فوج کونیچادکھانے کیلئے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی باتیں کی جاتی ہیں, نواز شریف کو ایک منٹ بھی پارٹی صدر نہیں رہنا چاہئے:افتخار چوہدری

فوج کونیچادکھانے کیلئے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی باتیں کی جاتی ہیں, ...
فوج کونیچادکھانے کیلئے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی باتیں کی جاتی ہیں, نواز شریف کو ایک منٹ بھی پارٹی صدر نہیں رہنا چاہئے:افتخار چوہدری

  


اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ نوازشریف کوملک کی سب سے بڑی عدالت نے دوبار بددیانت اورنااہل قراردیا،جسکے بعدایک منٹ بھی نوازشریف کوپارٹی صدرنہیں رہناچاہئے ،پارٹی صدربننے کی ترمیم سپریم کورٹ نے ختم کردی تواداروں کے درمیان محاذآرائی نہیں ہوگی ،اعلیٰ عدلیہ کسی گرینڈڈائیلاگ کاحصہ نہیں بنے گی ،سول ملٹری تعلقات میں تناؤنہیں ،فوج کونیچادکھانے کیلئے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی باتیں کی جاتی ہیں۔

 نجی ٹی وی چینل ’’ڈان نیوز ‘‘  سے خصوصی  گفتگوکرتے ہوئے  سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہاکہ الیکشن اصلاحات کابل عجلت میں پاس کیاگیا کیونکہ نوازشریف کوپارٹی صدربننے کی جلدی تھی ،سپریم کورٹ الیکشن اصلاحات بل کومستردکردے گی ۔انہوں نے کہاکہ قسم اٹھانے اوراقرارکرنے میں فرق اراکین پارلیمنٹ کونہیں معلوم تووہ نااہل ہیں ،ختم نبوت ﷺ حلف نامے میں ترمیم جان بوجھ کرکی گئی ،یہ کلیریکل غلطی نہیں تھی۔ افتخارچوہدری نے کہاکہ سابق وزیراعظم کوملک کی سب سے بڑی عدالت نے دوبار بددیانت اورنااہل قراردیا،ایک نااہل شخص کے پارٹی صدربننے سے جرائم پیشہ افرادبھی پارٹی سراباہان بنیں گے ،بنیادی حقو ق کی خلاف ورزی پرسپریم کورٹ ایکشن لے سکتی ہے ، نوازشریف کونااہلی کے بعدایک منٹ بھی پارٹی صدرنہیں رہناچاہئے تھا۔انہوں نے کہاکہ صادق اورامین کی بات نوازشریف کے منہ سے اچھی نہیں لگتی ،نوازشریف خودپی سی اوکی پیداوارہیں ،آرٹیکل62ایف ون کے تحت نااہلی تاحیات ہوگی ، سپریم کورٹ نے الیکشن اصلاحات بل شق203ختم کی تواداروں کے درمیان محاذآرائی نہیں ہوگی ،عدلیہ پرتنقیدکرکے نوازشریف توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ،ہم نوازشریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دینے جارہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ فوج اورحکومت کے درمیان کوئی تناؤنہیں اورنہ ہی ہوناچاہئے ،فوج کوبطورادارہ نیچادکھانے کیلئے سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی کی باتیں کی جارہی ہیں ،احتساب عدالت میں رینجرزتعیناتی کامعاملہ نہیں ہوناچاہئے تھا،اب اس ملک میں کوئی مارشل لاء نہیں لگے گا،اب یہاں سول حکمرانی ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ اداروں کے درمیان گرینڈڈائیلاگ نہیں ہونے چاہئے ،اعلیٰ عدلیہ کسی گرینڈڈائیلاگ کاحصہ نہیں بنے گی ،امیدہے کہ کوئی بھی معززجج  کسی شخص سے وفاداری کاحلف نہیں اٹھائے گا،2018ء الیکشن میں جسٹس اینڈڈیموکریٹک پارٹی بھرپورحصہ لے گی ،اگرانتخابات صاف وشفاف نہ ہوئے توبھرپوراحتجاج کریں گے۔

مزید : قومی


loading...