سبق پھر پڑھ شرارت کا…………

سبق پھر پڑھ شرارت کا…………
سبق پھر پڑھ شرارت کا…………

  


پتہ نہیں ہمارے وزیراعظم اتنے ضدی کیوں ہو گئے ہیں۔ ایک طرف اپوزیشن چند دنوں بعد اسلام آباد کو بند کرنے کے منصوبے بنا رہی ہے اور دوسری طرف یہ حضرت ہیں کہ ان کو کچھ پروا ہی نہیں۔ وہ اپنے وزیروں مشیروں کو لے کر بیجنگ کی سیر پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ بہانہ یہ بنایا ہے کہ CPEC کے پاکستان سے متعلق وہ منصوبے جو قبل ازیں غیر فیصل شدہ تھے یا چین نے ملتوی شدہ پراجیکٹس کی فہرست میں ڈال رکھے تھے، ان کو بحال کرانے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم کے ایک نو عمر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقیاتی امور و اصلاحات وغیرہ جو شائد چین میں ان کے ساتھ جائیں گے وہ اگلے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ بندہ ان کی عمر اور شکل و صورت دیکھے تو کسی فلم کے ہیرو کا گمان گزرتا ہے۔

ان کو بھلا سیاسیات سے کیا لینا دینا اور پلاننگ، پراگراس اور ریفارمز کی کیا خبر؟ وہ دورانِ کانفرنس کئی بار ماتھے پر گری زلفوں کو جھٹکاتے اور سہلاتے رہے اور بزعمِ خود دلیپ کمار کی نقل اتارتے رہے اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کالولی پاپ عوام کو دیتے رہے۔ اس طرح کے وعدے وعید تو قوم نے پہلے بھی سینکڑوں بار سن رکھے ہیں۔ جھو ٹ پر جھوٹ بولے جا رہے تھے۔ فرما رہے تھے کہ 4300 میگاواٹ بجلی کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ یہ نہیں بتایا کہ یہ پائپ لائن کتنی لمبی ہے اور یہ منصوبے اس پائپ لائن سے کب باہر آئیں گے۔ ویسے بھی ٹیسٹ ٹیوب بچوں (Babies) کے سلسلے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ زندہ تولّد ہوں گے یا فوت شدہ پیدا ہوں گے۔ یہ 4300میگاواٹ ٹیسٹ ٹیوب انرجی جب بطنِ پائپ سے باہر آئے گی تو زندہ بھی رہے گی یا نیم مردہ ہو گی، اس پر کوئی بھی ڈاکٹر حکم نہیں لگا سکتا…… جناب خسرو بختیار کے ان وعدوں پر ہمیں مرزا غالب کا یہ شعر یاد آ رہا ہے:

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے پہ بھی راضی کہ کبھی

گوش منت کشِ گلبانگِ تسلی نہ ہوا

جناب خسرو بختیار نے اسی ایک سانس میں کئی اور کذب بیانیوں کا سہارا بھی لیا۔ مثلاً یہ کہ 2500میگاواٹ بجلی کا ایک اور پراجیکٹ ’راہ میں‘ ہے اور ’موعودہ مدت‘ میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ موعودہ مدت (Stipulated period) کب پوری ہو گی اس کی کوئی نوید نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں بتا رہے تھے کہ گوادر پورٹ (اورشہر) کے لئے بھی 300میگاواٹ بجلی کا منصوبہ فیصل ہو چکا ہے۔ شہر گوادر میں 19عدد چینی کمپنیوں کی خوش خبری بھی سنائی گئی کہ وہ یہاں سرمایہ کاری کے لئے ’تیار‘ بیٹھی ہیں۔ بندہ پوچھے کہ ان کمپنیوں کو کس نے روکا ہوا تھا کہ اب تک بیٹھی رہیں اور ’کھڑی‘نہ ہوں! ہم بھی ان کا بھاشن سن رہے تھے۔ راشاکئی، ڈھابیجی اور فیصل آباد میں صنعتی یونٹ لگانے کی بات بھی کی گئی۔ یہ سپیشل اکنامک زون (SEZ) ایک طویل عرصے سے التواء میں ہیں۔ اول اول بڑے طمطراق سے ان کی تکمیل کی خبریں میڈیا پر سنی تھیں لیکن پھر ٹائیں ٹائیں فش ہو گئی۔ اب دیکھتے ہیں ’ٹائیں ٹائیں پیرٹ (Parrot)‘ کب ہوتی ہے!

جناب بختیار نے ایم ون منصوبے کا ذکر بھی کیا۔ شیخ رشید تو اس کے قیصدے پڑھ پڑھ کر اب اتنے تھک چکے ہیں کہ اس کا نام لینے سے بھی گریزاں رہتے ہیں۔ سات آٹھ ارب ڈالر کا یہ منصوبہ پشاور سے کراچی تک ریل کی نئی پٹڑی بچھائے گا…… اور روڈ ٹرانسپورٹ کا بیڑا غرق کر دے گا! ہزاروں لاکھوں بسیں جو روزانہ پشاور سے براستہ پنجاب یا سندھ،کراچی پہنچتی ہیں، وہ اگر بیکار ہو گئیں تو ان کے مالکان کا کیا بنے گا؟ وہ بھلا ایم ون جیسے فضول ریلوے منصوبے کو پنپنے دیں گے؟ اور ہاں یاد آیا IMF والوں کی شرائط بھی ہمارے وزیراعظم کو یاد ہوں گی۔ بیجنگ اس آٹھ ارب ڈالر قرضے کی قسط کی واپسی کا شیڈول بھی تو طلب کرے گا جو IMF کی شرائط سے متصادم ہو گا اور حکومت کی ساکھ کو مزید ضعیف بنا دے گا۔ ویسے یہ ساکھ پہلے بھی کونسی طاقتور ہے۔ ہمارے اقتصادی وزیرو مشیر ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ آنے والے تین برسوں کے بعد قومی ترقی کی شرح نمو 5% ہو جائے گی۔ ان مشیروں وزیروں کو شرم نہیں آتی کہ سوچیں کہ 2022ء تک انتظار کرتے کرتے بیچارے عوام کی کیا حالت ہو جائے گی۔

جب سے یہ ’انصاف حکومت‘ برسراقتدار آئی ہے، اس کے ’عدل‘ کا عالم یہ ہے کہ آٹا، تیل، دال، چاول، سبزیاں، ٹرانسپورٹ، چینی وغیرہ آتش بکف ہو چکی ہیں۔ ان کو غریب تو کجا سفید پوش گاہک بھی ہاتھ لگانے سے ڈرتا ہے کہ کہیں ہاتھ کے علاوہ پوری کلائی ہی نہ جُھلس جائے۔ حکومت کا سب سے بڑا دوست اگر چین ہے تو کیا اس نے اپنے 70کروڑ عوام کو غربت کی لکیر سے ’باہر‘ نکال کر پاکستان کے 12کروڑ غربا کو غربت کی لکیر کے ’اندر‘ دھکیل دیا ہے؟…… اب ہمارے وزیراعظم اسی چینی عطار کے لونڈے سے کون سی دوا لینے گئے ہیں؟ پاکستانی میر تقی میر تو بیمار ہی اسی عطار کے ہاتھوں ہوئے، یقین نہ آئے تو FAFT,IMF اور دوسرے امریکی اور یورپی ’اطبّا‘ سے پوچھ کے دیکھ لیں۔

گزشتہ اتوار ملک کے معروف انگریزی معاصر ڈان کے صفحہ اول پر حضرت مولانا فضل الرحمن کے بارے میں ایک چھ کالمی خبر ان کی ’رنگین اور دیدہ زیب‘ تصویر کے ہمراہ چھاپی گئی جس میں حضرت مولانا نے فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیئے اور حکومتی اداروں کو ’بروقت‘ خبردار کیا کہ زنہار 27 اکتوبر کو میرے آزادی مارچ کی راہ میں حائل ہونے کی کوشش نہ کرنا…… کون نہیں جانتا کہ ان ’قومی اداروں‘ کا آسان ترجمہ ’فوج، رینجرز اور پولیس‘ ہے۔مولانا نے ان کے علاوہ بیورو کریسی کو بھی ساتھ ہی لپیٹ لیا اور فرمایا: ”ہم اپنی اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور پولیس کی عزت ’بھی‘ کرتے ہیں“……وہ پشاور میں اپنے پارٹی سیکرٹریٹ سے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے یہ ’چتاؤنی‘ دے رہے تھے۔ انہوں نے راست گوئی کی ایک اور نئی مثال قائم کرتے ہوئے فرمایا: ’ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے لیکن اگر اداروں نے تصادم کا راستہ اپنایا تو یہ ان کی زبردست بھول ہو گی!‘…… سبحان اللہ! کیا صریح اور صاف و شفاف وارننگ ہے جسے JUI-F کے ’بدخواہ‘ شائد دھمکی سمجھ رہے ہوں گے۔ بھائی لوگو!یہ دھمکی نہیں، حضرتِ مولانا کا عزمِ صمیم ہے۔

ان کو شائد یاد ہو گا کہ جب نون لیگ کے ایک سابق وزیراعظم کو عدالت نے ’خواہ مخواہ‘ ایوانِ اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا تو انہوں نے اسلام آباد سے لاہور آتے آتے اپنے نصف درجن مواعظ میں انہی اداروں کی وہ گت بنائی تھی کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ لیکن یہ بات اور ہے کہ اس کے بعد خود نوازشریف صاحب کے ساتھ کیا ہوا۔……اس کو ان کی قسمت یا کمزوری بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن حضرت مولانا اس قسم کی کمزوریوں اور قسمتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ تحریک انصاف کے ’ظالمانہ ہتھکنڈوں‘ کی وجہ سے گزشتہ الیکشنوں میں ان کو قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست نہیں مل سکی۔ نون لیگ اور پی پی پی وغیرہ نے تو درجنوں نشستوں پر قبضہ کر لیا اور اسمبلی میں جا پہنچیں لیکن صد افسوس کہ حضرتِ مولانا، اسمبلی سے باہر رہ گئے۔ کیا یہ انہونی نہیں تھی؟اسی روحانی جرم کی سزا آج عمران خان اور ان کی پارٹی کو مل رہی ہے۔ وہ لوگ مانیں یا نہ مانیں صرف ایک سال کی حکومت کے دوران ان کو معلوم ہو گیا ہے کہ آٹے دال کا بھاؤ کیا ہوتا ہے۔

اسی لئے حضرتِ مولانا نے پی ٹی آئی حکومت کو اپنی بساط لپیٹ کر سیدھے سبھاؤ گھر کی راہ لینے کا نیک مشورہ دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک ملین (10لاکھ) کا ٹڈی دل لشکرِ آزادی جب اسلام آباد کا رخ کرے گا تو ’عمران خان اینڈ کو‘ کوکہیں جائے امان نہ مل سکے گی۔ حضرتِ مولانا کی نظر میں ملک کے موجودہ مخمصے کا واحد حل یہی ہے کہ نئے سرے سے انتخابات کروائے جائیں، ’جعلی پی ٹی آئی حکومت‘ کو برطرف کیا جائے اور حضرت کی اپنی پارٹی کو برسرِاقتدار لایا جائے۔ ان کے دوسرے رفقائے کار بھی یہی وعظ فرما رہے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی لیلائے حکومت، جمیت کی اس وارننگ کی راہ میں نظریں بچھائے مولاناؤں کی منتظر ہے۔ ہو نہ ہو گزشتہ برس 18اگست کو اسی لیلیء جمہوریت اور عوام کی آنکھوں میں شائد چاسکو بھر گیا تھا جس کی وجہ سے ’عمران اینڈ کو‘ کو موقع مل گیا کہ اصل اور مستحق قیادت کی جگہ جعلی اور غیر مستحق قیادت، مسندِ اقتدار پر فائز ہو جائے۔ تاہم اب عوام نے دیکھ ہی لیا ہے کہ صرف 13،14مہینوں میں اس غبارے سے کیسی ہوا نکل گئی اور اس قیادت کی ’چاسکُو بھری‘ آنکھیں کس طرح کھل گئیں!

حضرتِ مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ : ”اس سے پہلے کہ میری پارٹی کے نوجوان دو دوسرے سبز و سفید پوش حضرات کا جم غفیر موجودہ حکومت کو بیک بینی و دوگوش ایوانِ اقتدار سے باہر نکال دے، حکومتِ وقت کے لئے سنہری اور نادر موقع ہے کہ خود مستعفی ہو کر گھر کی راہ لے۔ اور جہاں تک حکومت کی طرف سے مولانا کے پارٹی ورکروں کی پکڑ دھکڑ کا سوال ہے تو پارٹی اس طرح کے ہتھکنڈوں اور حربوں کی کوئی پروا نہیں کرتی۔ہم لوگ سارے پاکستان کو میدانِ جنگ بنا دیں گے۔ سر پر کلاہِ سفید سجائے اور تن پر لباسِ سفید اوڑھے جب یہ سفید سراپا والے 10لاکھ فرزندانِ توحید دارالحکومت پر چڑھائی کر دیں گے تو پی ٹی آئی کو اگر کہیں اماں ملی بھی تو ہمارے ’عفوِ بندہ نواز‘ میں ملے گی۔“

حضرت صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ پی پی پی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری کی فُل سپورٹ ان کو حاصل ہے۔

اگلے روز ان کے فرزندِ ارجمند اور ملک کے ’جہاندیدہ اور تجربہ کار سیاسی رہنما‘ جناب بلاول بھٹو زرداری ان کے ہاں ’تشریف‘ لائے اور ان کے نہ صرف گلے ملے بلکہ ’گُھٹ کے جپھی‘ بھی ڈالی جو اس بات کا ثبوت تھی کہ پی پی پی دل و جان کے ساتھ جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کو سپورٹ کرتی ہے۔ ان کے جیالے بے شک آزادی مارچ میں شریک نہ ہوں لیکن 27اکتوبر کو دس لاکھ مولانا حضرات کا جلوس جب سکھر سے مارچ کرتا براستہ ملتان، لاہور، گجرات، گوجر خان اور راولپنڈی،دارالحکومت پر مارچ کرے گا تو سب کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ چیف آف آرمی سٹاف،جنرل قمر جاوید باجوہ کو حکومت نے تین سال کی توسیع دے کر اپنے ساتھ ملا تو لیا ہے اور وہ سویلین لباس میں ملک کے تاجر طبقے سے اقتصادی امور پر مذاکرات کرکے عمران خان کی حمائت تو کرتے نظر آتے ہیں لیکن جب چند تاجروں اور چند اراکینِ کابینہ کے علی الرغم آزادی مارچ کا سونامی فوج کے ہیڈکوارٹر کی طرف بڑھا تو لگ پتہ جائے گا!

میں کل ہاتھ میں چھڑی لے کر جب صبح کی سیر کو نکلا تو حضرت مولانا کرم الرحمن راستے میں ملے۔ وہ بھی ٹہلتے ٹہلتے میری طرح ذرا باغ میں آ نکلے تھے۔فرمانے لگے: ”کرنل صاحب! خدا کے ’فضل و کرم‘ سے 27اکتوبر کے فقید المثال آزادی مارچ کا انتظار ضرور کرنا۔ اور اگر ہو سکے تو عمران خان کے نابینا ورکروں کو یہ حقیقتِ حال بھی بتانا کہ وہ شرارت سے باز آ جائیں۔ اب بھی ’ڈہلے بیروں‘ کا کچھ نہیں گیا۔ عمران کے رفقائے مد ہوش کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے۔وہ ایسے لوگوں میں گھر چکے ہیں جو اندھے ہیں اور ان کو مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ:

سبق پھر پڑھ کر شرارت کا، عداوت کا، خصومت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام اندھوں کی حکومت کا

میں یہ سن کر چپ ہو گیا اور چھڑی سمیت واپس گھر چلا آیا…… مرتا کیا نہ کرتا!……

مزید : رائے /کالم


loading...