ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ،پارلیمان قوم کو متحد اور تمام اداروں کو آئین کے تحت امور کی انجام دہی یقینی بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا:رضا ربانی

ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ،پارلیمان قوم کو متحد اور تمام ...
ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ،پارلیمان قوم کو متحد اور تمام اداروں کو آئین کے تحت امور کی انجام دہی یقینی بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا:رضا ربانی

  


دادو(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، پارلیمان  قوم کو متحد کرنے اور تمام اداروں کی آئین کے تحت امورکی انجام دہی کو یقینی بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا، اگر پارلیمنٹ کام نہیں کرتی تو حکومتی نظام کار رک جائے گااور ریاستی مشنری کام کرنا چھوڑ دے گی ،خودمختاری کے تحفظ کے معاملے پرپارلیمان کو پاکستان کی آواز اور شناخت بننا پڑے گا، پارلیمان 1973کے آئین کے تحت یا اس کے ذریعے کام کرنے والے تمام اداروں کا محور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پیر الہی بخش کالج دادو میں منعقدہ تقریب میں  خطاب کرتے ہوئے  چیئرمین سینٹ  میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مرکزیت 1973کے آئین میں واضح طور پر موجو د ہے ، آج ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے ، خاص طور پر ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشگردی کے خاتمے کے لیے غیرریاستی عناصر کے خلاف آپریشن کررہے ہیں، پارلیمان کو قوم کو متحد کرنے اور تمام اداروں کی آئین کے تحت امورکی انجام دہی کو یقینی بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا، پارلیمان یمن کے بحران ،کلبھوشن یادیو کے معاملے، افغانستان کے حوالے سے امریکی صدر کی پالیسی کے موثر جواب اور خاص طور پر عالمی قوتوں کی جانب سے بھارت کو خطے کے پولیس مین کا کردار سونپنے کی کوشش کو واضح طور پر رد کرنے میں کرداربہت نمایاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 70کے تحت پارلیمان مالیاتی امور اور بجٹ سے متعلق قانون سازی کا اختیار رکھتا ہے اور ایک اہم پہلویہ ہے کہ ملک میں کسی بھی قسم کا ٹیکس پارلیمان کی منظوری کے بغیر نہیں لگایا جاسکتا۔انھوں نے کہا کہ آئین میں یہاں تک درج ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو وفاقی حکومت 4ماہ تک اخراجات کرسکتی ہے لیکن اسکی آئین کے آرٹیکل 86کے تحت قومی اسمبلی سے توثیق لازمی ہے۔چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ کام نہیں کرتی تو حکومتی نظام کار رک جائے گااور ریاستی مشنری کام کرنا چھوڑ دے گی کیوں کہ آئین کے آرٹیکل 98کے تحت ماتحت ادارے پارلیمان کے بنائے گئے قانون کے تحت کام کرسکتے ہیں۔

مزید : قومی


loading...