کورونا کی آمد ثانی اور ہم 

کورونا کی آمد ثانی اور ہم 
کورونا کی آمد ثانی اور ہم 

  

کورونا ایک بلائے ناگہانی ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی حکمت ِ عملی کے مطابق ایسی بلائیں نازل کرتا رہا ہے جن کا مقصد (جو ابھی تک انسان جان پایا ہے) دنیا سے آفات و بلیات کا خاتمہ او ر کائنات کے عدم توازن کو دور کرنا ہوتا ہے ایسی وبائیں و بلائیں کبھی علاقائی ہوتی ہیں کبھی ملکی،کبھی براعظمی اور کبھی بین البراعظمی و آفاقی،کورونا لاریب ایک آفاقی بلا تھی اور ہے جس نے پوری دنیا کا نظم و نسق اُلٹ پلٹ کر رکھ دیاہے انسان نے سینکڑوں سالوں کی محنت شاقہ کے ساتھ جو تہذیبی،تمدنی،معاشی،معاشرتی اور طبی نظام ترتیب دیئے تھے کورونا نے پلک جھپکنے میں ان کو ملیا میٹ کر دیا ہے انسان نے ایک دوسرے کی ہلاکت و بربادی کے لئے عمیق سوچ و بچار یعنی ریسرچ کے بعد جو جدید ترین حربی و ضربی اور دفاعی نظام ترتیب دئیے تھے ایک نادیدہ وائرس نے انہیں صفر ثابت کر دیا کہ تباہی و ہلاکت کے لئے اتنی زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اگر قدرت ہو تو ایک نادیدہ جرثومہ ہی ہلاکت و تباہی کیلئے کافی ہے۔

کورونا کو ماننے اور جاننے کے حوالے سے اقوام /افراد دو گروہوں میں تقسیم ہیں ایک گروہ اسے عالمی یہودی سازش قرار دے رہا ہے وہ یہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں ہے کہ یہ آفت ناگہانی ہے ان کا ماننا یہ ہے کہ یہ ایک سازش ہے جس کا مقصد دنیا کو ایک عالمی حکومت کے تحت کرنا ہے یہ نظر یہ یعنی عالمی حکومت کا نظریہ ایک عرصے سے دنیا میں جانا اور مانا جاتا ہے۔صہیونی تحریک یہودیوں کے عالمی غلبے کی داعی ہے معاملات اس سمت میں جاتے نظر بھی آتے ہیں پھر مسلمان،یہودی اور عیسائی اپنے اپنے تئیس مسیح موعود،مسیح کی آمد ثانی اور امام مہدی کے ظہور پر بھی یقین رکھتے ہیں احادیث مبارکہ میں دجال کا ذکر بھی ہے جو کفر کا علمبردار ہو گا اور اسے طاقت و حکومت حاصل ہو گی۔عیسائی اسے اینٹی کرائسٹ کہتے ہیں جو وسائل دنیا پر قدرت رکھے گا اور اس طرح اللہ کے نیک بندوں کی آزمائش ہو گی۔یہ سب کچھ ایک عالمی حکمرانی کی باتیں ہیں جواب کھل کر ہونے لگی ہیں ویسے اس نظریے کے مطابق کورونا 19 جس طرح میڈیا کے ذریعے پھیلا کر پوری دنیا کا نظم و سبق معطل کر کے رکھ دیا گیا تھا یہ کسی مرکزی اور منظم قوت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔عالمی سازشی نظر یے کو اس طرح کی دیگر باتوں سے بھی تقویت ملتی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جنہوں نے اسے صرف سازش سمجھا وہاں ہلاکت خیزی زیادہ ہوئی دیکھ لیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کا مذاق اڑاتے تھے ماسک وغیرہ نہیں پہنتے تھے تو وہ اور ان کا عملہ اس بیماری کا شکار ہو گیا اور انہیں اپنی الیکشن مہم روکنا پڑی یہ  الگ بات ہے کہ ٹرمپ نے اسپتال میں اپنے داخلے کے دوران بھی صدارتی فرائض خود ہی سنبھالے رکھے اور اقتدار کو ایک لمحے کے لئے بھی آنکھوں سے اوجھل اور ہاتھوں سے دور نہیں ہونے دیا دوسرا گروہ وہ ہے جو اس وباء کو حقیقتاً ایک آزمائش اور وبا ء سمجھتا ہے جنہوں نے اس کو حقیقت جان کر اور اس کا مقابلہ کرنے کی سعی کی وہ کامیاب و کامران ہوئے اس کے لئے سب سے بڑی مثال چین ہے اس عالمی وباء کی ابتداء چینی شہر ووہان سے ہوئی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے چین کو اپنی گرفت میں لے لیا اور وہاں ہر شے تعطل کا شکار ہو گئی چینی ریاست نے اس کا مقابلہ کرنے کی سعی کی منصوبہ سازی کی اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ قوم اس سے بچ نکلی۔اس میں شک نہیں ہے کہ کورونا نے چینی معیشت اور معاشرت کو شدید نقصان پہنچا یا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چینی بڑے عزم اور حوصلے سے اس کی گرفت سے نکل آئے انہوں نے اسے ایک عفریت سمجھا اس کا سامنا کیا مقابلہ کیا اور بالآخر شکست سے ہمکنار کیا۔

پاکستان میں بھی کورونا کے حوالے سے دو گروہ پائے جاتے ہیں ایک گروہ اسے حقیقت مانتا ہے آفت ناگہانی سمجھتا ہے ہماری حکومت نے بالخصوص مرکزی حکومت نے،ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے اسے آفت ناگہانی سجھتے ہوئے جو حکمت عملی اپنائی وہ اللہ رب العزت کے حکم سے کامیاب و کامران رہی ہماری حکومت نے اس وباء کا مقابلہ کرنے کیلئے حقیقت پسندانہ طریقے سے پالیسی اپنائی اور اس پر عمل کر کے معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک جانے سے بچائے رکھا۔اب معاملات نارمل زندگی کی طرف لوٹائے جا رہے ہیں لیکن نظر آ رہا ہے کہ وباء بالکل ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ اس کی نشاء ۃ ثانیہ ہو رہی ہے پوری دنیا میں اس کی دوسری لہر آنے لگی ہے کئی ممالک پھر لاک ڈاؤن کی طرف جانے لگے ہیں ہمارے وزیر اعظم نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وباء ا بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اس لئے ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنا چاہیے لیکن اسے وباء نہ ماننے والے یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ وباء کا گراف ایک بار پھر اوپر کی طرف اٹھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اگر معاملات ایسے ہی رہے تو وہ دن دور نہیں ہیں جب ایک بار پھر ہم لاک ڈاؤن میں گھرے ہونگے معاشی،معاشرتی سر گرمیاں با لجبر بند ہو جائیں گی۔اس سے پہلے کہ ہم بحیثیت قوم اس عفریت کا شکار ہو جائیں ہمیں اس کے آگے بند باند ھنے کیلئے یکسو ہو جانا چاہئے کیونکہ اس کی ویکسین ابھی تک نہیں آئی اس لئے صرف احتیاطوں کے ذریعے ہی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ کورونا آفت سماوی ہے اور لوٹ کر پھر آ رہی ہے اگر ہم نے اسے سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ ہمیں برباد کر دے گی۔

مزید :

رائے -کالم -