جنوبی ایشیائی ممالک سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، میاں کاشف اشفاق

جنوبی ایشیائی ممالک سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں، میاں کاشف اشفاق

لاہور (کامرس رپورٹر) پاکستان فرنیچر کونسل (پی ایف سی) کے چیف ایگزیکٹو اور سارک چیمبر آف کامرس کے لائف ممبر میاں کاشف اشفاق نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ یہ خطہ توانائی کی کمی سے دوچار ہے اور سی پیک کے ذریعے یہ ممالک وسطی ایشیائی ممالک کے گیس اور تیل کے بڑے وسائل کو اپنے ہاں توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات چینی فرنیچر سازوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ گوادر بندرگاہ کو تجارتی اور توانائی کی نقل و حمل کے لئے وسطی ایشیا سے منسلک کیا جائے گا اور دو طرفہ تجارت کے لئے وسطی ایشیا کا راستہ کھلتے ہی جنوبی ایشیائی ممالک کو یورپی منڈیوں تک بھی رسائی حاصل ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی راہداری چین کو دنیا سے منسلک کرے گی اور اس کا چین، پاکستان اور علاقائی معیشت پر اہم اثر پڑے گا۔ کیونکہ اس خطے میں خوشحالی لانے میں اس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ سی پیک کے ساتھ منسلک ہونے سے جنوبی ایشیائی ممالک میں سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے وسیع مواقع پیدا ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ راہداری منصوبہ پاک چین دوستی کو نئی بلندیوں سے روشناس کرائے گا، دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے اور اس منصوبے کے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کی تین ارب آبادی پر گہرے اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبوں کے تحت توانائی کے شعبے میں 34 بلین ڈالر اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں تقریبا 11 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے کاروباری اداروں کے لئے بہت زیادہ مواقع پیدا ہونگے اور خاص طور پر پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ سی پیک پاکستان کے تمام صوبوں میں عوام کی خوشحالی کو بھی یقینی بنائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیککی تعمیر سے ہمیں میڈیم گروتھ کی شرح کو برقرار رکھنے کے لئے اعتماد اور صلاحیت حاصل ہوگی اور ہم اگلے پانچ سالوں میں ہر شعبہ میں جدت کے ساتھ ترقی کی حکمت عملی پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔ ملاقات کے دوران چینی وفد نے پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق کا شکریہ ادا کیا۔

اور امید ظاہر کی کہ سی پیک سے پاکستان کے ہاتھ سے تیارشدہ کلاسیکی فرنیچر کی تجارت کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر منصوبہ ثابت ہوگا۔ پی ایف سی کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف کے اظہار کے جواب میں چینی وفد نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی اور چینی کمپنیوں کو دو طرفہ سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا چاہئے اور نہ صرف چینی بلکہ پاکستانی کمپنیوں کو بھی چین میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ اس موقع پر پی ایف سی کے سربراہ نے چین کے لئے ویزا کے حصول میں درپیش رکاوٹوں پر روشنی ڈالی جسے مہمان وفد نے اس ،عاملہ کو چینی حکام کے ساتھ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ سیکرٹری پی ایف سی حامد محمود، چیف کوارڈینیٹر عدنان افضل، آپریشنل ہیڈ پی سی ایف محمد اکرام اور بزنس ہیڈ ریحان ناصر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید : کامرس


loading...