24قدرتی آفات اور ہماری بدنظمی

24قدرتی آفات اور ہماری بدنظمی
24قدرتی آفات اور ہماری بدنظمی

  


ستمبر کو آزادکشمیر کے اضلاع میرپور اور بھمبر میں آنے والے زلزلے نے 2005 کے بعد ایک بار پھر آزادکشمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔ گو اس بار زلزلہ کی شدت کم تھی اور مرکز میرپور اور جہلم کے درمیان تھا۔ جانی نقصان تو بہت زیادہ نہیں ہوا لیکن میرپور، جاتلاں، کھڑی شریف اور نواح میں لا تعداد مکانات کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ منگلا ڈیم محفوظ رہا۔ لیکن نہر اپر جہلم کے دونوں کناروں سے بعض علاقوں کی زمین پختہ سڑکوں سمیت کھسک کر نہر کے اندر چلی گئی ہے۔ فوج نے فوری ریلیف کے ذریعے لوگوں کو بہت زیادہ مشکلات سے بچا لیا لیکن جہاں اس قدرتی آفت نے عوام کے 2005 والے جذبے کی یاد تازہ کی ہے۔ وہیں پر انی بداعمالیوں اور بے اعتدالیوں کی یاد بھی تازہ ہو گئی ہے۔اس ساری خرابی کے پیچھے چند عوامل ہیں۔

سب سے پہلے یہ کہ قوم تقسیم در تقسیم ہے۔ انتہا پسندی اور ہٹ دھرمی نے اس تقسیم کی دیواروں کو اتنا مضبوط کر رکھا ہے کہ اس قید سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ یہ تقسیم مذہبی بھی ہے۔، سیاسی بھی، لسانی بھی ہے اور علاقائی بھی۔ لیکن قدرتی آفات کے مواقع پر بے اعتدالیوں کا تعلق سب سے زیادہ نمائشی اور خود نمائی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ہر جماعت،مذہبی اور سماجی تنظییں اپنے اپنے جھنڈوں کے ساتھ امداد تقسیم کرتی نظر آتی ہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور بڑی وجہ بد اعتمادی اور بے اعتباری کی ہے۔ کیونکہ کئی ایک تنظیموں کی بدعنوانیاں سامنے آنے سے سب کا اعتبار چلا جاتا ہے۔ اور پھر کئی مخیر حضرات براہ راست زلزلہ متاثرین تک اپنی مدد پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس طرح امدادی کام میں کسی کا کوئی کنٹرول رہ جاتا ہے نہ کوئی حساب اور احتساب کا طریقہ۔

سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ اتنی بڑی قدرتی آفت کے باوجود لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے اور بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کئی غیر مستحق اور پیشہ ور گداگر ایسے موقع پر لوگوں سے امداد اینٹھ لے جاتے ہیں۔ اور کئی مستحق خاندان اسی طرح بے یار و مددگار دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اس ہوس کے پیچھے بھی معاشرے میں بے انصافیوں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور حکومتی سطح پر اقربا پروری کی داستانیں ہیں۔ حالیہ زلزلہ کی امداد کی تقسیم کے دوران بھی بدعنوانیاں سامنے آئی ہیں۔ سرکاری ملازمین نے لوگوں سے 10، 10 ہزار روپے رشوت لیکر خیمے دیئے اور کئی ملازمین یا افسران نے خیمے اور دوسرا امدادی سامان اپنے پاس سٹور کر لیا جو بعد میں پکڑا بھی گیا۔ جب ملک کے اندر انصاف اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا نظام نہیں ہوتا تو پھر نفسا نفسی کا عالم ہوتا ہے۔

راقم نے خود زلزلہ متاثرین کے علاقوں کا گھر گھر جا کر مشاہدہ کیا ہے اور ان کی امداد کے لیے اپنے تمام دوستوں سے اپیل کر کے اچھی خاصی رقم کا انتظام کیا ہے۔ اور اس امداد کی تقسیم کا طریقہ کار بھی پوری تحقیق کے ساتھ اس طرح بنایا ہے کہ یہ امداد حقداروں تک پہنچ سکے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ان خرابیوں کو درست کیسے کیا جا سکتا ہے؟اس میں سب سے پہلے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے اور حکومت کا اعتبار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ حکومت عوام میں سے اچھی شہرت کے افراد بالخصوص مخیر حضرات کو شامل کرکے حکومت سے اچھی شہرت کے افسران یا ملازمین کے ساتھ مشترکہ ادارہ قائم کرے۔ اور ان تمام لوگوں کو بین الاقوامی فلاحی اداروں کی زیر نگرانی تربیت دلوائی جائے۔ اور پھر اس کے اوپر بھی نگرانی کا طریقہ کار ہونا چاہیے۔ اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی پر سنگین سزا مقرر کی جائے جس پر ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات مکمل کر کے عملدرآمد کروایا جائے۔

اس طرح تمام ڈونرز سے اپیل کی جائے کہ اپنی امداد صرف اسی ادارے کے پاس جمع کروائیں اور جو لوگ رضاکارانہ خدمات میں حصہ لینا چاہتے ہیں وہ بھی اسی ادارے سے رابطہ کریں۔ اس طرح اس ادارے کا اعتماد قائم ہو سکتا ہے۔ اور امداد تقسیم کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور نہ لوگوں کو قطاروں میں کھڑا کر کے خوار کیا جائے۔ امداد کی تقسیم کا ایک ایسا طریقہ کار بنایا جا سکتا ہے کہ مستحقین کو خاموشی سے ان کا حق مل جائے۔ ایسے کسی ادارے کے قائم ہو جانے سے ملک کے اندر سے گداگری کے خاتمے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ایسا ادارہ بنانے کے لیے ترقی یافتہ اور فلاحی ممالک میں قائم سوشل سیکیورٹی کے اداروں سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...