آپ ٹاؤن شپ کیوں نہیں جا سکتے؟

آپ ٹاؤن شپ کیوں نہیں جا سکتے؟

ہماری سیاست کے تمام اچھے کردار اب صرف کتابوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ اسمبلیوں، سیاسی جلسوں اور اجتماعات میں کھڑے لوگوں کو دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ یہ مُلک و قوم کی کشتی کے ناخدا ہیں۔ بچانا ان کی سرشت ہی میں نہیں۔ان میں سے بیشتر کشتی کو منجدھار میں لا کر چھوڑ دینے والے ہیں۔ اگر ان میں سے کچھ لوگ کچھ کرنے کا عزم رکھتے بھی ہیں تو ان کے پاس وسائل اتنے نہیں کہ اپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ یہ دراصل وہی لوگ ہیں جو بنجر زمینوں کو زرخیز کرنے کے آرزومند ہیں۔ حکیم محمد سعید بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے جو مُلک اور قوم کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اپنی محنت سے انہوں نے اپنے لئے بہت سے وسائل بھی پیدا کر لئے تھے۔ بے سروسامانی کے عالم میں دہلی سے پاکستان آنے کے بعد انہوں نے ’’ہمدرد‘‘ کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ لیکن 17اکتوبر 1998ء کو نادیدہ ہاتھ نے انہیں خون میں نہلا دیا۔ آج جسمانی طور پر وہ ہمارے درمیان نہیں لیکن یقین جانیے ان کے سارے خواب تعبیر بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ سرسید احمد خان کی طرح ان کی بھی آرزو تھی کہ وہ اپنی قوم کے لئے کوئی بڑا تعلیمی ادارہ قائم کریں۔’’مدینۃ الحکمت‘‘ کی صورت میں ان کا قائم کیا ہُوا ادارہ آج بہت سے تشنگانِ علم کی پیاس بجھا رہا ہے۔مُلک کے مختلف شہروں میں حکیم صاحب کی آرزو کے مطابق ہر ماہ ہمدرد شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے،جس میں اہلِ دانش و حکمت ملکی مسائل و معاملات پر بحث کرتے ہیں اور مسائل کا حل تجویز کرتے ہیں۔بچوں پر حکیم محمد سعید کی خاص نظر تھی، و ہ بجا طور پر سمجھتے تھے کہ بچوں کو تبدیل کر دیا جائے تو قوم کا مستقبل بدل سکتا ہے۔ بچوں کے لئے انہوں نے ایک رسالہ ’’نونہال‘‘ جاری کِیا،جو اسی چھب سے آج بھی چھپ رہا ہے جو حکیم صاحب کی زندگی میں اس کی پہچان تھی،بچوں کی صلاحیتوں کو سامنے لانے اور نکھارنے کے لئے حکیم صاحب نے نونہال اسمبلی کا ڈول ڈالا تھا، جو تاحال جاری ہے۔وہ بچوں کی حوصلہ افزائی کس طرح کرتے تھے؟ اس کا اندازہ اِس بات سے لگا لیجئے کہ ’نونہال‘‘ میں کسی بچے کی کہانی، نظم یا مضمون چھپتا تو حکیم صاحب اس کو حوصلہ افزائی کے لئے ایک خط لکھتے۔ مَیں جب چھٹی یا ساتویں جماعت میں تھا تو میری ایک چھوٹی سی کہانی ’’نونہال‘‘ میں چھپی تھی، چند روز کے بعد مجھے حکیم صاحب کے دستخط سے ایک خط اور ایک کتاب ملی، خط کا مفہوم یہ تھا کہ تمہاری کہانی مَیں نے پڑھی ہے۔ اِسے پڑھ کر لگتا ہے کہ تم ایک اچھے ادیب بن سکتے ہو،مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ تم دِل لگا کر تعلیم حاصل کرو، اچھی کتابیں پڑھو اور مسلسل لکھتے رہو۔حکیم صاحب نے نہایت سادہ الفاظ میں مجھے زندگی کے ایک مشکل راستے کو چننے کا مشورہ دیا تھا۔ آج اگر مَیں نثر کی چند لائنیں لکھنے لگا ہوں یا شعر کہہ لیتا ہوں تو اس کا سبب حکیم صاحب کی حوصلہ افزائی ہے۔

گذشتہ روز کل ٹاؤن شپ میں واقع سوشل ویلفیئر کمپلیکس کے خوبصورت آڈیٹوریم میں ہمدرد نونہال اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شرکت کے لئے مجھے ہمدرد سنٹر کے ڈائریکٹر برادرم سید علی بخاری اور المشرق سکول ٹاؤن شپ کی پرنسپل محترمہ ناہید اسلم نے کہا۔ محترمہ ناہید اسلم ایک دردمند خاتون ہیں۔بنجر زمین کو زرخیز کرنے کی تمنائی ہیں۔ خدمتِ خلق ان کی زندگی کا منشور ہے۔ انہوں نے ٹاؤن شپ کے غریبوں، مزدوروں، دکانداروں اور دیہاڑی داروں کے بچوں کے لئے المشرق سکول کے نام سے ایک ادارہ بنا رکھا ہے، جہاں بچوں کو سب کچھ مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ مَیں کئی بار اِس سکول کا معائنہ کر چکا ہوں۔جیسی بے سرو سامانی اِس سکول میں نظر آئی ویسی اگر کسی نے دیکھی ہو گی تو اگست 1947ء کے آس پاس پاکستان کے سرکاری دفتروں میں دیکھی ہو گی۔سکول کے اندر انہوں نے بچیوں کے لئے ایک سلائی سنٹر اور کمپیوٹر سنٹر بھی بنا رکھا ہے،جہاں دو سلائی مشینوں اور دو کمپیوٹروں پر درجنوں بچے ہنر آزما رہتے ہیں۔

ایک سال قبل حکیم محمد سعید کی بیٹی محترمہ سعدیہ راشد نے المشرق سکول کی بچیوں اور بچوں کو دیکھا تو انہوں نے ان کی سرپرستی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ گذشتہ روز برادرم علی بخاری کی نگرانی میں ہمدرد سنٹر لٹن روڈ کے بجائے ،ٹاؤن شپ کے سوشل ویلفیئر کمپلیکس میں ہمدرد نونہال اسمبلی منعقد کی گئی، جس میں المشرق سکول کے بچوں نے شرکت کی۔علی بخاری صاحب نے اِردگرد کے علاقوں میں قائم کئی دیگر سکولوں کے بچوں کو بھی مدعو کر لیا تھا۔

اس مختصر لیکن شاندار تقریب میں جا کر پتہ چلا کہ پاکستان کا مستقبل بہت روشن ہے،ہم جب ہر شام مختلف ٹی وی چینل دیکھتے ہیں یا اخبارات کی شہ سرخیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو لگتا ہے کہ صرف دہشت گردی، ڈاکہ زنی، چوری، لوٹ مار، بدعنوانی،جھوٹ اور بے ایمانی پاکستان کا مقدر ہے،لیکن ان بچوں کی سادگی، معصومیت، سچائی اور سنجیدگی دیکھ کر مجھے کہنا پڑا کہ نہیں: پاکستان کا مستقبل، حال سے روشن تر ہو گا۔ظہیر کاشمیری نے یہی تو کہا تھا:

ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغِ آخرِ شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں، اُجالا ہے

ایسے اداروں کے بارے میں لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ مَیں اپنے درد مند قارئین کو بھی کارِخیر میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔اگر آپ المشرق سکول ٹاؤن شپ کا وزٹ کرنا چاہیں، یہاں زیر تعلیم بچیوں کے لئے سلائی مشینیں، بچوں کے لئے کمپیوٹر اور کتابیں دینا چاہتے ہیں تو محترمہ ناہید اسلم سے فون نمبر 0300-4803348 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔اگر محترمہ سعدیہ راشد پورے ہمدرد سنٹر کو برادرم علی بخاری سمیت المشرق سکول کی خدمت کے لئے ٹاؤن شپ بھیج سکتی ہیں تو آپ کیوں نہیں وہاں جا سکتے؟

مزید : کالم