اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 52

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 52

  

سخت ناامیدی اور پریشانی کے عالم میں ایک درخت کے قریب سے گزرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سپیرا ٹھنڈی چھاؤں میں پڑا سو رہا ہے۔ بین اس کی گود میں ہے اور پٹاری جس میں سانپ بندہوتے ہیں اس کے پاس ہی تھی۔ میں نے کوئی خیال نہ کیا۔ سوچا بے چارہ تھکا ہارا ہوگا۔ ٹھنڈی چھاؤں دیکھ کر سوگیا ہے۔ جونہی میں اس کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ پٹاری میں اپنے آپ حرکت پیدا ہوئی اور اس کی ڈھکن اچھل کر پورے گر پڑا اور ایک تین فٹ لمبا کالا ناگ باہر نکل کر اپنا پھن لہراتا میرے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔

میں اسے سے ڈرا بالکل نہیں۔ کیونکہ وہ مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔ مگر حیران ضرور ہوا کہ یہ اپنے آپ پٹاری سے نکل کر میرے سامنے کس لئے آگیا ہے۔ اچانک مجھے اپنے سانپ دوست قنطور کی خوشبو آنے لگی۔ میں نے سانپ کی سرخ آنکھوں کو گھور کر دیکھا۔ سانپ نے اپنا پھن سکیڑا۔ نیچے ہوا اور میرے آگے آگے رینگنے لگا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ میرا راستہ بھی وہی تھا۔ ٹیلے کا موڑ گھومتے ہی سانپ نے پھنکار کی ایک دہشت ناک آواز نکالی اور دسرے لمحے وہ اپنا سانپ کا روپ بدل چکا تھا اور اب میرے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ اس نے لپک کر مجھے گلے لگالیا۔ میں بھی اس سے بڑی گرم خوشی سے بغل گیر ہوا اور پوچھا کہ وہ ایک سپیرے کی پٹاری میں کیوں کر قید ہوگیا۔ قنطور نے کہا۔

’’ عاطون ! میرے دوست! دنیا کا کوئی سپیرا مجھے اپنا قیدی نہیں بنا سکتا۔ یہ تو میں اپنی مرضی سے اس کی پٹاری میں بند ہوں۔ بے چارہ غریب آدمی ہے۔ میرا تماشا دکھا کر اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہے۔ میر اکیا بگڑتا ہے تم بتاؤ تم یہاں ہند میں کیسے آگئے اور بابل میں تم اچانک کہاں غائب ہوگئے تھے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 51پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نے اپنی ساری رام کہانی بیان کردی اور بتایا کہ چونکہ میں صدیوں کا مسافر ہوں اور تقدیر مجھے کس بھی دور سے اچھال کر دو چار سال آگے کی طرف لے جا سکتی ہے۔ چنانچہ بابل کے نواح میں اس رات ایسا ہی ہوا کہ ایک تاریخی جھٹکے کے ساتھ پانچ سو سال آگے سکندر اعظم کے زمانے میں پہنچ گیا اور اب یہاں راجہ پورس کے محل میں سکندر کے گہرے دوست بطلیموس کی حیثیت سے رہ رہا ہوں۔

’’ مگر میرے دوست قنطور اس وقت مجھ پر ایک عجیب مصیبت آن پڑی ہ، یہ عشق کی مصیبت ہے۔‘‘

قنطور کہنے لگا۔ ’’ تم ہر بار عشق کے چکر میں کیوں پھنس جاتے ہوں دوست؟‘‘

میں نے کہا۔’’ میرے اندر ایک انسان کی تمام خوبیاں اور کمزوریاں موجود ہیں۔ میں روپا کے حسن و جمال کے آگے بے بس ہو چکا ہوں مگر وہ اپنے خاوند کو نہیں چھوڑرہی ۔ کہتی ہے اس بڈھی کے ساتھ چتا کی آگ میں جل کر مرجاؤں گی اور وہ بڈھا مرنے ہی والا ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ اب تک موت کا لقمہ بن چکا ہو۔‘‘ پھر میں نے روپا سے اپنے عشق اور پیش افتاد مسائل کی ساری تفصیلات قنطور کے گوش گزار کردی۔ اس نے کہا۔

’’ تمہیں یہ سن کر خوشی ہوگی کہ ان پانچ سالوں میں میں نے طویل ریاضتوں اور چلہ کشی کی مدد سے وہ مقام حاصل کر لیا ہے جہاں پہنچ کر میں جس انسان یا جانور کی چاہے شکل اختیار کر سکتا ہوں۔ اس سے پہلے میں سانپ سے انسان اور انسان سے سانپ کی شکل بدل سکتا تھا لیکن اب میں جس چرند پرند یا انسان کی شکل چاہوں اس کا تصور ذہن میں لا کر تبدیل کر سکتا ہوں۔ اب مجھے ناگ دیوتا کا مقام حاصل ہوگیا ہے۔ ‘‘

میں نے قنطور کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا۔’’ خدا کے لئے روپا کے سلسلے میں میری مدد کرو۔ وہ بت پرست عورت ہے ۔ اس بڈھے خاوند کی لاش کے ساتھ ستی ہوجائے گی۔ ‘‘

قنطور نے کہا۔ ’’ تم فکر نہ کرو عاطون ، کچھ نہ کچھ ہوجائے گا لیکن سب سے پہلے مجھے اس سپیرے کی مدد کرنی ہوگی جس کی روزی کا دارومدار میرے کھیل تماشے پر تھا۔ میرے ساتھ آؤ۔‘‘

ہم دونوں اس درخت کے پاس آگئے جہاں وہ سپیرا ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔ قنطور نے اپنے منہ میں انگلی ڈال کر ایک جگماتا ہوا سرخ یا قوت نکالا اور چپکے سے سپیرے کی پٹاری میں راکھ کر اوپر ڈھکنا دے دیا۔ کچھ فاصلے پر جا کر بولا۔

’’ یہ یا قوت اس کی پشتوں کے لئے کافی ہوگا۔ اب یہ سوچتے ہیں کہ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں تم ایسا کرو کہ مجھے اپنا نوکریا کوئی طبیب بنا کر قریب المرگ بڈھے کے پاس لے چلو میں تمہاری محبوبہ روپا کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘

یہ کوئی مشکل بات نہیں تھی ۔ میں نے وہیں سے چند ایک جڑی بوٹیاں اکھاڑ کر قنطور کو دے دیں اور کہا۔

’’ یہ بوٹیاں تم اپنے پاس رکھو۔ میں روپا اور اس کے رشتے داروں سے تمہارا تعارف مصری طبیب کے حیثیت سے کراؤں گا۔ تم کہنا کہ یہ بوٹیاں پانی میں گھول کر مریض کو پلا دی جائیں۔ یہ بے ضرر بوٹیاں ہیں۔ ‘‘

میں قنطور کو اپنے ساتھ روپا کے شاہی محل میں لے گیا۔ اس وقت وہاں راجہ پورس خود موجود تھا۔ اس کے دو سرے رشتہ دار اور روپا بھی۔ روپا کا بڈھا خاوند زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ اس کے سانس اکھڑ چکے تھے۔ راجہ پورس نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ میرے بھائی کو کسی طرح سے بچالو۔ میں نے قنطور کا ایک مصری طبیب کی حیثیت سے تعارف کروایا اور کہا کہ یہ طبیب ایک دوائی آزمانا چاہتا ہے۔ راجہ پورس کی اجازت سے قنطور نے بوٹیاں پیالے میں گھول کر موت کی آغوش میں آخری ہچکیاں لیتے ہوئے روپا کے خاوند کو پلا دیں۔ روپا کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو رہی تھیں۔ ظاہر ہے اس بوٹی کا کیا اثر ہونا تھا۔ روپا کا بڈھا خاوندآخری ہچکی لے کر مر گیا۔ روپا بچھاڑ کھا کر گری اور بے ہوش ہو گئی۔

اب اس کے خاوند کے ساتھ ستی ہونے کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ لاش کو رات کے پچھلے پہر پورے شاہی آداب او رمذہبی رسوم کے ساتھ جلایا جاناتھا۔ لاش محل کی بارہ دری میں رکھی ہوئی تھی۔ پروہت اور پجاری اس کے گرد بیٹھے بھجن کیرتن کر رہے تھے۔ ایک طرف ہون ہو رہا تھا۔ آگ میں گھی ، کستوری اور دوسری قیمتی نجور جلائے جا رہے تھے۔ روپا اب میرے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ وہ خود بھی ستی ہونے کو تیار تھی۔ کیونکہ وہ سخت مذہبی عورت تھی اور دیوتاؤں کے غضب سے تھر تھر کانپتی تھی کہ اگر وہ رسم کے مطابق اپنے خاوند کے ساتھ ستی نہ ہوئی اور میرے ساتھ فرار ہوگئی تو اس پر دیوتاؤں کا قہر نازل ہوگا۔ اسے شاہی محل کے مندر میں عورتیں اور پروہت ستی ہونے کے لئے تیار کر رہے تھے۔ اسے شادی کا سرخ جوڑا پہن کر دلہنوں کی طرح سنوارا جا رہا تھا۔ میں پریشان تھا۔ چاہتا تو اسے چلتی تلواروں میں وہاں سے نکال کر لے جا سکتا تھا مگر اس میں روپا کی زندگی کا خطرہ تھا اور اگر میں اسے کسی طرح بچا کر لے جانے میں کامیاب بھی ہوجاتا تو وہ میرے ساتھ کبھی نہ رہتی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ خود کشی کرلیتی۔ کیونکہ اب اس کے نزدیک اپنے خاوند کی لاش کے ساتھ جل مرنے میں اسی اس کی مکتی اور نجات تھی۔

میرا سانپ دوست قنطور میرے محل کی چھت پر میرے سامنے بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔ میں بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ روپا کے ستی ہونے کا وقت قریب تر آرہا تھا۔ میں نے قنطور کی طرف دیکھا کر کہا۔ ’’ تم کب تک سوچتے رہو گے قنطور؟‘‘ اس نے کچھ سوچ لیا تھا۔ وہ کسے فیصلے پر پہنچ گیا تھا۔ جلدی سے اٹھا اور بولا۔

’’ کیا تم جانتے ہو وہ شاہی شمشان بھومی کہاں پر ہے جہاں روپا کے خاوند کی لاش کو نذر آتش کیا جائے گا؟‘‘

میں نے اسے بتایا کہ روپا کے خاوند کی لاش کو شاہی مندر کے عقب میں ندی کے کنارے چلایا جائے گا۔ وہ بولا۔

’’ تم اس جگہ سے تھوڑی دور ندی پار میرا انتظار کرنا۔ اپنے گھوڑے کے علاوہ دو اور گھوڑے ساتھ لیتے آنا۔‘‘

میں نے اس سے پوچھنا چاہا کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے جس کے جواب میں اس نے کہا۔

’’ یہ تم مجھ پر چھوڑ دو عاطون! اور جتنی جلدی ہو سکتا ہے گھوڑوں کا بندوبست کر کے رات کے اندھیرے میں ندی پار کے درختوں میں جا کر چھپ جاؤ اور میرا انتظار کرو اور فکر نہ کرو روپا زندہ حالت میں میرے ساتھ ہوگی۔ وقت ضائع نہ کرو۔ ‘‘

مجھے اپنے ناگ دوست قنطور کی خفیہ طاقتوں پر بھروسہ بھی تھا اور دل میں یہ وسوسہ بھی تھا کہ ہوسکتا ہے ۔ اس کی حکمت عملی نا کام ہوجائے۔ کیونکہ یہ شاہی رسم ستی تھی اور اس کے لئے بڑا اہتمام کیا جا رہا تھا لیکن قنطور کے لہجے میں اس قدر بھرپور اعتماد تھا کہ میں آگے کوئی سوال نہ کرسکا اور جلدی سے محل کی چھت کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت رات کا دوسرا پہر گزر رہا تھا۔ میں راجہ کا شاہی طبیب تھا اور میرے لئے دو گھوڑوں کا بندوبست کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔ میں نے شاہی اصطبل سے دو تنومند برق رفتار گھوڑے لئے اور انہیں ساتھ لے کر شاہی مندر کے عقب میں ندی کے دوسرے کنارے پر صنوبر کے گھنے درختوں میں چھپ کر بیٹھ گیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں) 

مزید :

کتابیں -اہرام مصرسے فرار -