عالمی شکاری 

عالمی شکاری 
عالمی شکاری 

  

گزشتہ چند دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اقوام عالم میں طاقت کا تناسب آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے، نت نئے اتحاد و طاقتیں معرضِ وجود میں آرہی ہیں۔قومیں اور ملک آپس میں بٹ چکے ہیں جس کے اثرات بہت دور رس ہونے کا امکان ہے، اب تو جنگوں کا طریقہ کار بھی بڑی حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں کولڈ وار کے علاوہ ففتھ جنریشن وار بھی ملکوں و قوموں کی تقد یر کا فیصلہ سنا رہی ہیں۔ اقوام عالم کے سامنے چین کے صدر کی حالیہ تقریر نے دنیا کو واضح کر دیا ہے کہ اب امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور نہیں رہا اور نہ ہی طاقت کسی ایک قوم کی میراث ہے۔ 

دوسری طرف دنیا کے طاقتور ممالک تیزی سے تیل کے ذخائر پر جلد از جلد قا بض ہونے کے لئے بے قرار ہیں۔ بڑے ممالک چھوٹے ممالک کو جنگ میں جھونک کر خود ان کی پشت پناہی کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ حالیہ شام کے جنگی حالات اس کڑی کی ایک واضح مثال ہیں جس میں امریکہ و اسرائیل اتحاد شامی باغیوں کی حمایت میں جبکہ ایران، ترکی اور روس شامی حکومت کی مدد میں اگلی صفوں میں رہے۔ 

درحقیقت یہ دولت اور طاقت کا بخار دنیا کو غفلت میں ڈالے ہوئے ہے۔ حالانکہ زندگی اور دنیا دونوں ہی ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں مگر ان حقائق سے بے نیاز ہوکر آگ و خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ ملک کے ملک تباہ ہو رہے ہیں اور ان سرد و گرم جنگوں نے ملکوں میں انار کی اور سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ یہ سب تیسری جنگ عظیم کی طرف پیش قدمی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ جدید دور کی تیسری جنگ عظیم تو بہت پہلے سے شروع ہو چکی ہے جس کی نوعیت وقت کے اْتار چڑھاؤ سے بدلتی رہتی ہے۔ وسائل کی ہوس کا انجام دنیا کی تباہی و بربادی کے سواکچھ نہیں۔عراق، لیبیا، افغانستان، مصر، فلسطین، شام اور اب آذربائیجان وآرمینیا کے درمیان جاری کشیدگی بھی اسی کا شاخسانہ محسوس ہو رہا ہے۔ گذشتہ صدی کے نشیب و فراز ان طاقتور شکاریوں کی منفی سوچ کا مظہر ہیں کہ ہر شے ان کے قبضے میں ہو، ان کو پوچھنے والا مقابلے میں کوئی نہ ہو، دنیا کے خزانے ان کے سامنے الٹ دئیے جائیں اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔ ان عالمی شکاریوں کی نظر باکو پر تب پڑی جب عالمی منڈی میں فروخت ہونے والا آدھے سے زیادہ تیل باکو سے نکالا جا رہا تھا۔ آج بھی باکو دنیا میں تیل کی کل کھپت کا پانچواں حصہ پیدا کرتا ہے۔ تیل کے پیسے نے باکو اور آذربائیجان کو ترقی و خوشحالی کی منازل پر پہنچا دیا۔جو طاقت کے نشے میں بد مست ممالک کو ایک آنکھ نہ بھائی اور آرمینیاکی پشت پناہی سے آذربائیجان کو کمزور کرنے کی عالمی سازش شروع ہو گئی۔ 

سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سنہ 1990ء  میں آزاد ہونے والی چھوٹی سی ریاست آذربائیجان نے تیل سے حاصل ہونے والی دولت سے گذشتہ 20 برس میں جو ترقی کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ایک عالمی جریدے ’کونسل آن فارن ریلیشنز‘کے مطابق آذربائیجان روزانہ آٹھ لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کے بعد یورپ اور وسطی ایشیا کو تیل برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے۔ 1994ء وہ سال ہے جب آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ناگورنو کارا  باخ کے علاقے پر چھ سال تک جاری رہنے والی جنگ کا خاتمہ ہوا تھا، تاہم اس خطے پر تنازع اب بھی جاری ہے۔ ناگورنو کارا  باخ اس لیے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ بحر گیلان کے علاقے میں تیل اور گیس کے ذخائر کا خزانہ موجود ہے، مگر دوسری رائے یہ بھی ہے کہ تیل کی بجائے تیل و گیس کی ترسیل اس کی اصل وجہ ہے۔ آذربائیجان کی تیل کی ترسیل اور مغرب ممالک کو گیس کی سپلائی کا انحصار بھی اسی علاقے پر ہے۔ ناگورنو کارا  باخ جو کہ عالمی قوانین کے مطابق آذربائیجان کا علاقہ ہے اور لگ بھگ سات علاقوں پر مشتمل ہے۔ اب چونکہ آذربائیجان کی تیل اور گیس کی ترسیل ترکی، مغربی ممالک اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر ممالک کو ہونے کی وجہ سے یہ سب ممالک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کسی لمبی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ 

ایک اندازے کے مطابق آذربائیجان صرف ترکی کو ایک لاکھ بیرل تیل یومیہ فروخت کرتا ہے۔ اس سارے کھیل میں روس دونوں ممالک کی جنگ سے بھرپور فائدہ اْٹھا رہا ہے اور دونوں ممالک کو اسلحے کی فروخت سے اپنے خزانے بھر رہا ہے۔ جنگ جتنی طویل ہو گی آذربائیجان کے تیل کی ترسیل روکنے کا فائدہ بھی روس کو پہنچے گا اس کے علاوہ چونکہ آرمینیا میں اس کا فوجی اڈہ بھی موجود ہے اس لیئے آرمینیا کی اندرونی حمایت سے مغرب کے تیل سپلائی کے راستوں پر روسی قبضہ بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ مگر اب روس کا کھیل انجام کو پہنچنے والا ہے کیونکہ پاکستان اور ترکی نے آذربائیجان کی واضح حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہے جس نے آرمینیا کو سرے سے ہی تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ وہی ہے جو اسرائیل کو نہ تسلیم کرنے کی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے ایف 17 تھنڈر 2 کی خرید کے لیئے آذربائیجان کی حکومت نے پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے جو کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی برتری کا واضح ثبوت ہے۔ اب دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور طاقت و تیل کی جنگ کیا رْخ اختیار کرتی ہے۔ پاکستانی حکومت کو اس پر مزید حکمت اور تدبر سے فیصلہ کرنا ہو گا کیونکہ آنے والا وقت مزید چیلنج لے کر آ سکتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -