رافیل طیارہ کرپشن ۔ مودی حکومت کا نیا امتحان

رافیل طیارہ کرپشن ۔ مودی حکومت کا نیا امتحان
رافیل طیارہ کرپشن ۔ مودی حکومت کا نیا امتحان

  

راہول گاندھی مودی کے خلاف بڑا پتہ کھیل گئے ہیں ۔موقع غنیمت جان کرانہوں نے رافیل طیاروں کی کرپشن کو بے نقاب کر دیا ہے ۔الیکشن کے دنوں میں یہ کسی سیاست دان کے لیے یہ چال بڑی چالبازی سے کم نہیں ۔مودی حکومت کے لیے رافیل طیارہ کرپشن مسائل کا سبب بھی بن چکی ہے ۔ خصوصاً سابق فرانسیسی صدر نے بھی یہ گواہی دے دی ہے کہ یہ سب کچھ مودی سرکار کی خواہش پر ہوا ہے ۔

راہول گاندھی کا موقف ہے کہ طیارے مہنگے خریدے گئے ہیں اور اس کی تمام تر دیکھ بھال ،مرمت اور دیگر سہولتوں کو بنانے کا ٹھیکہ امبانی کی کمپنی ریلائینس ڈیفنس کو دیا گیا ہے جو اس معاہدہ سے صرف بارہ دن پہلے بنائی گئی تھی۔ اس سے پہلے یہ تمام امور ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کو دیا جانا تھا۔ یہ رقم تقریباً 2.36 ارب ڈالر بنتی ہے یعنی کل رقم 8.6 ارب ڈالر کا 30 فیصد حصہ ہے ۔انڈیا نے 2011ء میں نئے لڑاکا طیاروں کے لیے آفرز مانگی تھیں جس میں میراج۔2000 ایس خریدنے کی بنیادی خواہش تھی کیونکہ کارگل کی جنگ میں بھارتی فضائیہ نے انہیں سٹرائیک طیارے کے طور پر بہت کامیاب پایا تھا لیکن فرانس نے رافیل طیاروں کی آفر کی اور ان طیاروں کو بھارتی ایس یو30 طیاروں کے مقابل اڑا کر دیکھا گیا اور کامیاب قرار دیا گیا۔ یورو فائیٹر طیاروں کو بھی پسند نہ کیا گیا جو اس دوڑ میں کافی سالوں تک شامل رہا۔ 2011ء میں 124 رافیل طیاروں کو ٹیکنالوجی سمیت خریدنے کا اعلان ہوا تاکہ ملک میں ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس اسے بنا سکے ۔2012ء میں اس معاہدہ کو حتمی شکل دینے کا اعلان ہوا اور پروگرام طے ہوا کہ 2015ء تک فرانس 18 طیارے خود فراہم کرے گا جبکہ بقایا طیارے ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس تیار کرے گی ۔اس معاہدہ کا حجم 20 ارب ڈالر تھا کیونکہ اس میں رافیل طیاروں کی مکمل سہولیت فراہم ہونا تھیں ۔اس کے بعد ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس نے اس قابل ہو جانا تھا کہ وہ ملک میں لائسنس کے تحت پرزہ جات بنا کر طیاروں کو مینوفیکچر کر سکے ۔لیکن اچانک یہ ساری ڈیل خاموش ہو گئی اور تین سال ایسے ہی گزر گئے ۔بعد میں اندرونی کہانی سامنے آئی کہ فرانس ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کے معیار سے مطمئن نہیں تھا اور اپنی ٹیکنالو جی یہاں دینے پر راضی نہ ہوا۔اسی لیے اب یہ ٹھیکہ نجی کمپنی کو دیا گیا۔

امریکہ نے بھی انڈیا میں ایف۔16 کے پروں کو بنانے کا پلانٹ لگانے کا اعلان کیا ہے اور یہ ٹھیکہ بھی ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کی بجائے نجی کمپنی کو دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کی مکمل ناکامی کے باعث انڈیا کو طیارہ سازی میں مکمل ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ۔یہ ادارہ مگ طیاروں کی اوور ہالنگ ،جدت اور بہتر ی کے کسی ٹاسک کو پورا نہیں کر پایا اسی وجہ سے 1963 سے 2013 تک جو طیارے بھی یہاں اوور ہالنگ ،جدت اور بہتر ی کے دور سے گزرے ،وہ گر کر تباہ ہوئے۔ انڈیا نے 1200 مگ طیارے 1963 سے 2013 تک خریدے جن میں سے 850 گر کر تباہ ہو چکے ہیں یا ناکارہ ہو چکے ہیں۔وجہ ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کی ناقص کارکردگی تھی ۔

انڈین حکومت نے روس کی ٹیکنالو جی کو الزام دے کر روس کو تحقیق اور جواب دہی کے لیے ملک میں بلایا تو نیتجہ میں روس نے ہندوستان ائیر ناٹیکل کمپلکس کی نالائیقی کا ثبوت بھی دیا اور سخت جواب بھی دیا۔روس نے جس طرز پر انڈیا کو آسان ٹیکنالو جی دی تھی وہ پاکستان کو ملی ہوتی تو پاکستان اس میدان میں غیر معمولی سطح پر ہوتا۔انڈیا فرانس ،اسرائیل ،روس اور امریکہ کی مدد کے باوجود ملکی طور پر جو طیارہ بنا پایا اس میں اسے 35 سال لگ گئے جبکہ خرچہ 36000 کرڑو روپے آیا اور اسے بھارتی فضائیہ خریدنے کو تیار نہیں ۔

جناب مودی جب پہلی مرتبہ فرانس کے دورے پر گئے تو رافیل طیاروں کی خریداری کا اعلان ہو ا تو یہ اعلان خود انڈیا میں بھی بہت حیر ت سے لیا گیا خصوصاً ان طیاروں کی تعداد اور دیگر تفصیلات کو بھی بہت حیرت سے لیا گیا اور تب سے انڈیا میں ساری ڈیل ہی تنازع کا باعث بنی ہوئی ہے مودی حکومت اپنی مدت پورا ہونے سے پہلے رافیل طیاروں کی نیول ساخت کو بھی خریدنا چاہتی ہے ایسے 54 طیاروں کی خریداری کے لیے بھارتی بحریہ کو رپورٹ تیار کرنے کا کہا جا رہا ہے ۔یہ طیارے انڈیا کے نئے طیارہ بردار جہاز کے علاوہ پرانے روسی مگ ۔29 کے اور برطانوی سی۔ہیرئیر کی جگہ لیں گے۔

حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ روس کے صدر پوٹن کے دورہ بھارت میں لڑاکا طیاروں کی فروخت کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ۔انڈیا پہلے ہی سخوئی ۔35 اور سخوئی ۔57 کو یہ کہہ کر رد کر چکا ہے کہ یہ بہت مہنگے ہیں جبکہ رافیل پر خرچہ دوہرا آیا۔یعنی انڈیا اب اپنی فضائیہ کے لیے یورپی اور امریکی طیاروں کو ترجیح دے گا۔

بھارتی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ 526 کروڑ کے ایک جہاز کی بجائے 1680 کروڑ کا ایک جہاز خریدا گیا ہے اور اس معاہدہ کا اصل فائدہ امبانی گروپ کو دیا گیا ہے جبکہ مودی سرکار کا کہنا ہے کہ یہ طیارے مصر اور قطر کے مقابلے میں سستے خریدے گئے ہیں ۔ راہول گاندھی سے کہا گیا ہے کہ وہ پہلے اپنی پارٹی کے دور کی اس ڈیل کا حساب دیں جس میں سخوئی ۔30 طیارے 300 کروڑ کی بجائے 500 کروڑ میں خریدے گئے تھے ۔ یہ معاملہ کہاں جا کر رکتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن بھارتی فضائیہ اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کی 70 فیصد فضائیہ مفلوج ہو چکی ہے۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -