ماحولیاتی آلودگی، شجر، چیف جسٹس کا تفکر!

ماحولیاتی آلودگی، شجر، چیف جسٹس کا تفکر!

  

چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس گلزار احمد نے ماحولیاتی آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔پشاور رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فاضل چیف جسٹس نے کہا ہم پشاور آئے تو یہاں گرد ہی گرد تھی، یہاں کورونا نہ بھی ہو تو ماسک کی ضرورت ہے،انہوں نے استفسار کیا کہ بلین ٹری کہاں ہیں ہمیں تو ایک بھی نظر نہیں آیا، اگر پشاور کا یہ حال ہے تو دوسرے شہروں کا کیا ہو گا۔فاضل چیف جسٹس نے ماحولیاتی آلودگی اور درختوں کی کمی کے حوالے سے جو بھی ریمارکس دیئے وہ درست اور قابل ِ غور بھی ہیں، ہمارے تمام شہروں میں آلودگی کی شرح خطرناک ہے۔ راولپنڈی، فیصل آباد، لاہور، ملتان اور کراچی کے علاوہ پشاور آلودہ شہروں میں شمار ہوتے ہیں،ان شہروں اور دوسرے اضلاع میں ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے جو بھی اقدامات ہوئے وہ ناکافی ثابت ہوئے۔ حتیٰ کہ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے جو درخت کاٹے گئے وعدہ کے باوجود ان کے متبادل پودے نہیں لگائے گئے۔وزیراعظم عمران خان نے بہت دلچسپی لی اور یہ بلین ٹری اور  ایک ہی سیزن میں لاکھوں کروڑوں پودے لگوانے کا عزم بھی انہی کا ہے۔افسوسناک امر یہ ہے  کہ متعلقہ محکموں نے وزیراعظم کی اس اچھی خواہش کو پورا کرنے کے لئے بھی اپنا روایتی کردار ادا کیا، ہزاروں اور لاکھوں پودے لگانے کی مہمات شروع کی گئیں،مگر برسر زمین نہ تو اتنے پودے لگائے گئے اور نہ ہی ان کی حفاظت کا اقدام کیا گیا۔ البتہ کاغذوں میں تعداد پوری دکھائی گئی،اس کے علاوہ صفائی کی حالت ابتر ہے،دھواں جوں کا توں ہے، حتیٰ کہ کوڑا اور جھاڑیاں جلانے کا عمل بھی جاری ہے۔وزیراعظم کے جذبے کو سلام، یہ صادق اور درست ہے کہ اتنے ہی درختوں کی ضرورت ہے، مگر جب تک متعلقہ محکمے، شعبے اور ضلعی حکام نیت بنا کر یہ مہم شروع نہیں کریں گے، کچھ نہیں ہو گا۔ فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس پر غور اور محکموں کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -