس تمام تروسائل ہیں، اقتدار ہے، اختیار ہے، اس ملک پر ہمیشہ سے قابض ہے، کسی بھی قیمت پر اس اقتدار اور اختیار سے محرومی نہیں چاہتا۔ یہ مقتدر طبقہ ہر سیاسی جماعت پر حاوی ہے۔

ملک کی معیشت اور معاشرت کا ہر ہر پہلوان کی مٹھی میں ہے۔ قانون انکا تابع اور قانون سازی ان کے مفاد کو سامنے رکھ کر کی جاتی ہے۔ اسی مقتدر طبقے نے اپنے اقتدار کی مضبوطی اور وسائل پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے معاونین کے طور پر ساتھیوں کی ایک فوج بھرتی کی ہوئی ہے، جو جا و بے جا ان کی تعریف اور خوشامد کرتی رہتی ہے، تاکہ عوام پر اس طبقے کا اثر قائم رہے، اس خدمت کے صلے میں ان معاونین اور خوشامدیوں کو بھی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے ذریعے حاصل کردہ دولت میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ملتا ہے، مگر زیادہ تر ان لوگوں کو بھی محنتا نے کے طور پر براہ راست عوام سے مال اکٹھا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تاکہ یہ لوگ بھی خوش رہیں اور عام لوگ بھی اہل ثروت کے اقتدار سے ڈرتے رہیں، یہی ڈر وہ ہتھیار ہے، جن کے ذریعے لوگوں کو ان کے حق سے محروم رکھ کر محکوم بنائے رکھا جاسکتا ہے اور پاکستان کا اقتدار پر قابض طبقہ اس ڈرکو نہایت مہارت سے استعمال کر رہا ہے اور یہ ڈر محض واہمہ نہیں، بلکہ اکثر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔ روزانہ ہزاروں جھوٹے مقدمات محض لوگوں کو اپنے تابع رکھنے کے لئے درج کرائے جاتے ہیں۔

صورت حال کا مایوس کن پہلو یہ ہے کہ مقتدر اور صاحب ثرورت لوگ جو بظاہر مخالف دھڑوں میں نظر آتے ہیں، اصل میں ایک ہیں، ان کی رشتہ داریاں، ان کے خاندان اوران کے کاروباری مفادات سب مشترک ہیں۔ سیاسی اختلاف جو بظاہر لوگوں کو دکھایا جاتا ہے، اصل میں کہیں موجود ہی نہیں، چونکہ سیاست کا لفظ تو اب ویسے ہی ان لوگوں کی بدولت کاروبار کا مترادف بن چکا ہے اور کاروبار بھی ایسا، جس میں نقصان کا کوئی اندیشہ نہیں، لہٰذا مشترکہ کاروبار سے منسلک یہ لوگ اختلاف صرف دکھاوے کی حد تک کرتے ہیں، بلکہ حالات یہ ہیں کہ اس مقتدر طبقے کی اپنی اپنی الگ سیاسی جماعت تو ہے، مگر اس جماعت کے اندر بھی اختلاف رائے رکھنے والے شخص کو غدارِ وطن قرار دینا، ان لوگوں کی مشترکہ روایت ہے، جہاں کہیں اس صاحب اقتدار طبقے کو ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ان کا دوسرا ساتھی مدد کا مستحق ہے تو وہاں یہ لوگ اکٹھے بھی ہو جاتے ہیں، مگر ایسی فنکاری سے کہ اکٹھے بھی ہوں، دوسرے کی مدد بھی کردیں اور بظاہر مخالف بھی نظر آئیں۔

یہ مدد کبھی جمہوریت کے نام پر کبھی ملکی مفاد کے دکھاوے میں یا کبھی اپنے آپ کو بے خبر ظاہر کرکے کی جاتی ہے، جیسے حال ہی میں سینٹ آف پاکستان میں دیکھنے میں آیا۔ ایک انتہائی متنازعہ قانونی بل جس کا پاس ہونا مقتدر اور سرمایہ دار طبقے کے مفاد میں تھا، پاس کروایا گیا، جبکہ اس قانون کا ان حالات میں پاس ہونا ناممکنات میں سے تھا، مگر ہر جماعت ہر رہبر ہر اختلاقی مبلغ کے پاس اپنی اپنی دلیل اور اپنا اپنا بہانہ موجود ہی ہے۔

اقتدار برائے اقتدار کی یہ جنگ جولڑی ہی اس خاص جذبے کے تحت جا رہی ہے کہ اختیار اور طاقت محض چند خاندانوں تک محدود رہے، ملک کو ان حالات تک لے آئی ہے کہ جن کے پاس ہے، ان کے پاس بہت کچھ ہے اور جن کے پاس نہیں، ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ حالات سے مایوسی کا شکار لوگ اپنے پیاروں کا گلہ کاٹ کر خود کشیاں کر رہے ہیں، مائیں اپنے بچوں کو نہروں میں پھینک کر خود بھی موت کو گلے لگا رہی ہیں، تاکہ بھوک سے روز روز کی مشکل ایک بارہی حل ہو جائے۔

سڑکوں پارکوں میں اور پلوں کے نیچے سونے والے بے گھر لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، تعلیمی ادارے ناکافی اور ہسپتال گندگی سے پر۔ پولیس جس کو جی چاہے مقابلے میں پار کردے کوئی پوچھنے والا نہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود جب سارا ڈرامہ واضح ہوچکا ہے، اقتدار، اختیار اور سرمائے سے محروم لوگ کیوں خاموش ہیں، انہیں کس کا انتظار ہے؟ کیا اب بھی انہیں یہ یقین ہے کہ اچانک، کوئی معجزہ رونما ہوگا اور سب کچھ تبدیل ہو جائے گا؟نہیں یہ محض خوش فہمی ہے، جس سے بہر حال اب ان محروم لوگوں کو نکلنا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان پر مسلط لوگ صدیوں سے لوگوں کو محکوم بنا کر رکھنے والے ٹولے کا ہی تسلسل ہیں اور یہ ٹولہ چہرے بدلتا ہے، سوچ نہیں۔ غور کرنا ہوگا کہ اپنے مفاد کے لئے راتوں رات قانون تبدیل کردینے والا طبقہ آج تک سامراجی دور کے قوانین کیوں تبدیل نہیں کرسکا۔

مزید :

کالم -