وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک فلاحی منصوبے کی تجویز

وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک فلاحی منصوبے کی تجویز
وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے لئے ایک فلاحی منصوبے کی تجویز

  


وہیل چیئر پر بیٹھی زاہدہ قریشی نے مجھے کہا، کیا آپ مجھے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے وقت لے کر دے سکتے ہیں، میں نے کہا، نہیں محترمہ میری تو اتنی اپروچ نہیں، اُس نے کہا پلیز آپ مجیب الرحمن شامی صاحب سے بات کریں، سنا ہے شعیب بن عزیز صاحب بھی آپ کے دوست ہیں، اُن کے ذریعے چیف منسٹر صاحب تک میرا پیغام پہنچا دیں، ہم وہ کام کررہے ہیں، جو آج تک پاکستان میں کسی نے نہیں کیا، وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی سپورٹ مل جائے تو ہم صحیح معنوں میں پنجاب کو مثالی وفلاحی صوبہ بناسکتے ہیں۔ میں نے وعدہ کیا کہ اس نیک اور اہم کام پر ایک کالم لکھوں گا، شاید بات وزیر اعلیٰ تک پہنچ جائے۔

زاہدہ قریشی وہیل چیئر ایسوسی ایشن پاکستان کی چیئرپرسن ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں، وہاں انہوں نے معذوروں کے لئے جو سہولتیں دیکھی ہیں، اُن کا یہ خواب ہے کہ وہ سب پاکستان میں معذور افراد کو فراہم کی جائیں، اس خواب کی تعبیر کے لئے وہ 2011ء سے کوشاں ہیں، 22اکتوبر 2011ء کو انہوں نے Accessable Pakistan (قابلِ رسائی پاکستان) تحریک کی بنیاد رکھی تھی، اس تحریک کا مقصد پاکستان کے لاکھوں معذور افراد کو وہ سہولتیں فراہم کرنا تھا، جو بوجہ معذوری انہیں حاصل نہیں ہوتیں، پہلے پہل اس تحریک کا فوکس جسمانی طور پر معذور افراد تھے، جن کے لئے دفاتر، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، عوامی مقامات، شاپنگ سنٹرز اور ٹرانسپورٹ میں چڑھنے اُترنے کے لئے کوئی سہولتیں موجود نہیں، اس مقصد کے لئے انہوں نے دن رات ایک کرکے یہ شعور اُجاگر کیا کہ جو ٹانگوں سے محروم ہیں، وہ سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں، نہ اُتر سکتے ہیں،اُن کے لئے وہیل چیئر کے ریمپ بنائے جانے چاہئیں، ہماری حکومتوں کی چونکہ ایسے معاملات کبھی ترجیح نہیں رہے، اس لئے کبھی کسی سرکاری دفتر، ہسپتال، تعلیمی ادارے یا تفریحی پارک کا نقشہ پاس کرتے ہوئے، اس امر کا خیال نہیں رکھا جاتا کہ وہ دنیا کے مہذب ملکوں کی طرح یہاں بھی ایسے معذوروں کے لئے ایسا انفراسٹرکچر بنائیں کہ وہ ایک نارمل انسان کی طرح رسائی حاصل کرسکیں۔ زاہدہ قریشی نے اپنی ایسوسی ایشن کے ذریعے حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے، مقامی اداروں کے سربراہوں سے رابطے شروع کئے۔ کمشنر ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان، میئر ملتان، وائس چانسلرزکریا یونیورسٹی، وائس چانسلر نشتر ہسپتال و میڈیکل یونیورسٹی، تعلیمی ادارورں کے سربراہوں، تاجر تنظیموں کے نمائندوں، پولیس کے اعلیٰ افسروں اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطے قائم کر کے انہیں اس کی اہمیت کا احساس دلایا۔ آج یہ صورتِ حال ہے کہ ملتان میں اس حوالے سے بہت کام ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے۔

کمشنر ملتان نے تمام محکموں کو حکم جاری کر دیا ہے کہ وہ معذوروں کے لئے ریمپ بنوائیں، عالمی سطح پر ان کے لئے ٹوائلٹس کا جو ڈیزائن ہے اس کے مطابق ٹوائیلٹ بنوائے جائیں۔ شاپنگ سنٹرز اور تعلیمی اداروں میں ان کے لئے وہیل چیئر مہیا کی جائیں۔ اسی قسم کے احکامات میئر ملتان، وائس چانسلر ملتان اور وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے بھی جاری کر دیئے ہیں یوں Accessable Pakistan کا خواب شرمندۂ تعبیر ہور ہا ہے۔

زاہدہ قریشی جو خود بھی پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں اب گونگے بہرے، نابینا اور دماغی طور پر کمزور افراد کے لئے بھی کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح دنیا بھر میں نابینا افراد کی تعلیم کا ایک بریل سسٹم ہے، اسی طرح ان کی موومنٹ اور دیگر حاجات کے لئے بھی ایک ہی نظام بنا دیا گیا ہے۔

مثلاً ان کے باتھ روم کیسے ہونے چاہئیں، ہوٹلوں میں ان کے لئے کیسی میز کرسیاں اور تعلیمی اداروں نیز ہسپتالوں میں ان کے لئے کیسے یکساں سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ ان سب کو بین الاقوامی طریقۂ کار اور سطح پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں معذور افراد کسی پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ اپنی نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں بھی انہیں بے کار مخلوق سمجھنے کی بجائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے، انہوں نے بتایا کہ ملتان میں گونگے بہرے اور نابینا افراد کے لئے جو تعلیمی ادارے قائم ہیں وہ ان میں جدید سہولتیں اور جدید طریقۂ تعلیم فراہم کرنے کے لئے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں وہ اپنے تجربات سے پاکستانی اداروں کو مستفید کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم حکومتی سطح پر اس کی سرپرستی کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو روائتی اقدامات سے ہٹ کر جدید ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ان معذور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ترقی یافتہ ممالک جیسی سہولتیں فراہم کر سکے۔

اُن کی اس بات کو میں اس لئے درست سمجھتا ہوں کہ ملتان بلکہ شاید پورے جنوبی پنجاب میں نابیناؤں کے لئے ایک بھی اچھا سکول نہیں ہے۔ ملتان میں محمد بن قاسم بلائنڈ سنٹر نجی شعبے میں قائم ہے اور ایک نابینا شخص محمد قائم خان کرمانی اسے اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں اسی طرح گونگوں بہروں کے لئے صرف ایک سکول ہے، جس کی حالت ناگفتہ بہ ہے اس میں ایسے جدید آلات بھی موجود نہیں جو دنیا بھر میں استعمال کئے جارہے ہیں، وہاں اسی اشاروں کی زبان کا استعمال ہوتا ہے، جو ایک صدی پہلے ایجاد کی گئی تھی، اس لئے اس شعبے میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے۔

پنجاب میں اگرچہ سپیشل ایجوکیشن کی وزارت موجود ہے، مگر پچھلے کئی برسوں سے ایسا کوئی منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا، جس میں معذور افراد کو قومی دھارے میں لانے کے لئے روائتی اقدامات سے ہٹ کر بھی کچھ کیا گیا ہو۔ ملتان میں جس طرح زاہدہ قریشی نے اپنی کوششوں سے سرکاری محکموں اور اداروں کو متحرک کیا ہے اور انہیں احساس دلایا ہے کہ چھوٹی سی کوشش سے اُن افراد کو بھی آزادانہ گھومنے پھرنے کا موقع فراہم کیا جاسکتا ہے، جو ٹانگوں یا آنکھوں سے معذوری کے باعث ایک بے بس پرندے کی طرح گھر کے پنجرے میں پڑے رہتے ہیں، زاہدہ قریشی جو خود ٹانگوں سے معذور ہیں، جب یہ کہتی ہیں کہ انسان کی سب سے بڑی مجبوری یہ ہے کہ وہ چل پھر نہ سکے۔ تو ان کی بات کچھ سمجھ آتی ہے، اُن کا یہ کہنا بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ آج تک حکومتوں نے صرف وہیل چیئر ہی تقسیم کی ہیں، کبھی یہ نہیں سوچا کہ انفراسٹرکچر نہیں ہوگا تو یہ وہیل چیئرز چلیں گی کیسے۔ اکثر پبلک مقامات پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ وہیل چیئر کو اُٹھا کر سیڑھیاں چڑھاتے ہیں، حالانکہ اس کے لئے ریمپ بنائے جانے چاہئیں۔

یہ تھا وہ پس منظر جس کی وجہ سے زاہدہ قریشی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملنا چاہتی ہیں، اُن کا یہ کہنا تھا کہ شہباز شریف ہمیشہ نئے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، پنجاب میں اگر وہ یہ حکم جاری کردیں کہ معذوروں کے لئے ہر اہم جگہ پر ریمپ بنائے جائیں اور اس حوالے سے عالمی سطح کے ماڈلز کا معائنہ کرکے اس کے مطابق تعمیرات کی جائیں تو بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔

زاہدہ قریشی نے کہا، اس کے لئے اُن کی ایسوسی ایشن ہر قسم کی تکنیکی سپورٹ فراہم کرے گی، میں سمجھتا ہوں، یہ بہت اہم منصوبہ ہے، اگر پنجاب اس حوالے سے پہل کرے تو باقی صوبے بھی اس کی تقلید کریں گے، مغرب کے معاشرے اس لئے فلاحی کہلاتے ہیں کہ وہاں کمزوروں کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ اس فلاحی منصوبے کا آغاز پنجاب سے ہونا چاہئے، کیونکہ وہ سب سے بڑا صوبہ ہے اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو چاروں وزرائے اعلیٰ میں سب سے زیادہ متحرک اور نت نئے منصوبے شروع کرنے والا چیف منسٹر سمجھا جاتا ہے۔

مزید : کالم


loading...