اپوزیشن کے جلسوں پر حکومت کا مثبت رویہ

اپوزیشن کے جلسوں پر حکومت کا مثبت رویہ

  

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے عام جلسوں پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں، کیونکہ اپوزیشن کے پاس جلسوں میں کہنے کے لئے کچھ نہیں، وزیراعظم یا حکومت کا بغاوت کیس سے کوئی لینا دینا نہیں،ہم غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کے لئے نہیں بیٹھے ہوئے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آپ کو علم ہے کہ ملک بھر میں ایک دن میں کتنی ایف آئی آر درج ہوتی ہیں، کیا ایسی تمام ایف آئی آر وزیراعظم کے حکم یا اُن کی اجازت سے درج ہوتی ہیں؟اُن کا کہنا تھا کہ براہِ کرم اِس ایف آئی آر کو حکومت کے کھاتے میں نہ ڈالیں، ایف آئی آر کوئی بھی درج کرا سکتا ہے،آپ میرے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرا سکتے ہیں، مَیں تو یہ کہوں گا کہ اپوزیشن میں سے ہی کسی نے یہ حرکت کر دی ہو گی۔ تاہم شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن ملک دشمنوں (بشمول بھارت) کی زبان استعمال کر رہی ہے،جو پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں شامل کرانا چاہتا ہے،کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے خود وضاحت کی کہ اُنہیں تو ایف آئی آر درج ہونے کا علم ہی اُس وقت ہوا جب وہ اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کابینہ اجلاس میں جب ایف آئی آر کا معاملہ زیر بحث آیا تو کئی وزراء کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا تاہم بعض وزراء نے ایف آئی آر کے اندراج کی حمایت کی۔یوں فیصلہ کیا گیا کہ پولیس قانون کے مطابق جو کارروائی کرنا چاہتی ہے اُسے کرنے دی جائے۔

کابینہ کا یہ فیصلہ اچھا ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں پر پابندی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں، ویسے بھی اگر محترم وفاقی وزیر کے خیال میں اگر اپوزیشن لیڈروں کے پاس کچھ کہنے کے لئے ہے ہی نہیں تو لوگ ان جلسوں میں کیا لینے جائیں گے؟ جلسوں میں جانے کا بنیادی مقصد تو مقررین کو سننا ہی ہوتا ہے اور اگر لوگوں کو پہلے ہی سے معلوم ہو گا کہ ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں تو وہ کیوں اپنا وقت اور پیسہ ضائع کر کے جلسوں میں جائیں گے اور کئی کئی گھنٹوں تک بیٹھ کر بے کیف تقریریں سنتے رہیں گے،غالباً جلسوں کی کھلی اجازت دے کر حکومت نے اپوزیشن کے عزائم بے نقاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ امکان تو یہی ہے کہ جلسوں میں وہی باتیں دہرائی جائیں گی جو یہ اپوزیشن لیڈر پہلے بھی کرتے رہتے ہیں،وہ وزیراعظم پر حسب ِ سابق زیادہ سے زیادہ یہی الزام لگائیں گے کہ وہ سلیکٹڈ ہیں اِس لئے استعفا دیں، اب نہ تو یہ الزام کوئی نیا ہے،  بلاول بھٹو زرداری سمیت اپوزیشن کے بہت سے لیڈر اکثر و بیشتر اسے دہراتے رہتے ہیں اور نہ استعفا مانگنے میں کوئی منطق ہے،بلکہ اپوزیشن تو خود اسمبلیوں سے مستعفی ہونا چاہتی ہے،ایسی حالت میں وہ کس منہ سے وزیراعظم سے استعفا مانگ سکتی ہے،وزیراعظم خود کہہ چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے استعفے دیئے تو خالی نشستوں پر انتخابات کرا دیا جائے گا اور اپوزیشن کو ایک سیٹ بھی نہیں ملے گی۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی گزشتہ روز یہی بات دہرائی،اِس لئے اگر اپوزیشن اپنا بُرا بھلا سمجھتی ہے تو وہ استعفوں کی حماقت نہیں کرے گی، اور نہ وزیراعظم سے استعفے کے مطالبے پر اصرار کرے گی، کیونکہ ایسی صورت میں اس کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا،ویسے پارلیمینٹ میں بڑی تعداد میں نشستیں ہونے کے باوجود اگر اپوزیشن کے پاس اتنی طاقت بھی نہیں کہ اپنے لیڈروں کے خلاف بغاوت کی ایف آئی آر ہی رکوا سکے تو ایسی نشستوں کا کیا فائدہ؟ بہرحال وہ اپنا بُرا بھلا خود سوچ سکتی ہے، حکومت نے تو اُن کے جلسوں میں رکاوٹ نہ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے،اب اگر وہ جلسوں کو کامیاب بنانا چاہتی ہے تو ضروری  ہے کہ پہلے وہ یہ فیصلہ کر لے کہ ان جلسوں میں کہنا کیا ہے، کیونکہ اگر  ان کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہو گا تو عوام ان جلسوں کو نظر انداز کر دیں گے اور وہ فلاپ ہو جائیں گے۔

