مقدمہ شاہدرہ،کئی پہلو ہیں؟

مقدمہ شاہدرہ،کئی پہلو ہیں؟
مقدمہ شاہدرہ،کئی پہلو ہیں؟

  

وفاقی وزیراطلاعات معتبر اور محترم شخصیت ہیں۔ یوں بھی ان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ احمد فراز کے صاحبزادے ہیں اور ہمارے سمیت بے شمار، بے شمار مرحوم کے مداح ہیں، شبلی فراز سے ہمیشہ بہتر رویے اور اچھی گفتگو کی توقع رکھی جاتی ہے اور سینٹ میں وہ دھیمے انداز میں اچھی تقریر کرتے رہے ہیں، جب سے وہ وفاقی وزیر اور وہ بھی اطلاعات کے انچارج بنے ہیں تو ان کی طرف سے ہونے والی بات چیت اکثر مایوس کر دیتی ہے، جیسے گزشتہ روز انہوں نے شاہدرہ لاہور میں درج ہونے والی بغاوت کی ایف آئی آر کے حوالے سے کہا ہے، ہم نے آج جب اخبارات دیکھے اور گزشتہ شب نشریات میں خبریں سنیں تو وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ایف آئی آر خود کسی نوازشریف کے کارکن نے درج کرائی ہو گی، وزیراعظم عمران خان کے پاس تو ایسے مقدمات کے لئے وقت ہی نہیں، ان کی یہ وضاحت وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری کے بیان کی روشنی میں بھی کچھ عجیب لگی۔ انہوں نے تو یہ کہا کہ وزیراعظم کو علم ہی نہیں تھا، جب میں نے ان کو بتایا تو انہوں نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا، اسی روز پنجاب حکومت کا موقف سامنے آیا کہ پولیس ملزموں کو گرفتار کرے اور اب سختی سے کام لیا جائے گا۔ اب ان سب پر بھاری عمران خان خود سامنے آئے، وہ فرماتے ہیں، اپوزیشن چور ہے، باغی نہیں، یوں یہ قصہ ہی ختم کر دیا، حالانکہ آج ہی منگل کو ہونے والے کابینہ اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے خبر شائع ہوئی کہ اجلاس میں جب اس مقدمہ کا ذکر آیا اور گفتگو ہوئی تو کابینہ کی رائے تقسیم تھی ”عقاب“ مطالبہ کر اور زور دے رہے تھے کہ سب کو گرفتار کیا جائے، لیکن دوسری رائے یہ تھی کہ یہ درست نہیں ہوا، ایسا ہونا ہی نہیں چاہیے تھا، اب قارئین خود ہی ہمیں بتا رہے ہیں کہ یہ تقسیم واؤڈا اور شیریں مزاری جیسے خیالات کے درمیان تھی۔

اب اگر یہ سوچا جائے کہ بات کیا بنی تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس ایف آئی آر میں آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی نامزدگی نے اس مسئلہ کو بین الاقوامی بھی بنا دیا کہ وہ اس آزاد کشمیر کے وزیراعظم ہیں، جسے پاکستان تسلیم کرتا اور اعانت کا دعویدار ہے کہ پورا کشمیر متنازعہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے حل ہونا چاہیے کہ کشمیری اپنی آزاد رائے سے طے کریں کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں، چنانچہ یہ خبر اس لحاظ سے اور بھی اہمیت اختیار کر گئی کہ اگر آزاد کشمیر کا وزیراعظم غدار ہے تو اس کا  مطلب یہ ہوا کہ وہ استصواب میں مخالف سمت کھڑا ہے۔

شاید یہی وہ بات ہے جس کی بناء پر حکمران جماعت کو یہ موقف اختیار کرنا پڑا کہ اس کا کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ عذر بھی اسی طرح ثابت ہوا کہ ایف آئی آر درج کرانے والا مسلم لیگ (ن) کا کارکن ہے کہ جب ذرا سی معلومات حاصل کی گئیں تو معلوم ہوا کہ مستغیث بدر رشید تحریک انصاف کا کارکن ہی نہیں باقاعدہ عہدیدار ہے اور کریمنل ریکارڈ کا حامل ہے۔ یوں اب اس سے لاتعلقی کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

