”پھر وہی پاﺅں وہی خار مغیلاں ہوں گے“

”پھر وہی پاﺅں وہی خار مغیلاں ہوں گے“
”پھر وہی پاﺅں وہی خار مغیلاں ہوں گے“

  


مقبوضہ کشمیر میں دہشتگرد بھارتی حکومت کے لاک ڈاﺅن اورکرفیوکو دوماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکاہے ، وادی میں ہر طرف سنسانی ہے ، ویرانیوں نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ بوڑھے بیمار اور مریض جانے کس حال میں ہیں اوران کا کیا بنا ؟کسی کوکچھ خبر نہیں ۔مریضوں کو ہسپتالوں میں جانے کی اجازت نہیں اور شہریوں کوگھر سے نکلنے کی ۔ دہشت گرد فوج کی طرف سے ہزاروں نوجوانوں بلکہ بچوں تک کوگرفتار کرکے نامعلوم مقامات پر مقامات پر منتقل کردیاگیا ہے ۔

آر ایس ایس کے فاشسٹ پیروکار بھارتی فوجی غنڈے کشمیریوں کے جوان بہنوں اوربیٹیوں کوگھروں سے اٹھا رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سربراہ کے مطابق اب تک تین سوبیٹیوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا ہے ۔ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فاشسٹ حکومت کے جانب سے کی جانیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مسلسل چیخ وپکار کررہی ہیں ۔

معروف عالمی جریدے کی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی عدلیہ کے کردار کو شرمناک قرارد یدیا گیاہے مگرمقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت غیر آئینی طور پرتبدیل کرنے کے بعدبھارتی کے انتہا پسنددہشتگرد حکومت ، عدلیہ اور انتظامیہ ایکا کرچکی ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کی دگر گوں صورتحال پر عالمی میڈیا کے شور وغوغا کے ساتھ ساتھ خود بھارت کے اندر سے ہونیوالے تنقید کے باوجود بھارتی فاشسٹوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ یوں محسوس ہوتاہے جیسے کشمیریوں کی تکالیف پر عالمی ضمیرکی اذیت بھی ان کے لئے مسرت و شادمانی کاباعث ہے ۔

یہ منظر بالکل پنجابی کی اس کہاوت ”چڑیاں دی موت تے گنواراں داہاسا“کی مثال بن چکاہے ۔ کشمیر یوں پر ڈھائے جانیوالے انسانی تاریخ کے ان بدترین مظالم پر پاکستان میں بھی احتجاجی مظاہروں ، جلسوں اور ریلیوں کا سلسلہ تقریباًاسی وقت سے جاری ہے جب سے بھارت نے غیرقانونی اقدام کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں کرفیولگا کر کشمیر کی آئینی حیثیت کوتبدیل کردیا تھا ۔ پانچ اگست کے بعد سے ہم کئی بار کشمیریوں کے ساتھ حکومتی سطح پریوم یکجہتی مناچکے ہیں ،اگرچہ ”امہ “نے اس معاملے پر کھل کر مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کا ساتھ نہیں دیا لیکن او آئی سی کی جانب سے بھارتی اقدام اور کشمیریوں کیخلاف مظالم کی مذمت کی جاچکی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم سے تاریخی تقریر کرکے مسئلہ کشمیر سے دنیا کو روشناس کروا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرچکے ہیں ۔ان کی تقریر کو بہت زیادہ سراہا گیا اوران کوذوالفقار علی بھٹو کے بعد دوسرا لیڈر قراردیا جارہاہے جن کی جانب سے اقوام متحدہ میں اس طرح پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے جذبات کی ترجمانی کی گئی بلکہ ہمارے ایک معروف دانشور جو ماضی میں ایک بڑے بیوروکریٹ بھی رہ چکے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کو عمران خان کے معاملے میں چوہا قرار دے چکے ہیں۔

اس سب کے باوجود معاملہ وہیں کا وہیں ہے جہاں سے پانچ اگست کوشروع ہوا تھا ۔عالمی سطح پر مذمتوں اور ترغیبات کے باوجود نہ تو بھارت کی بے شرمی اور ڈھیٹائی میں کوئی کمی آئی ہے اورناہی کشمیر یوں پرٹوٹنے والی آفات کا سلسلہ ختم ہوا بلکہ ان کے لئے ہر آنیوالا دن گزرتے دن سے مشکل تر ثابت ہورہاہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ کے تمام تر بلیک آﺅٹ کے باوجود ایسی خبریں عالمی میڈیا کی زینت بن رہی ہے کہ ریاستی دہشتگرد فورسز کی جانب سے نہتے کشمیریوں پرڈھائے جانیوالے مظالم شیطانیت کو بھی شرما رہے ہیں۔

ہمارے وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر چین کے دورے پر تشریف لے جاچکے ہیں اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ان کی روانگی سے قبل ہی چین پہنچ چکے ہیں جہاں وہ چین کی عسکری قیادت سے ملاقات کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی چینی صدر اور وزیر اعظم سے ہونیوالی ملاقاتوں میں بھی شرکت کریں گے ۔ وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران چینی قیادت کے ساتھ دیگر معاملات طے کرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر بھی زیر بحث آئے گا لیکن یہ امید کم ہی نظر آتی ہے کہ چین مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ملکر کسی مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کرسکتاہے ۔ اگرچہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی اقدام کے حوالے سے چین کو بھی لداخ کے معاملے پر تحفظات ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ چین کے بھارت کے ساتھ معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں اس لئے یہ امید کم ہے کہ چین مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی ہم نوائی میں کھل کر بھارت کے سامنے آئے ۔ اس مسئلے پر پاکستان کو جتنی چینی حمایت پہلے سے حاصل ہے اس سے زیادہ کا ملنا بہرحال محال نظر آتاہے ۔ وزیر اعظم کے دورہ چین سے واپسی کے بعد شائد مظلوم کشمیریوں کے مصائب کے کچھ دن اور گزر چکے ہیں ۔ کشمیریوں کی حالت زار پر شاعر کے ایک شعر کا یہ مصرعہ ثانی صادق آتاہے کہ ”پھر وہی پاﺅں وہی خار مغیلاں ہوں گے“۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...