امریکی وزراء کے دوروں سے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، افتخارعلی ملک

امریکی وزراء کے دوروں سے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، افتخارعلی ملک

لاہور (کامرس رپورٹر) پاک یوایس بزنس کونسل کے بانی چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخارعلی ملک نے کہا ہے کہ امریکی وزراء کے آئندہ دو دوروں سے پاکستان اورامریکا کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، پاک یوایس بزنس کونسل کے بانی چیئرمین اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخارعلی ملک نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ دنوں میں پاکستان اورامریکا کے درمیان مذاکرات کے جامع عمل سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف مسائل پرقابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف بامقصد مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے، امریکی صدرڈونلڈر ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران امریکا کے اعلیٰ سطح کے سفارتی اورفوجی نمائندے پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورے کے بعد وزیردفاع جم میٹس بھی پاکستان کا دورہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان دوروں کی مدد سے امریکا اور اس کے پرانے اتحادی پاکستان کے درمیان صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ صرف مذاکرات کے ذریعہ ہی حل طلب مسائل کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ خطے میں امن واستحکام اور اقتصادی خوشحالی کیلئے با مقصد مذاکرات کا عمل جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ناقابل یقین ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے موثرکوششیں نہیں کررہا۔ افتخارعلی ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں75 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے لازوال قربانیاں پیش کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فرائض ادا کررہے ہیں اور ہمیں ایک مشکل جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے جانوں کے نذرانوں کے ساتھ ساتھ کھربوں ڈالرکے معاشی نقصانات کا بھی سامنا کیا ہے اور یہی پیغام پاکستان بین الاقوامی قیادت کو دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم شراکت دارہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حوالے سے صدرٹرمپ کی انتظامی پالیسی حقائق پرمبنی ہونی چاہئے اور اس بات کو مدنظررکھنا چاہئے کہ پاکستان نے اس جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اعتماد کے فقدان کو ختم کرنا چاہئے اور امریکی پالیسی سازوں کو چاہئے کہ وہ خطے اور بالخصوص افغانستان میں دیرپا امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو پیش نظررکھیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی اعتماد کے رشتے کو مستحکم کرنے کیلئے دونوں ممالک کو اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے عالمی کاوشوں میں پاکستان برابرکا شراکت دار ہے اور اس حوالے سے مسلسل کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دور اقتدار سے قبل پاکستان میں سول سیکٹر کی ترقی کیلئے امریکا ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ فراہم کرتا تھا تاہم صدر ٹرمپ نے اس کو کم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی منڈیوں تک آسان رسائی چاہتا ہے تاکہ برآمدات کے فروغ سے پاکستان کے صنعتی شعبے کو ترقی دی جاسکے جو امداد سے زیادہ موثر ثابت ہو۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان امریکا باہمی تجارت اوراقتصادی شراکت داری میں مزید اضافہ کی ضرورت ہے اس حوالے سے دونوں ملکوں کے سرکاری اور نجی شعبوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئے

مزید : کامرس


loading...