تاجروں کی ملاقاتوں کے بعد چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس

تاجروں کی ملاقاتوں کے بعد چیئرمین نیب کی پریس کانفرنس

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کاروباری برادری سے مشاورت کرے گا اس مقصد کے لئے چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے کاروباری طبقے نے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے سامنے نیب کے متعلق جن تحفظات کا اظہار کیا وہ بلا جواز تھے، تین شخصیات نے چند روز قبل تعریفی خط لکھے ان کا کہنا تھا کہ کوئی نیب افسر بزنس مین کو پیشی کے لئے فون نہیں کرے گا اگر کسی تاجر کو نوٹس آتا ہے تو پڑھ کر نیب کو جواب بھجوا دیں۔ ہمیں مزید معلومات درکار ہوں گی تو تاجر کو بلوانے کی بجائے سوالنامہ بھجوائیں گے اور اس وقت تک کیس رجسٹر نہیں ہوگا جب تک تاجر آکر اپنا نقطہ نظر پیش نہیں کر دیتا۔ کاروباری طبقے کے نمائندہ افراد کی وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے چیئرمین نیب جاوید اقبال نے کہا کاروباری طبقے نے نیب کے متعلق جن تحفظات کا اظہار کیا ان میں سے کچھ بے بنیاد ہیں، جنہیں مسترد کرتا ہوں نیب ایسا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ بزنس کمیونٹی کا مورال ڈاؤن ہو، معاشی سرگرمیوں میں کمی آئے لیکن بلا جواز تنقید کا جواب دینا ضروری ہے، ادارہ الزامات کی زد میں آئے گا تو سربراہ کی حیثیت سے خاموش بیٹھنا مشکل ہوگا تنقید تعمیری کریں اور بتائیں کہ چیئرمین کیا کرے کہ حالات بہتر ہوں ٹیکس چوری کے معاملات میں مداخلت نہیں ہو گی ایسے ڈیفالٹ کیس ڈیل نہیں کریں گے جو بینک نے نہ بھیجے ہوں سعودی عرب جیسا ماحول نہیں چاہئے پالیسیاں بنانے میں ہمارا کوئی کردار نہیں چیئرمین نیب نے ان خیالات کا اظہار ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

جناب چیئرمین کو اس کانفرنس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ کاروباری حضرات نے راولپنڈی کے جی ایچ کیو میں آرمی چیف کے رو برو اپنی بعض معروضات پیش کی تھیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ بعض حضرات تو اپنی بات کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ جذبات میں ایسی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں کاروباری حضرات اگر رو پڑے تھے تو یہ عین فطری ہے کیونکہ وہ آرمی چیف کو اپنی بپتا سنانے گئے تھے ان کی یہ کہانی کتنی درست تھی اور اس میں زیب داستان کتنی تھی یہ تو بتانے والوں کو معلوم ہوگا یا سماعت کرنے والوں کو، لیکن تاجروں اور صنعت کاروں کی داستانِ غم میں بہر حال ایسا کچھ ضرور تھا کہ جناب آرمی چیف نے انہیں وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے بھجوا دیا اور وزیر اعظم نے بھی کوئی وقت ضائع کئے بغیر فوری طور پر ان سے مل بھی لیا اور شکایات کے ازالے کا وعدہ بھی کر لیا وزیر اعظم نے بھی ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا تھا اب معلوم نہیں یہ وہی کمیٹی ہے جس کا تذکرہ جناب چیئرمین نے کیا ہے یا وزیر اعظم اور چیئرمین صاحب دو الگ الگ کمیٹیاں بنا رہے ہیں، اس معاملے میں نیب جتنی تیزی سے حرکت پذیر ہوا ہے اس سے اتنا تاثر تو ضرور ملتا ہے کہ تاجروں کی باتوں میں کچھ تو ایسا ہوگا جسے ملک کے دو بڑوں نے نہ صرف پوری توجہ سے سنا بلکہ ان کے ازالے کا بھی وعدہ کیا اور چیئرمین نیب کو بھی اس معاملے میں خصوصی پریس کانفرنس کرنا پڑی۔

اب چیئرمین کا کہنا ہے کہ تاجروں کو نیب کا کوئی افسر فون نہیں کرے گا اور کوئی خط اگر کسی تاجر کو نیب کی طرف سے ملے تو وہ پڑھ کر جواب دے۔ اگر نیب کو مزید معلومات درکار ہوں گی تو سوالنامہ بھیج دیا جائے گا۔ چیئرمین نے مزید کہا ٹیکس معاملات میں نیب مداخلت نہیں کرے گا ان دونوں اقدامات سے لگتا ہے کہ نیب ٹیکس معاملات میں مداخلت بھی کرتا رہا ہے اور اس کے افسر تاجروں کو فون بھی کرتے رہے ہیں اس سلسلے میں سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اب نیب کے قانون میں پارلیمینٹ نے کوئی تبدیلی کر دی ہے یا کسی صدارتی آرڈی ننس کے ذریعے نیب کے پر کتر دیئے گئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے اور بظاہر نہیں لگتا کہ ان دنوں میں کوئی ایسا قانون بنایا گیا ہو، جس کے ذریعے نیب کے اختیارات بدل دیئے گئے ہوں تو پھر سوال یہ ہے کہ نیب افسر اگر پہلے قانونی طور پر تاجروں کو ٹیلی فون کرتے تھے اور اس کی قانون اور ادارے کا طریق کار اجازت دیتا تھا تو اب کیوں نہیں کر سکتے؟ اسی طرح اگر ٹیکس کے معاملات کو نیب پہلے دیکھ رہا تھا تو اب کس قانون نے اس کے ہاتھ روکے ہیں؟ واقعہ تو صرف اتنا ہوا ہے کہ کاروباری حضرات نے پہلے آرمی چیف سے اور پھر وزیر اعظم سے ملاقات کر کے اپنی شکایات پیش کیں، فی الحال ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ یہ درست تھیں یا غلط، جائز تھیں یا ناجائز لیکن ان دونوں ملاقاتوں کا اتنا اثر تو ضرور ہوا کہ چیئرمین نیب نے از خود بعض ایسے اقدامات کر ڈالنے کا اعلان کر دیا جس سے کاروباری حضرات کچھ ریلیف محسوس کریں۔ظاہرہے قانون اس کی اجازت دیتا ہو گا اسی لئے انہوں نے ایسا کیا۔لیکن اگر قانون کے مطابق پہلے سب کچھ ہو رہا تھا تو بہتر ہے پہلے نیب قانون تبدیل کیا جائے اور تاجروں کی شکایات جائز ہیں تو نئے قانون میں ان شکایات کے ازالے کی کوئی مستقل سبیل کی جائے۔ آرمی چیف اور وزیر اعظم نے مہربانی کی کہ تاجروں سے ملاقات کے لئے وقت نکالا، فرض کریں اگر یہ ملاقاتیں ہی نہ ہوئی ہوتیں اور تاجر حضرات ایسی کوششوں میں کامیاب ہی نہ ہوتے تو کیا چیئرمین نیب کو کسی ایسی پریس کانفرنس کی ضرورت محسوس ہوتی جو انہوں نے اتوار کے روز کرنا ضروری سمجھا جو ورکنگ ڈے نہیں ہوتا۔ انہوں نے ایمرجنسی میں پریس کانفرنس کر کے ثابت کیا کہ تاجروں کی ان دونوں ملاقاتوں کے ان کے ادارے پر بعض اثرات براہ راست مرتب ہوئے ہیں اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر چیئرمین کو کاروباری طبقے کے لئے بعض فوری ریلیفس کا اعلان کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی کیونکہ نیب تو جو کچھ بھی کسی کے خلاف کرتا ہے قانون کے مطابق کرتا ہے، تاجروں کو شکایت تھی تو وہ عدالت جاتے۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ تاجروں کی کہانی میں کہیں نہ کہیں انسانی پہلو ایسے موجود تھے جن کے ازالے کی ضرورت آرمی چیف نے بھی محسوس کی، وزیر اعظم نے بھی کمیٹی بنائی اور چیئرمین نے یک طرفہ طور پر بعض اقدامات کا اعلان کیا جن سے تاجر کچھ سہولت محسوس کریں ویسے ایک سوال تو یہ بھی بنتا ہے کہ کیا کاروباری طبقے کو اس طرح کی سہولتیں آفر کرنا ”امتیازی سلوک“ کی ذیل میں آتا ہے یا نہیں کیونکہ اگر دوسرے طبقات قانون کے مطابق نیب کے تحت قوانین کا سامنا کر رہے ہیں تو تاجر امتیازی سلوک کے مستحق کیوں گردانے گئے ہیں؟ ملک کے ہر شہری کے ساتھ یکساں اور مساوی سلوک کرنا آئینی ضرورت ہے کیا امتیازی سلوک آئین کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

مزید : رائے /اداریہ


loading...