کیا سیاسی تصادم کے خطرات منڈلا رہے ہیں؟

کیا سیاسی تصادم کے خطرات منڈلا رہے ہیں؟
کیا سیاسی تصادم کے خطرات منڈلا رہے ہیں؟

  


کیا ملک میں ایک بڑے سیاسی تصادم کے خطرات منڈلا رہے ہیں؟ یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں آج کل کروٹیں لے رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس طرف جا رہی ہیں، جہاں کچھ بھی ہونے کا امکان موجود ہے۔ دیکھا جائے تو اس وقت اندھیرے میں تیر چلانے کی غیر علانیہ مشق جاری ہے۔ بظاہر فرنٹ لائن میں مولانا فضل الرحمن ہیں، لیکن دوسری صف میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور اے این پی بھی مستعد کھڑی ہیں۔ سب کا ایجنڈا ایک ہے کہ کسی طرح موجودہ حکومت کو چلتا کیا جائے۔ اس کے لئے کیا قیمت چکانا پڑتی ہے یا تدبیریں الٹی پڑ گئیں تو کیا ہو گا، فی الوقت اس پر سوچنے کی کسی کے پاس فرصت نہیں، اگر جے یو آئی کے بیانیہ پر نظر رکھی جائے تو صاف لگتا ہے کہ اس میں نہ صرف حکومت، بلکہ قومی اداروں کو وارننگ دینے کا سلسلہ بھی در آیا ہے۔ گویا ریاست کی رٹ کو پانی کا بلبلہ ثابت کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی گئی ہے۔ حکومت اپنی جگہ پر ڈٹی ہوئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کوئی لچک دکھانے کو تیار نہیں۔

مولانا فضل الرحمن تو صرف وزیراعظم عمران خان کو گھر بھیجنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر کھڑے ہیں، تاہم اگر حکومت احتساب، پارلیمنٹ کی بالادستی اور اس سے منسلک دیگر امورپر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو مذاکرات کی دعوت دے تو جو ڈیڈ لاک بظاہر نظر آ رہا ہے وہ ختم ہو سکتا ہے، مگر عمران خان ایک ایسی حالت کا شکار ہو چکے ہیں، جس میں لچک دکھاتے ہی سب کروفر ختم ہو جاتا ہے، اس لئے وہ اب ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے جو ان کی کمزوری کو ظاہر کرے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسی جتنی بھی ”حکومت ہٹاؤ“ تحریکیں چلتی رہی ہیں، ان میں امید کا مرکز اسٹیبلشمنٹ اور فوج ہوتی ہے۔ اب ظاہر ہے اس بار بھی ایک بڑا آزادی مارچ اورپھر ڈی چوک پر دھرنا اسی امید پر کیا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور فوج میدان میں آئیں گی اور وزیراعظم سے استعفا لے کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گی……”جانے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک“…… یہ اس قدر رسکی گیم ہے، جیسے پل صراط سے گزرنا ہو۔ ہم اپنی تاریخ میں پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ اس قسم کے ایڈونچر کے بعدجمہوریت کی بساط لمبے عرصے کے لئے لپیٹ دی جاتی ہے۔ ایک چلتی ہوئی حکومت اور جمہوری سیٹ اپ درمیان میں روک کر جب آئین سے بالا بالا فیصلے کرائے جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ نتیجہ وہی ہو جو ہم نے سوچ رکھا ہے۔

پھر تو کچھ بھی پردہئ غیب سے نمایاں ہو سکتا ہے۔ شاید یہی وہ خدشہ ہے جو مسلم لیگ (ن) خاص طور پر شہباز شریف اور پیپلزپارٹی کو کھل کر مولانا فضل الرحمن کی حمایت سے روکے ہوئے ہے اور اگر مگر کے ذریعے بات کو ٹالا جا رہا ہے، لیکن وقت تو بڑی تیزی سے گزر رہا ہے۔ اگر تیر کمان سے نکل گیا اور معاملہ سڑکوں پر حل کرنے کی نوبت آ گئی تو شاید اس وقت بہت دیر ہو چکی ہو۔ پھر شاید کسی کے پاس بھی موقع نہ رہے کہ وہ جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہ دے، بلکہ سب اس سیلابی ریلے میں بہہ جائیں گے۔

حکومت سمیت کسی کو اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ نا کام ہو جائے گا۔ مولانا سیاست کے پرانے کھلاڑی ہیں اور جانتے ہیں کہ جب ایسی فضا پیدا ہوتی ہے تو ہمیشہ حکومت نقصان میں رہتی ہے۔ مارچ کرنے والوں کا کچھ بھی نہیں بگڑتا۔

اس بار آزادی مارچ کے قافلے ملک کے کونے کونے سے نکلیں گے، انہیں جگہ جگہ روکنا تو ممکن نہیں، اس طرح تو اس مارچ کے منتظمین کا مقصد اور زیادہ آسان ہو جائے گا کہ پورے ملک میں انتشارکی فضا پیدا ہو جائے گی، ملک میں خانہ جنگی جیسی صورت حال تو پیدا نہیں کی جا سکتی۔ حکومت کے بعض مشیران یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ اس وقت پی ٹی آئی بھی اپنی بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے۔ ایسے مشوروں سے عمران خان کو اللہ بچائے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آزادی مارچ کے شرکاء اور پی ٹی آئی کے حامی آمنے سامنے ہوں گے، پھر نتیجہ کیا نکلے گا، کوئی عام فہم شخص بھی اس کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس وقت ایک مشکل صورت حال ہے، جس سے نکلنے کے لئے جوش یا جذباتیت کی بجائے ہوش کی ضرورت ہے۔ یہ بات تو ظاہر ہے جو مطالبہ سامنے رکھ کر مولانا فضل الرحمن یہ آزادی مارچ کر رہے ہیں، وہ پورا نہیں ہو سکتا، یعنی وزیر اعظم عمران خان کا استعفا ……

انہیں دوسرے کسی نکتے پر مذاکرات کی دعوت دی نہیں جا سکتی، وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 27 اکتوبر کا مارچ صرف اسی صورت میں ختم ہو سکتا ہے، جب اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان اسمبلیاں توڑ کر نئے انتخابات کا اعلان کر دیں۔ ایسے میں حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ اس آزادی مارچ کے عفریت کا ایک بار تو سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ یہ بڑی جرأت کا حامل فیصلہ ہوگا، اگر آزادی مارچ کے شرکاء کو بلا رکاوٹ اسلام آباد پہنچنے کا موقع دے دیا جائے۔ بالفرض پندرہ لاکھ لوگ بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں اور کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا، جے یو آئی کے مطابق آزادی مارچ کے شرکاء پُرامن رہیں گے، ایک گملا بھی نہیں توڑیں گے تو کم از کم پورے ملک میں انتشار پھیلنے کی بجائے اسلام آباد میں ایک دھرنا شروع ہو جائے گا۔ اب یہ حکومت نہیں،بلکہ مولانا فضل الرحمن کا امتحان شروع ہو جائے گا کہ وہ اتنی بڑی تعداد میں دھرنے کے شرکاء کو پُرامن رکھیں، ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کریں اور اپنے مطالبے پر ڈٹے رہیں۔

یہ کوئی آسان مرحلہ نہیں ہوگا۔ لاکھوں افراد کو کھلے آسمان تلے بٹھانا اور پھر ان کی روٹی دال کا بندوبست کرنا ایک بہت بڑا امتحان ہے، جسے شاید منتظمین دو دن بھی برداشت نہ کر سکیں، لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا اور حکومت نے اس مارچ اور دھرنے کو ناکام بنانے کے لئے روایتی طریقے استعمال کئے تو شاید ایسی صورتِ حال پیدا ہو جائے، جیسی مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں۔

کیا عجب صورتِ حال ہے کہ پورے ملک میں کوئی بھی یہ شک نہیں کر رہا کہ اس آزادی مارچ کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ ہے یا اسے فوج کی حمایت حاصل ہے۔ اس سے پہلے ہماری تاریخ میں ہمیشہ ایسی کسی سرگرمی کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہی تلاش کیا گیا ہے۔ جب عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا اور ڈاکٹر طاہر القادری اس میں شامل ہوئے تھے تو بچے بچے کی زبان پر تھاکہ عمران خان و ڈاکٹر طاہر القادری کسی کے اشارے پر سب کچھ کر رہے ہیں۔ جاوید ہاشمی تو عین وقت پر دھرنے سے علیحدہ ہو کر یہ اعلان کر گئے تھے کہ یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، رہی سہی کسر عمران خان نے امپائر کی انگلی اُٹھنے والی بات کہہ کر پوری کر دی تھی۔ ایک بار تو چینلز پر یہ بریکنگ نیوز بھی چل گئی تھی کہ جنرل راحیل شریف نے نوازشریف کو پیغام بھجوا دیا ہے کہ وہ استعفا دے کر گھر چلے جائیں، مگر کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔

اب صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب اپوزیشن کی طرف سے مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کو سلیکٹ کرنے والی قوتیں ان کی حمایت چھوڑ دیں۔ انہیں گھر بھیجنے میں اپوزیشن کی مدد کریں۔ واہ واہ کیا الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ کہاں وہ بیانیہ کہ اسٹیبلشمنٹ جمہوریت اور نظام کو چلنے دے اور کہاں یہ التجائیں کہ حکومت کو ہٹانے کی تحریک میں رکاوٹ نہ بنیں۔ تاجروں کی چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات میں وفاقی وزراء کو ساتھ بٹھانے سے یہ اشارہ تو مل چکا ہے کہ فوج اور حکومت واقعی ایک پیج پر ہیں۔ ایسے میں کسی بڑے بریک تھرو کا امکان نظرنہیں آتا تو پھر اس مہم جوئی کا انجام کیا ہو گا؟ یہ وہ سوال ہے جو ایک بڑے تصادم اور بگاڑ کی نشاندہی کر رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...