مشال قتل کیس،2مجسٹریٹ شہادت کے طور پر پیش،سرکاری گواہوں سمیت29 گواہوں کے بیانات قلمبند

مشال قتل کیس،2مجسٹریٹ شہادت کے طور پر پیش،سرکاری گواہوں سمیت29 گواہوں کے ...

ہری پور(آن لائن) مشال خان قتل کیس کی سماعت گیارہ اکتوبر تک ملتوی، دو مجسٹریٹ شہادت کے طور پر پیش، بیانات قلمبند گواہوں کی تعداد29 ہو گئی ،سنٹرل جیل میں قائم دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پچیس گرفتار ملزما ن کی درخواست ضمانتوں پر فیصلہ تا حال محفوظ کسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے واضح رہے کہ انیس ستمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران گرفتار ستاون ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ ایف آئی آ رمیں نامزد چا ر ملزمان تاحال مفرور ہیں ۔مردان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کیس کی چھٹی سماعت گزشتہ روز سنٹرل جیل ہری پو رمیں ہوئی جہاں ایبٹ آباد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج فضل سبحان خان نے سماعت کی اور دو مقامی مجسٹریوں کے بیان شہادت کے طور پر ریکارڈ کئے ، سرکاری گواہوں کو پیش کرکے شہادتوں کے طور پر بیان قلمبند کرلئے گئے ہیں ،چھٹی سماعت کے اختتام پر مجموعی طور پر29 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے جاچکے ہیں ۔سنٹرل جیل میں قائم ٹرائل کورٹ روم میں ہفتہ کے روز ملزمان کے تمام وکلاپیش ہوئے، گرفتار پچیس ملزمان کے وکلا نے ضمانتوں کیلئے درخواستیں بھی دائر کر رکھی ہیں ان درخواستوں پر فیصلہ تاحال محفوظ ہے جوکسی بھی وقت سنایا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج نے ہفتہ کو اُن مجسٹریٹوں کی شہادت لی جنہوں نے آٹھ ملزمان سے اقبالی بیان لیا تھا جنھوں نے جرم کا اعتراف کیا تھا،گواہوں کے بیانات کی تصدیق کے بعد سماعت ختم کر دی گئی،آئندہ سماعت گیارہ اکتوبرکو ہوگی۔ سماعت کے دوران مشال خان کے والد اقبال لالہ ان کے ہمراہ دو سرکاری وکیل بھی ہر سماعت پر باقائدگی سے پیش ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عبدا لولی خان مردان یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام پر قتل کر دیا گیاتھا۔ تیرہ اپریل کو ساٹھ ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا جن میں یونیورسٹی سٹوڈنٹ ملازمین سمیت پی ٹی آئی کا کونسلر بھی شامل تھا ۔ اس کیس میں آئندہ پندرہ روزتک تمام گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے کی توقع ہے سنٹرل جیل میں مقدمہ کی سماعت کے دوران سیکیورٹی کو سخت کرکے سنٹرل جیل میں قید عام قیدیوں کی ملاقات پربھی پابندی ہے۔

مشال خان

مزید : علاقائی


loading...