ہمیں تو اس سارے ایشو میں حیرت ہے کہ فریقین کا نشانہ آج بھی ”مخالفین“ ہی ہیں، حزب اختلاف نے وزیراعظم اور وزیراعظم عمران خان نے حزب اختلاف کو مطعون کیا، خان صاحب نے تو پھر سے فرما دیا کہ وہ ”سب چور ہیں، لیکن ہمارا رپورٹنگ ذہن کچھ اور ہی محسوس کر رہا ہے، بات کچھ الجھ سی گئی یا الجھائی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر ایسے سنگین الزامات کے تحت درج ہوئی جو حکومتی اجازت کی متقاضی ہے اور اب قانون دان حضرات نے بھی حوالے دے کر بتا دیا کہ ان دفعات کے تحت مقدمہ یا تو حکومت خود درج کرا سکتی ہے، یا پھر حکومتی تحریری اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کیس میں یہ کچھ بھی نہیں اور یوں یہ ایف آئی آر چیلنج ہو سکتی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہاں بہت حضرات ایسے ہیں جو رٹ دائر کریں گے اور پھر عدالت پہلا فیصلہ یہ کرے گی کہ رٹ دائر کرنے والا متاثرہ فریق ہے یا نہیں، اس حوالے سے کوئی ایک فرد جس نے تقریر سنی متاثرہ فریق ہو سکتا ہے، بہرحال ہمارا خیال اور تجربہ ہے کہ جب عدالت یہ نوٹس لے گی تو بے شک اس رٹ میں وزیراعظم سے وزیراعلیٰ اور انسپکٹر جنرل پولیس تک کو بھی فریق بنایا گیا،

لیکن اصل طلبی ایس ایچ او اور سی سی پی او لاہور کی ہو گی، ان کو اب تک کوئی پوچھ ہی نہیں رہا اور سیاست ہوتی چلی جا رہی ہے، حالانکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ رات گزر جانے کے بعد پونے تین بجے کے قریب ایف آئی آر کا درج ہونا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ عمر شیخ جیسے سی سی پی او کے ہوتے ہوئے کوئی ایس ایچ او ایسی جرات کر سکے کہ وہ تو شوکاز بھی نہیں دیتے، براہ راست گرفتار کرا دیتے ہیں، اس معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو معاملہ پیچیدہ ہے، رٹ ہوئی تو ہی ایسے پہلو سامنے آئیں گے کہ اب وزیراعظم کے کہنے کے بعد اس مقدمہ کی کیا حیثیت رہ گئی، یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہوگا۔

ہم اپنی بات کو یہاں ختم کرتے ہیں کہ دکھاتا ہے، آسماں رنگ کیسے کیسے، اس مقدمہ میں نام کے ساتھ جن معزز حضرات کو نامزد کیا گیا ان کے ساتھ ایسے حضرات کو بھی نامزد کیا گیا جنہوں نے سابق وزیراعظم کی تقریر سنی، اب جو کہتے ہیں کہ اپوزیشن باغی نہیں چور ہے، وہ یہ بھی یاد کرلیں کہ ایسا ہی ایک مقدمہ کراچی کی عدالت میں زیر سماعت ہے، اس میں مقبول صدیقی اور فاروق ستار جیسے حضرات بھی ملزم ہیں اور ان کے خلاف بھی ”بانی“ کی تقریر سننے کا الزام ہے، اس لئے بات تو ایسے ہی بنتی ہے، اب ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) اس حوالے سے بھی ایک پلڑے میں ہو گئیں، تاہم ایک حلیف اور دوسری حریف ہے ہم جو ذاتی طور پر مصالحت اور قومی اتفاق رائے کے پرچارک ہیں، ان امور اور معاملات سے بہت پریشان ہیں، بڑھتی چلی جاتی مہنگائی نے کمر توڑ دی، یہ کسی جگہ رکنے کا بھی نام نہیں لیتی کہ کم ہو، یہ ہماری ہی نہیں، اس ملک کے 23،24کروڑ میں سے قریباً ساڑھے 22کروڑ کی پریشانی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -