ریسکیوٹیم کاسانحہ 8 اکتوبرسے اقوام متحدہ کاسفر

ریسکیوٹیم کاسانحہ 8 اکتوبرسے اقوام متحدہ کاسفر

8اکتوبر 2005 پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہ بھولنے والا قومی سانحہ ہے جس میں زلزلے کی وجہ سے 70ہزارسے زائد لوگ منوں مٹی تلے دب گئے۔لاتعدادقیمتی املاک کا نقصان ہوا اور یہ سلسلہ صرف یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ کچھ سالوں بعد سیلاب 2010ء کی تباہ کاریوں کی وجہ سے بے تحاشہ نقصان ہوا۔ اس سانحہ میں کمیونٹی سے لے کر ایوانوں کو یک دم ہلا کر رکھ دیا۔ قدرتی آفات کو وقوع پذیر ہونے سے روکا تو نہیں جا سکتا، لیکن یہ بات قابل تشویش تھی کہ تعمیرات اس طرز پر نہ تھی کہ ان میں رہائش پذیر زلزلے سے نہ بچ سکتے اور نہ ہی ایمرجنسی سروس کے پاس بین الاقوامی معیار کی تربیت یافتہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم موجود تھی۔ پاکستان اس قومی سانحہ پر بغیر کسی بیرونی امداد کے نبردآزما نہیں ہو سکتا تھا اور ایسا ہی ہوا۔ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی باہر سے منگوائی گئیں اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت بھی لوگوں نے متاثرین کی مدد کی جسکی وجہ سے کئی لوگ بچ تو گئے مگرغیر پیشہ ورانہ طریقے سے متاثرین کی منتقلی کسی زحمت سے کم نہ تھی اس وجہ سے اکثر لوگ ساری زندگی کے لیے مفلوج ہوگئے ہم سب بحثیت قوم اس قومی سانحہ کے بعد اکٹھے ہوگئے تاکہ ان نامساعد حالات سے بہتر طریقے سے نبٹاجا سکے۔ یہ وقت تھا کہ جب حکومت پاکستان بیرونی مدد کے ذریعے زلزلہ زدگان کے لئے بہترین تعمیرات کو یقینی بنانے کی کوشش کی ان علاقوں میں آج بھی جا کر دیکھیں تو شایدہی کوئی گھر ایسا ہو جو زلزلے کے بعد بنایا گیا ہو اور پہلے سے بہتر نہ ہو پاکستان آرمی اور تمام متعلقہ اداروں نے تمام جگہوں کا سروے کر کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عمارات،گھر کی تعمیرات کے لئے اقساط میں رقم دی جس کی وجہ سے متاثرین نے پہلے سے زیادہ بہتر تعمیرات کو یقینی بنایا۔یہ بات اہم ہے کہ حادثات سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسی بھی سانحہ کے بعد عوام الناس اکثر متحد ہو جاتی ہیں اس طرح حا دثات نقصان کے ساتھ ساتھ ایسے مواقع کی فراہمی کی وجہ بن جاتے ہیں جن سے ترقی کر طرف سفر شروع ہوجاتا ہے۔ یہ وقت تھا جب لاہور میں پنجاب ایمرجنسی سروس قائم کی گئی تھی مگر ریسکیو سروس ابھی مکمل طور پر سرچ اینڈ ریسکیو کے آلات سے مزین نہ تھے۔

زلزلے میں بے یارومدد گار متاثرین اور لواحقین کی بے بسی نے ایمرجنسی سروس کے قیام کی افادیت کو مزیدتقویت دی اور اکتوبر 2006ء میں پہلی ڈزاسٹرریسپانس ٹیم تشکیل دی گئی جس کی بعد ازاں تربیت کر کے استعداد کار میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔ اسی دوران ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں پاکستان بھر سے ریسکیورز کی تربیت شروع کی گئی تاکہ پنجاب کے تمام اضلاع اور صوبوں میں ایمرجنسی کا منظم اور مربوط نظام قائم کیا جاسکے آج ان تمام کوششوں کے ثمرات کی بدولت پنجاب میں ایمرجنسی سروس نے75لاکھ سے زائد متاثرین کو مختلف حادثات میں ریسکیو کیا۔ملک بھر سے 18000سے زائد ریسکیورز کو تربیت دی جسکی وجہ سے پنجاب میں ریسکیو سروس تحصیلوں کی سطح تک قائم کی گئی اور صوبہ خیبر پختونخواہ، کشمیر،گلگت، سکردو اور اب بلوچستان میں بھی یہ نظام اسی طرز پر قائم کیا جا رہا ہے۔ایمبو لنس سروس کے ساتھ فائر سروس کا قیام جدید خطوط پر تربیت اور ماڈرن فائر وہیکلز کے ذریعے کیا۔گزشتہ 15سال میں 400بلین سے زائد اثاثہ جات کو فائر ایمرجنسی میں بروقت ریسپانس اورپیشہ وارنہ فائر فائٹنگ کی وجہ سے بچایا گیاموٹر بائیک ایمبولینس سروس پنجاب کے 9ڈویژنل ہیڈکواٹرز میں شروع کی گئی جس نے 380978سے زائد ایمرجنسیزمیں اوسط 4منٹ کے رسپانس ٹائم کے ساتھ پیشہ وارانہ مدد فراہم کی۔ ایمرجنسی رسپانس کو مزید مستحکم بنانے کے لئے کمیونٹی سیفٹی پرگرام شروع کیاگیا جس کے تحت پنجاب کے تمام یونین کونسلز میں کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمز کا قیام یقینی بنا یاگیاکمیونٹی ٹیمز کے تمام ارکان و الینٹرز (ریسکیو سکاؤٹس) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ الحمداللہ یہ پروگرام بھی اپنی مثال آپ بنا اور ان ٹیمز کی و جہ سے آج 6لاکھ سے زائدکمیونٹی فرسٹ ایڈزکو ٹریننگ دی گئی جبکہ اس سال کے اختتام تک 1ملین فرسٹ ایڈز کی تربیت کو یقینی بنانے کے ہدف پر کا م بڑی محنت سے جاری و ساری ہے۔ ایمرجنسی ریسکیو سروس نے 18ترمیم کے با وجود اپنے کام کی بدولت نہ صرف اہلیان پنجاب کو سروسز فراہم کی بلکہ صوبوں کی حدود پار کرتے ہوئے پنجاب نے بڑا بھائی بنتے ہوئے دوسرے صوبوں کو یہ نظام قائم کرنے میں ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کے ذریعے ہر طر ح کی مدد فراہم کی۔

آج جس چیز نے مجھے قلم اٹھانے کی طرف راغب کیا وہ ہے 2005ء سے 2019ء تک کا پنجاب ایمرجنسی سروس سے پاکستان ریسکیو ٹیم بننے کا سفر،کارکردگی اوراس ٹیم کا ایسے سانحات سے تعلق جس کی آگاہی عام انسان کو نہیں ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ مکمل سفر اس طرح ہے کہ جہاں کچھ نہیں تھا وہاں مقامی سطح پر اس وقت کی حکومت نے ایک بیج بویا اور اس کے ثمرات نہ صرف ملک بھر تک پہنچے بلکہ عالمی دنیا کے سب سے اہم فورم پر اس کی افادیت کی منظوری تک سفر طے کیا جاچکا ہے اور انشاء اللہ جلد یہ دن رات کی کاوشیں رنگ لائیں گی اور پاکستان کا نام سرچ اینڈ ریسکیو کے میدان میں اقوام متحدہ کی ان ٹیمز میں شامل ہوگا جو بین الاقوامی معیار پر ریسکیو آپریشنز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور جن کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ دوسرے ملکوں میں ایسے سانحات میں مدد کیلئے طلب کیا جا سکتا ہے حالات کا بطور مشاہدہ کریں تو 2005ء میں بحیثت پاکستانی ہم جو مدد مانگتے تھے وہ مدد اب دینے کے اہل ہو جائیں گے۔اس کٹھن سفر کی روداد بہت سالوں پر محیط ہے بہت سے اُتار چڑھاؤ شامل ہیں لیکن ریسکیو سروس کی مینجمنٹ نے مستقل مزاجی کے ساتھ یہ سفر جاری وساری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے آج پاکستان اس میدان میں گلوبل نیٹ ورک کا حصہ بن جائے گا۔ یہ کرکٹ کا کھیل نہیں کہ عوام کو دیکھا کر اسکی افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جائے لیکن یہ وہ انٹرنیشنل مقابلہ ہے جس میں وہی قومیں پہنچتی ہیں جو اپنے حادثات سے سیکھ کر منازل کے سنگ میل کا تعین کرتی ہیں مستقل مزاجی سے کام کرتی رہتی ہیں اور بالا آخراپنے اہداف کو حاصل کر لیتی ہیں۔

اس شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کیلئے مزید تفصیلات یہ ہیں کہ پنجاب ایمرجنسی سروس کی ٹیم سرچ اینڈ ریسکیو کے لئے تیار کی گئی جس کواقوام متحدہ کے متعلقہ فورم انٹر نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایڈوائزری گروپ سے رجسٹرڈ کروایا گیا اور UN-OCHA پاکستان اور اقوام متحدہ کی سپورٹ سے ٹیم کو بین الاقوامی معیار پر تربیت دی گئی۔ سب سے پہلے دو سال رجسٹریشن کے عمل میں لگے اور پھر ایڈورڈ -جی-پرن انٹرنیشنل مینٹورکو ٹیم کی استعد اد کار کو بڑھانے کیلئے اور عالمی سطح پر لانے کیلئے تعینات کیا گیا۔ جنہوں نے بلا معاوضہ اپنی خدمات دیں اور اب ریسکیو ٹیم مسلسل محنت اور کوشش سے فائنل مراحل میں ہیں لیکن وہ اپنی خراب صحت کی وجہ سے سفر کرنے سے قاصر ہیں تو یو- این سیکرٹریٹ نے ایک تجربہ کار منٹورپاکستان بھیجا جنہوں نے 36گھنٹوں کی سانحے کی فرضی مشق میں پاکستانی ریسکیو ٹیم کی صلاحیتیں دیکھ کر ٹیم کو فائنل ایکسرسائز کی تیاری کا Go Aheadدیا۔ یہ Go Aheadتقریباً پانچ سال کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ عام سی بات نہیں عمو ماً ٹیم کا مینٹوریہ Go Ahead اس وقت دیتا ہے جب اُسے یقین ہوتا ہے کہ ٹیم انٹر نیشنل گائیڈلائنز کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا انعقاد کر سکتی ہے۔ آج پاکستانی ریسکیو ٹیم کو فائنل مشق کے لیے اکتوبر کا آخری ہفتہ ملا ہے۔جسکا جائزہ لینے کیلئیے دنیا بھر سے 10 ماہرین پاکستان آرہے ہیں جو پاکستان ریسکیو ٹیم کے ڈزاسٹر ریسپانس کے ہر مرحلے کا بغور جائزہ انٹرنیشنل ریسپانس کی گائیڈ لائنز کے مطابق لیں گے۔ کامیابی کی صورت میں پاکستان ٹیم کو انٹرنیشنل ریسپانس کے لیے سرٹیفائیڈکر دیں گے۔ اس کلاسفیکیشن/سرٹیفکیشن کے بعد پاکستان سارک ممالک میں پہلا ملک ہو گا جسکے پاس یہ اعزاز ہوگا کہ وہ اقوام متحدہ سے رجسٹرڈ اور سرٹیفائیڈ ہوگا۔ جبکہ پاکستان کی ٹیم ایشیاء ریجن کی 9ٹیم اور دنیا کی 54ٹیم ہوگی۔ جبکہ اسی سال چائنا اور انڈونیشیا کی ٹیمیں بھی فائنل تک پہنچ چکی ہیں اور اُمید ہے یہ تینوں ٹیمیں اس سال اقوام متحدہ سے کلاسیفائیڈ ہو جائیں گے۔

فاؤنڈرڈائریکٹر جنرل کمانڈ ریسکیو ٹیم ڈاکٹر رضوان نصیر اور ٹیم لیڈر ڈاکٹر فرحان خالد بڑی محنت اور تندہی سے اس کام کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے مشغول ہیں اور اس کیلئے تمام متعلقہ ادارے جیسے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پاکستان اور کچھ وفاقی ادارے بھی اس کامیابی میں معاون کار ہیں اور ریسکیو ٹیم کو بھر پور سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔ قوم سے گزارش ہے کہ پاکستان ریسکیو ٹیم کیلئے دعا کیجئے ہم آپ کو ٹی وی پر کوئی کھیل دیکھا کر محظوظ تو نہیں کر سکتے لیکن زندگی بچانے کی مہارتوں کے حوالے سے اپنے وطن عزیز کو صف اول میں لا کھڑا ضرور کریں گے۔ پاکستان کا پرچم سر بلند کریں گے اور انسانیت کی خدمت میں ایک نیا باب شامل کریں گے جس کے تحت پاکستان سانحات میں صرف مدد مانگنے والوں میں سے نہیں بلکہ مدد کرنے کی پیشکش کرنے والوں میں شمار ہو گا۔

پاکستان ریسکیو ٹیم ہمیشہ اپنے تمام حکومتی اداروں UN-OCHAپاکستان UN-INSARAGکی مشکور رہے گی جن کی وجہ سے ملک ایک اور صف میں ترقی پزیر ممالک کی طرح شامل ہو گا۔ مجھے یقین ہے وزیر اعظم پاکستان اور پاکستانی عوام اس نمایاں کامیابی پر ہمیشہ فخر محسوس کریں گے جو ان کے دور میں پہلی مرتبہ پاکستان کا اعزاز بنے گی۔ انشاء اللہ

پاکستان ریسکیو ٹیم زندہ باد،پاکستان پائندہ باد

مزید : رائے /کالم


loading...