اب جبکہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی تو یہ ضروری ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بھی اِس بات کا خیال رکھیں کہ جلسوں کو محض حکومت پر الزام تراشیوں کے لئے ہی استعمال نہیں کیا جائے گا،بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کا کوئی منصوبہ بھی سامنے لایا جائے گا،اس وقت عام لوگوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے،گندم کے نرخ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں،مقررہ نرخوں پر آٹا اور چینی دستیاب نہیں،نرخ قابو میں رکھنے کے لئے گندم اور چینی درآمد کی جا رہی ہے،پکڑ دھکڑ کے باوجود چینی ایک سو سے اوپر بک رہی ہے،لیکن پھربھی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے اور قلت کے خدشات بھی الگ ظاہر کئے جا رہے ہیں،بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں اور ابھی سے سردیوں میں گیس کی قلت کی پیش گوئیاں کی جا رہی ہیں اگر اپوزیشن جماعتیں ان مسائل پر کوئی حکمت عملی طے کریں اور کوئی متبادل منصوبہ عوام کے سامنے رکھیں تو ہو سکتا ہے اپوزیشن کے جلسوں میں دلچسپی کا کوئی سامان پیدا ہو،اپوزیشن اگر ایسی کوئی سٹرٹیجی بناتی ہے تو اس کا دہرا فائدہ ہو گا،ایک تو اس کے جلسوں میں عوام کی دلچسپی پیدا ہو گی اور دوسرے وہ حکومت کو عملاً یہ جواب بھی دے سکیں گے کہ اُن کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں۔

جناب شبلی فراز کا یہ فرمانا اپنے اندر دلچسپی کا خاصا سامان رکھتا ہے کہ جو ایف آئی آر درج ہوئی ہے وہ اپوزیشن ہی کے کسی آدمی نے درج کرا دی ہو گی، کیونکہ اب تک مدعی کے بارے میں جو تصویریں سامنے آئی ہیں ان میں وہ گورنر پنجاب اور شیخ رشید کے ساتھ خاصے بے تکلف انداز میں کھڑے اور بیٹھے ہیں،ایک تیسری تصویر میں وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک اور تصویر میں وہ ڈی جی آئی ایس پی آر(اب سابق) میجر جنرل آصف غفور کے ساتھ اس طرح کھڑے ہیں کہ ان کا سر جنرل صاحب کے کندھے پر جھکا ہوا ہے،اب تک کوئی ایسی تصویر سامنے نہیں آئی جس میں مدعی مقدمہ کسی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ کھڑے ہوں،اگر جناب شبلی فراز اپنے دعوے کے جواب میں کوئی تصویر کہیں سے ڈھونڈ نکالیں تو ان کی بات ماننے کی گنجائش نکل سکتی ہے  ورنہ اب تک سامنے آنے والی تصویروں سے تو یہی لگتا ہے کہ مدعی کی نہ صرف حکمرانوں،بلکہ چیف جسٹس تک بھی رسائی تھی،جن لوگوں کو ایسی تصویریں بنوانے اور مینج کرنے کا شوق ہوتا ہے اُن کے کچھ اہداف بھی ہوتے ہیں اس مقدمے کے مدعی کے بھی ضرور ہوں گے،اِس لئے جناب شبلی فراز کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اگر ان تصویروں کی کوئی وضاحت جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو کم از کم اپوزیشن کو اِس معاملے میں تو نہ رگیدیں، کیونکہ یہ کاؤنٹر پرو ڈکٹو ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -